|
میں نے ایک
اتوار کو پروگرام ترتیب دیا کہ میں حسب عادت
پیدل چلتے ہوئے موٹے موٹے سروں والے بائولے
کتوں کے متاثرین کے پاس جائوں گا اور انکے دکھ
درد میں شریک ہو کر ان کا حوصلہ بڑھائوں گا۔
اور ان کے دانت توڑنے کے لئے بلکہ مکمل خاتمے
اور صفایا کرنے کے لئے کوئی لائحہ عمل تیار
کروں گا' ہفتے کے روز یہ پروگرام ترتیب دے کر
بے فکری کی نیند سو گیا ' ابھی میں ٹریک سوٹ
اور جوگر پہن کر نکلا ہی تھا کہ اطلاع موصول
ہوئی کہ پنجاب ہائوس مری میں ایک شاندار
پروگرام ہو رہا ہے ' میں وہاں پر ہر حال میں
پہنچوں ' کچھ ہی دیر بعد میں پریس کلب آیا
جہاں پر گورننگ باڈی کا اجلاس تھا ' نماز ظہر
کے بعد دوستوں پر مشتمل یہ قافلہ پنجاب ہائوس
پہنچ گیا۔ عرصہ دراز سے مری میں مقیم ہوتے
ہوئے اس سرکاری عیش خانے کا میرا پہلا دورہ
تھا اس کے دونوں دروازے کھلے ہوئے تھے۔ راستے
میں کوئی دربان یا سیکیورٹی کے نام پر تذلیل
آمیز کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ پارکنگ والے حصے
میں راولپنڈی اسلام آباد کے چنیدہ صحافیوں اور
دوستوں سے ملاقات ہوگئی۔ اس سے آگے گئے تو ایک
میلے کا سماں تھا۔ چونکہ پنجاب اور جہاں
جہاںمیلوں ٹھلوں کا رواج ہوتا تھا اور عید کی
طرح میلوں کے دنوں کا دن گن گن کر انتظار کیا
جاتا تھا ۔ پھر تبدیل زمانہ اورمادہ پرستی اور
وقت کی قلت نے ان تمام چیزوں کو قصہ پارینہ
بنا کر رکھ دیا۔ پنجاب ہائوس کے وسیع و عریض
دالان میں ہر طرف گہما گہمی تھی سرکاری بینڈ
اور گارڈ آف آنر کا اہتمام ہو چکا تھا۔ اور وہ
دستہ سلامی دینے کیلئے اور دھنیں بکھیرنے کے
لئے بے تاب تھا۔ دراصل یہ طالبات تھیں جنہوں
نے پنجاب بھر کے آٹھ بورڈز میں سے پوزیشنیں
حاصل کی تھیں۔ ان کیساتھ ان کے والدین ' بہن
بھائی تعلیمی ادارہ کی سربراہان بھی موجود
تھیں۔ اچانک میری نظر راولپنڈی بورڈ کے
چیئرمین ڈاکٹر افتخار بیگ پر پڑی ڈاکٹر صاحب
کو نیا زمندانہ سلام کیا تو ایک ناپسند یدہ
چہرہ بھی نظر آگیا۔ بہر حال یہ تقریب میاں
محمد شہباز شریف نے پوزیشن ہولڈر طلبہ کے لئے
دو دو لاکھ روپے ان کے حوصلہ افزائی کے لئے
انہیں دیا۔ اور تین دن کے لئے انہیں مری کی
سیر کا اہتمام کروایا۔ اور ان کے قیام کے لئے
پنجاب ہائوس کا انتخاب کیا۔ سب لوگوں کے چہرے
خوشی اور فخر سے تمتما رہے تھے کیونکہ یہ
تاریخی اور یادگار لمحات تھے کہ کسی صوبے کے
مقبول ترین حکمران نے قوم کی بچیوں کے لئے اس
قدر عزت افزائی کااہتمام کیا۔ میں اور ڈاکٹر
افتخار بیگ صاحب خادم اعلیٰ کی اس خدمت گزاری
پر انہیں خراج تحسین پیش کر رہے تھے کہ پتہ
چلا کہ طالبات کے لئے ایک ایک ہزار پاکٹ منی (جیب
خرچ) خادم اعلیٰ نے اپنی جیب میں سے دیا ہے ان
میں اکثر طالبات نے وہ رقم خرچ کرنے کی بجائے
ہرے ہرے نوٹوں پر تاریخ اور یاد گارلمحات کو
ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا کہ وہ یہ رقم خرچ
نہیں کریں گے بلکہ اسے پاس رکھیں گی۔ سب لوگ
وزیراعلیٰ کی آمد کے منتظر تھے کہ پتہ چلا کہ
میاں شہباز شریف صاحب نہیں آ رہے اور پیغام
دیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) کے صوبائی جنرل
سیکرٹری راجہ اشفاق سرور ان کی جگہ پر گارڈ آف
آنر کا معائنہ کریں گے' میں یہ منظر دیکھ کر
حیران رہ گیا کہ اس خوشی کے موقع پر بعض
طالبات اور ان کے والدین کی آنکھوں میں خوشی
کے آنسو چھلک پڑے کیونکہ اس سے قبل وزرائے
اعلیٰ ' وزیراعظم اور ایک غاصب جرنیل کو ہی
گارڈ آف آنر پیش کیا جاتا تھا لیکن میاں شہباز
شریف نے یہ گارڈ آف آنر طالبات کو پیش کروایا۔
پنجاب ہائوس میں وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ جہاں
پر وزیراعلیٰ کے بیٹے یا بیٹیوں کو بھی رہنے
کی اجازت نہیں تھی اب وہاں پر خوش نصیب اور
بعض غریب طالبات ٹھہری تھیں۔ طالبان کے لئے یہ
تاریخی اور یاد گار لمحات تھے کیونکہ میاں
شہباز شریف کچھ دیر بعدآئے تو ان کیساتھ ان کی
اہلیہ بھی تھیں جنہوں نے ہر ایک طالبہ کا
حوصلہ بڑھایا۔میں نے پوچھا کہ محترمہ آپ کو
اپنے زمانہ طالب علمی اور اس دور میں کیا فرق
محسوس ہوتا ہے تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے دور
میں اگر پوزیشن آتی تھی تو ''پتا سے '' بانٹ
کر خوشی کا اظہار کیا جاتا تھا مگر وزیراعلیٰ
نے یہ اعزاز طالبات کو دیا ہے کہ مجھے خصوصی
طورپر اس تقریب میںآکر ان کی حوصلہ افزائی
کرنے کیلئے کہا گیا ہے اور اپنی نوعیت کا پہلا
واقعہ ہے کہ قوم کے حقیقی مستقبل (بچوں اور
بچیوں ) کی اس سطح پر تحسین جاری ہے۔ میرے لئے
یہ منظر ناقابل بیان تھا کہ طالبات اور ان کے
والدین کے تاثرات کیا رہے ہیں جب پاکستان کے
تمام الیکٹرانک چینلز نے اس تقریب کو براہ
راست دکھایا۔ وہیں پر حمزہ شہباز شریف سے جی
بھر کر باتیں ہوئیں۔ انہوں نے مری کے حوالے سے
میری تحریروں کے کالموں اورخبروں پرحوصلہ
افزائی کی اور ''بائولے کتوں '' کا شکار کی
داستان سن کر پہلے تو حیران ہوئے کہ اس قدر آپ
کو تن تنہا جنگ لڑناپڑی۔ میں نے بتایا کہ ایک
گیدڑ نما لیڈر نے ہمیں اغوا کی کارروائی پر
رپورٹنگ کے نام پر پھنسا کر خود غائب ہو
گیاتھا' بہر حال انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا کہ
جمہوریت ' عدلیہ اور مری کی فطری خوبصورتی کے
لئے میرا جہا د اور ''ظالموں'' سے جنگ جاری
رہے گی بہتر یہ کہ میں جب بھی لاہور آئوں
انہیں مل کر اور مری کے حوالے سے کسی اہم
منصوبے کی تیاری میں مدد اور تعاون مانگا ' جس
پر مجھ سے انکار نہ ہو سکا۔
ابھی اس تقریب کا سحر طاری تھا کہ ایک ہفتے
بعد صوبائی وزارت اطلاعات سے اطلاع ملی کہ ''صدر
ہائوس'' مری میں آنا ہے کیونکہ ایک رات قبل
اسے صدر ہائوس کے بجائے گورنمنٹ آف پنجاب
ہائوس کا اعلان کیا گیاتھا۔ یہ منظر بھی دید
کے قابل تھا کیونکہ غاصب جرنیل نے اقدار پر شب
خون مارنے کے بعد گورنر ہائوس مری کو صدر
ہائوس ڈیکلیئر کر دیا تھا اور جب بھی اس دور
کے صدر مری آتا ' مری پر آفت اور قیامت ٹوٹ
پڑتی سیکورٹی کے نام پر درختوں کے پتوں سے
زیادہ اہلکار ٹنگے ہوتے تھے۔ اب وہاں کا قبضہ
واگزار ہونے کے بعد پنجاب بھر کے بوائز کو
مدعو کیا گیا تھا۔ جنہوں نے پنجاب میں پوزیشن
حاصل کی تھیں۔ وہ طلبہ بھی وسیع و عریض عشرت
کدہ دیکھ کرحیران رہ گئے ' میں نے اس عیش کدے
کی درو دیوار پر لکھی ہوئی ظلم کی داستانیں
پڑھنے کی کوشش کی اور پھر جہاں پرچڑیا پر نہیں
مار سکتی تھی وہاں پرصحافی اور پوزیشن ہولڈر
طلبہ ( بوائز) کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
میں اور ڈاکٹر افتخار بیگ ہی نہیں ہر ایک اس
منظر کو دیکھ کر دل و نگاہ سے دعا کر رہے تھے
اللہ کرے اس وزیراعلیٰ کو اطمینان سے خدمت
کرنے کا موقع دیا جائے تو یہ پنجاب کے واقعی
حالت بدل کر رکھ دیں گے ہم اس نئے شہباز شریف
کا یہ نیا روپ دیکھ کر ان کے انتظامی اور
سیاسی صلاحیتوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے
واپس آگئے '
''ویلڈن میاں شہباز شریف ویلڈن'' |