|
کسی بھی ملک اور معاشرے میں بنیادی انسانی
سہولتوں کی فراہمی اس ملک اور معاشرے کی
انتظامیہ پر فرض ہوتی ہیں اور ان بنیادی
انسانی سہولتوں کی فراہمی کو ایک اچھی
انتظامیہ اپنا فرض ہی سمجھتی ہے ۔ اگر کوئی
معاشرہ بنیادی انسانی سہولتوں سے بہرہ ور ہو
رہا ہو تو اچھی انتظامیہ نہ تو ان ضروریات کی
فراہمی کو معاشرے پر اپنا احسان سمجھتی ہے اور
نہ ہی کبھی معاشرے پراپنا احسان جتلاتی ہے
کیونکہ اسے یہ شعور ہوتا ہے کہ معاشرہ جن
بنیادی سہولتوں یاجن بنیادی ضرورتوں سے لطف
اندوز ہو رہا ہے وہ اپنا فرض یعنی کہ ٹیکس ادا
کرنے کے بعد حاصل کر رہا ہے بلکہ ایک اچھی
انتظامیہ اپنے ٹیکس گذار وں کی مشکور بھی ہوتی
ہے کیونکہ اس کو جو تنخواہیں اور دیگر سہولتیں
مل رہی ہوتی ہیں وہ معاشرے کے عام افراد سے
ٹیکس کی مد میں حاصل کردہ آمدن سے مل رہی ہیں
سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر کسی ملک میں بنیادی
انسانی سہولتیں میسر ہیں اور خواص و عوام سبھی
سکھ اور امن سے رہ رہے ہیں اس میں بھی
انتظامیہ کا فائدہ ہی ہے کیونکہ وہ بھی تو اسی
معاشرے کا ایک حصہ ہی ہیں یوں انتظامیہ کے
سارے اہل کار بھی ان تمام سہولتوں اور ضروتوں
سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ جن سہولتوں سے عوام
الناس فائدہ اٹھارہے ہوتے ہیں۔ یہ تو مثال
ہوئی ایک اچھی انتظامیہ کی اور یہ ایک حقیقت
ہے کہ تمام مغربی یورپین ممالک کی انتظامیہ
اچھی ہی ہیں۔
اس دنیا میں بری انتظامیہ اور برے حکمران کچھ
زیادہ ہی ہیں اور پاکستان میں تو برے حکمرانوں
اور بری انتظامیہ کی کوئی کمی نہیں ہے جو کہ
اول تو ملک اور معاشرے کے عام افراد کو بنیادی
انسانی ضروتوں اور سہولتوں کی فراہمی کرتے ہی
نہیں ہیں اور اگر کبھی کسی مجبوری کے تحت عوام
کو کوئی ایک آدھی ضرورت فراہم کرنی بھی پڑے تو
ان پر یوں احسان دھرتے ہیں جیسے کہ عوام کو وہ
سہولت اپنی ذاتی جیب سے فراہم کر رہے ہیں ۔اکثر
دیکھا یہی گیا ہے کہ دور دراز کے گاو ¿ں اور
دیہات تو پختہ سڑکوں سے بھی محروم ہیں ۔وہاں
پر نہ تو بجلی موجودہے اور نہ ہی پینے کو صاف
پانی میسر ہے بلکہ ہمارے وطن میں تو حالت اتنی
بگڑی چکی ہے کہ قصبوں اور شہروں کے رہنے والے
بھی الیکشن کے دور کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ
الیکشن آئیں اور ان کے علاقوں میں پانی کی نئی
لائن بھی بچھے۔ بجلی کے نئے پول بھی لگیں اور
پرانا ٹرانسفارمر بھی ٹرانسفر ہو۔ان کے محلے
میں نئی روڈ بھی بنے اور بچوں کے سکول کی
پرانی اور خستہ عمارت کی مرمت اور توسیع بھی
ہو۔ الیکشن کے دنوں میں تو یہ سبھی کچھ ہوہی
جاتا ہے اور پھر اس کے لئے فنڈ بھی مہیا ہو
جاتے ہیں ۔ ایک الیکشن کے بعد عوام الناس اگلے
الیکشن تک صبر آزما انتظار میں مبتلاءکر دیئے
جاتے ہیں ۔ یہ سب اس لئے ہے کہ ہماری انتظامیہ
کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک کے چھوٹے اور بڑے تمام
کے تمام لیڈر بھی کرپٹ ہیں ۔درحقیقت پاکستانی
لیڈر تو اتنے کرپٹ ہیں کہ ہر الیکشن میں پیسہ
پانی کی طرح سے بہاتے ہیں کیونکہ ان کویہ علم
ہوتا ہے کہ جس قدر رقم وہ الیکشن پر لگا رہے
ہیں اگر الیکشن کے بعد ایک سال بھی برسراقتدار
رہے تو ان کے دام چوگنے تو ضرور ہوجائیں گے
یوں الیکشن اور سیاست بھی ایک سرمایہ کاری اور
انڈسٹری کی حیثیت اختیار کر چکے ہےں ۔اس وقت
صوبائی یا قومی اسمبلی کا الیکشن صرف وہی
سرمایہ دار لڑ سکتے ہیں جو بلین ٹریلین ڈالرز
کے مالک ہیں اور سینٹ کا الیکشن تو اب منی گیم
ہی بن کر رہ گیا ہے اب تو یہ بات ہر کوئی
جانتا ہے کہ سینٹ کے الیکشن کے موقعے پر اربوں
روپئے ادھر ادھر ہوتے ہیں ۔
کیا پاکستانی عوام نے کبھی یہ سوچا ہے کہ
سیاست دانوں ۔اعلیٰ سول و فوجی افسران کے پاس
بڑے بڑے رہائشی پلاٹ کدھر سے آتے ہیں اور ہر
سیاست دان ریٹائرڈ سول و فوجی افسر اپنی
ریٹائرمنٹ کے دنوں بعد ہی بڑی بڑی فیکٹریوں کے
مالکان کیسے بن جاتے ہیں ؟؟؟
کیا کبھی عوام الناس نے سوچا ہے کہ جیسے جیسے
مہنگائی بڑہتی جارہی ہے ان کی قوت خرِید تو
روز بہ روز کم ہوتی چلی جا رہی ہے جب کہ چند
مخصوص طبقات دن بدن امیر سے امیر تر ہوتے چلے
جا رہے ہیں ؟؟ جن کے پاس کبھی سائیکل بھی
خرِیدنے کی توفیق نہ تھی اب ان کے پاس پراڈو
اور لیکسس جیسی مہنگی گاڑیاں ہیں؟؟ جو کبھی
پانچ مرلے کا مکان بھی نہیں بنا سکتے تھے وہ
اب آٹھ آٹھ کنال کی وسیع وعریض رہائش گاہوں کے
مالک ہیں؟؟
کیا کبھی عوام نے سوچا ہے کہ ہر سال بجٹ کے
موقع پر نئے ٹیکس بھی لگائے جاتے ہیں اور پھر
اگلے بجٹ کا انتظار کرنے کی بجائے ہر مہینے
کسی نہ کسی ضروریاتِ زندگی کی قیمت بلاوجہِ
بڑھا دی جاتی ہے ؟؟؟
کیا کبھی عوام نے سوچا ہے کہ جب بھی نئی حکومت
برسراقتدار آتی ہے تو وہ یہی اعلان کرتی ہے کہ
جانے والی پچھلی حکومت خزانہ خالی کر گئی ہے ۔
مگر اس کے اللے تللے پچھلی حکومت سے کم ہونے
کی بجائے پہلے سے بھی بڑھ جاتے ہیں ؟؟؟
کیا عوام نے کبھی سوچا ہے کہ ہزاروں لاکھوں
عام آدمیوں کی حفاظت کے لئے چند سپاہی بھی
فراہم نہیں کئے جا سکتے اور عذر یہی پیش کیا
جاتا ہے کہ فنڈ زموجود نہیںہیں مگر وہی عذر
پیش کرنے والے وزرا اور مشیر درجنوں اور
سینکڑوں کی تعداد میں جدید ترین اسلحہ سے لیس
سیکورٹی پرسانلز کے گھیرے میں چوبیس گھنٹے
پناہ لئے رہتے ہیں ؟؟؟
میرے پاس ایسے ہی بہت سارے سوالات ہیں مگر ان
سبھی سوالات کا جواب ایک ہی ہے کہ ہم پاکستانی
عوام الناس احمقانہ قوت برداشت کے مالک بن چکے
ہیں ۔دراصل پاکستانی عوام الناس ایک ایسے گدھے
کی مانند بن چکے ہیں جس پر اس کا مالک جتنا
مرضی وزن لاد دے وہ خاموش ہی رہے گا یا زیادہ
سے زیادہ یہی کرے گا کہ اپنے دل میں اپنی
تقدیر کو کوستا رہے گا کسی دور میں مغربی یورپ
کے عوام بھی ایسے ہی گدھے تھے مگر پھر ان میں
کچھ اانقلابی اٹھے تھے اورانہوں نے اپنی قوم
کو یہ بتا یا تھا کہ تم گدھے نہیں ہو بلکہ
انسان ہو ۔جس دن بھی میرے اہل وطن کو میری یہ
بات سمجھ آگئی کہ ہم انسان ہیں۔ تب اس دن ایک
ایسا انقلاب آئے گا کہ ہماری زندگیاں بدل
جائیں گی اور ہم انسانوں کی طرح زندگی بسر
کرنے لگیں گے انشااللہ!
|