|
پاکستان کے دشمنوںکے عزائم سے ہر پاکستانی بخوبی آگاہ ہےلیکن اِس آگاہی
کے باوجود ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستانی افواج کو مغربی محاذ
پر پھےلا کر مشرقی بارڈرز پر پےٹھ ننگی کردی گئی ہے اور جذبہ جہاد سے
سرشار فوج کو اپنے ہی عوام سے لڑانے کے لئے لمحہ بہ لمحہ منصوبہ بندےاں
جاری ہیں۔کےا ےہ پاکستانی فوج کو مےدانِ جنگ میں کٹوانے کے لئے ایک
سوچی سمجھی سازش نہیں ہورہی؟پاک فوج کے حقانی نےٹ ورک،لشکرِ طےبہ اور
دےگر جہادی تنظےموں سے روابط کا شوشہ بھی اِسی سازش کا حصہ ہیں۔ہماری
کالم نگارہ بہن فوج کے خلاف اِس سازش کا ذمہ دار سےاسی رہنماﺅں کے ایک
ٹولے کو ٹھہراتی ہیں۔اِس بات کا اندازہ ےوں بھی لگاےا جا سکتا ہے کہ
سےاستدان اپنا فرض اور کردار ادا کرنے کی بجائے سارا بوجھ فوج پر ڈال
رہے ہیں۔ہمارے سےاستدان شائد ےہی سمجھتے آئے ہیں کہ حکومت کی باگ ڈور
سنبھالی ،ملکی خزانہ کو اربوں کا ٹےکہ لگاےا اور حالات کی خرابی دےکھ
کر بےرونِ ملک چل دئےے۔بےرونِ ملک محل نما گھروں میں بےٹھ کر مےڈےا میں
فوج کے خلاف بےان بازی شروع کر دی اور بس۔پاکستان کے دفاع کے علاوہ
کےری لوگر بل کی صورت میں امرےکی دباﺅ کا مقابلہ اور پاکستان کے
نظرےاتی تشخص کا تحفظ حکومتی اےوانوں میں بےٹھے سےاستدانوں کو کرنا
چاہئےلیکن افسوس کہ ےہ ذمہ داری بھی فوج کے کندھوں پر ہے۔نظرےاتی تشخص
کا تحفظ کے لئے جب پاکستانی فوج مارشل لاءکی جانب قدم بڑھائے گی تو ےہی
سےاستدان اوباما کے ناشتہ کے ٹےبل پر بےٹھ کر چےخ و پکار کرےں گے کہ
پاکستان میں ڈکٹےٹر آ گئے ہیں اُن سے ہماری جان چھڑوائی جائے حالانکہ
فوج کبھی بھی خوشی سے اِس اقدام کی طرف نہیں جاتی۔دوسری جانب چےف آف
آرمی سٹاف جنرل اشفاق پروےز کےانی نے کہا ہے کہ
” پاکستان مادرِ وطن اور اسلام کا قلعہ ہے ،فوج ہر قےمت پر اسکے تحفظ
کے لئے پُر عزم ہے ،ہم اسلام اور پاکستان کے لئے جئےں گے اور مرےں گے ،دہشت
گرد فوج اور قوم کا عزم کمزور نہیں کر سکتے“۔
جنرل صاحب کے اس بےان کے بعد پاکستان کے رےاستی اداروں اور عوام میں
خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ اُسکی سب سے بڑی وجہ ےہ ہے کہ چےف آف آرمی
سٹاف نے ےہ بےان عےن اُس وقت دےا ہے جب عدلےہ اور عوام اکٹھے کھڑے ہیں
اور اس خدشے میں ہیں کہ مستقبل میں اعلیٰ عدالتوں کے فےصلوں کے بعد
کہیں سےاستدانوں اور پاکستان کی عدالتوں کا ٹکراﺅ نہ ہوجائے ۔آرمی چےف
کے بےان کے بعد رےاستی اداروں اور عوام کو جو حوصلہ افزائی ملی ہے اُس
سے محسوس ہوتا ہے کہ کل کلاں اگر سےاستدان کسی رےاستی ادارے سے ٹکراﺅ
کرتے ہیں تو فوج
اہم کردار ادا کرے گی بلکہ کرنا بھی چاہئے ۔میں کئی مرتبہ تحرےر کر چکا
ہوں کہ جنرل کےانی ایک محب وطن پاکستانی ہیں اور وہ کبھی بھی برداشت
نہیں کرےں گے کہ پاکستان کی سالمےت خطرے میں آئے۔
دراصل سےاسی ادوار میں آئینی،قانونی رواےات و اقدار نہائےت بُری طرح
پامال ہوتی رہیں،شخصی سےاسی ٹکراﺅ کے نتےجہ میں قومی اداروں کا وقار و
اعتبار شرمناک حد تک مجروح ہوا ،ملکی خزانہ انتہائی بے رحمانہ انداز
میں لوٹا گےا ،سےاسی وفادارےوں کی سرعام خرےدو فروخت کے ذرےعے کبھی ایک
حکومت کا قےام عمل میں آےا اور کبھی دوسری حکومت کو گراےا گےا۔الغرض
ملکی خزانہ کو بڑی بے رحمی سے لوٹتے ہوئے اےسے اےسے ناٹک رچائے گئے کہ
جن کے ذکر سے ہی شرم آتی ہے ۔تب فوج ہی تھی جس نے بار بار اپنے کندھے
پر بوجھ ڈال کر ملک کو سہارا دےالیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ
سےاستدانوں کی طرف سے لگائے جانےوالے اتنے الزامات کے باوجود فوج ہی
ہمارے کام آتی ہے ۔
آج جب ہم گُڈ گورنس کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں اور اگر ےہ بھی چاہتے ہیں
کہ فوج حکومتی معاملات میں مداخلت نہ کرے تو ہمیں حقےقی خود احتسابی پر
ےقےن رکھنا ہوگا۔اگر موجودہ حکمران خود احتسابی کے عمل سے گزرتے ہوئے
ملک کو لوٹنے والے عناصر کے خلاف واجبی کاروائی عمل میں لے آئےں تو اس
سے گڈ گورنس کے تصور کی روبہ عملی ممکن ہو سکتی ہے اور اس طرح حکمرانوں
پر عائد ہونے والے بعض الزامات سے خلاصی مل سکتی ہےلیکن افسوس کہ ہمارے
سےاستدان اےسا نہیں کرےں گے اور شائد عدلےہ کے ساتھ ٹکراﺅ بھی ہو۔ہاں
اگر اےسا ہوتا ہے تو فوج کو ایک بار پھر مداخلت کرنی چاہئے اور ملک کے
رےاستی اداروں کو بچانے کی خاطر ہر اقدام اُٹھانا چاہئے۔ےہ تو منحصر ہے
ہمارے سےاستدانوں پر کہ کےا وہ فوج کو دعوت دےتے ہیں ےا خود احتسابی کا
عمل شروع کرتے ہیں۔
|