|
پاکستان کے لکھاری متفق ہیں الطاف حسین اور
ایم کیو ایم کے بارے میں سچ لکھنا ایک مشکل
کام ہے ۔ کیوں مشکل ہے؟ 17کروڑ عوام اس کی وجہ
اچھی طرح جانتے ہیں،عوام کہتے ہیں،ایم کیو ایم
کے قیام سے لے کر آج تک جس نے بھی الطاف حسین
کی پالیسیوں سے اختلاف کیا، ا ُس کے بارے میں
سچ بولا یا سچ لکھااسے اِس فارمولے کے تحت ”
جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے“ کے
عین مطابق انجام سے دو چار ہونا پڑا کیونکہ
الطاف حسین اور اُن کے حواریوں کے نزدیک روشن
خیالی،جمہوریت اور انصاف یہی ہے ۔ پاکستان،
خاص کرکراچی کے لوگ اِس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ
کوئی مسلمان الطاف حسین کی مخالفت کر کے آرام
سے کراچی میں رہ لے یہ ممکن نہیں۔ سفید پوش‘
شریف اور محب وطن مہاجر‘ پنجابی ‘سندھی‘ بلوچ
اور پختون الطاف حسین اینڈ کمپنی کی دہشت گردی
سے خوف زدہ ہیں‘ وہ بھتہ دینے پر مجبور ہیں‘
وہ ہر وقت سہمے رہتے ہیں ایم کیو ایم کا سیکٹر
انچارج یا کارکن ان سے کوئی زیادتی کر لیتا ہے
تو بھی وہ خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں‘
چھوٹے چھوٹے بلونگڑے جیب سے ٹی ٹی نکال کر
کہتے ہیں بھائی صاحب موبائل، پیسے ، موٹر
سائیکل ہمارے حوالے کرو اور بھاگ جاو ¿ اگر
کوئی بولنے کی ہمت کرے تو اسے مغلظات سنائی
جاتی ہیں ” ابے چل بھڑوے کہیں کے“ اس کے بعد
بھی کوئی بولنے کی جرا ¿ت کرے توپھر بھرے
بازار میں لاش تڑپتی ہے اور کوئی اٹھانے والا
بھی نہیں ہوتا۔
عوام کا کہنا ہے” الطاف حسین آج تم امن کی بات
کرتے ہو لیکن یہ بتاﺅ کہ ایم کیو ایم بننے سے
قبل جس شہر میں امن ہی امن تھا دنیا جسے امن
کی فاختہ کہتی تھی ، ایم کیو ایم بنتے ہی اُس
شہر میں بدامنی‘ قتل وغارت‘ غنڈہ گردی‘ دہشت
گردی‘ بدمعاشی،بھتہ خوری اور داداگیری کیوں
شروع ہو گئی؟اس غریب پرور شہر میں کوئی ٹارچل
سیل تھا نہ نو گو ایریا ‘ جلاﺅ گھیراﺅ تھا نہ
بھتہ خوری ‘پنجابی‘سندھی‘ بلوچ ،مہاجراور
پختون حقیقی بھائیوں کی طرح مل جل کر ایک خو
شگوار اور پرامن زندگی بسر کر رہے تھے لیکن
کیا ہوا کہ آپ کے منظر عام پر آتے ہی اس گلشن
کو آگ لگ گئی ‘ مہکتا باغ اجڑگیا‘ بھائی بھائی
کے خون کا پیاسا ہوگیا‘بے شمار مہاجر‘ پنجابی
‘پختون،سندھی اور بلوچ قتل ہو گئے ‘ نہ جانے
کتنوں کو گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر بے
سروسامانی کے عالم میں پنجاب،کشمیر اور سرحد
ہجرت پر مجبور ہونا پڑا،کتنے جید علماءکرام
شہید کردیئے گئے‘ تاجروں اور صنعتکاروں کو
اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا الطاف حسین یہ
سب کچھ کیوں ہوا اور کس نے کیا؟ساری دنیا
جانتی ہے !! الطاف حسین پاکستان کا بچہ بچہ
کہتا ہے کراچی میں جوکچھ ہوا اور ہورہا ہے یہ
جناب کی کارستانیوں کا نتیجہ ہے یہ سارافتنا
اور فساد آپ کا ہی پیدا کردہ ہے یہ نہ بجھنے
والی آگ آپ نے ہی بھڑکائی ہے، جب آگ نے شہر کو
اپنی لپیٹ میں لے لیا توعوام کو جلتا چھوڑ کر
تم برطانیہ بھاگ گئے،الطاف حسین! آج فرنگی کے
دیس سے جب تم ” جرتمندانہ“ ٹیلیفونک واعظ کرتے
ہو تو تمھاری کرخت آواز سن کر لوگوں کے زخم
تازہ ہو جاتے ہیں لوگ تمھاری چالبازی،مکاری
اور ڈرامہ بازی دیکھ کر سات حرف بھیجتے ہیں تم
آنسو بہاتے ہو تو لوگ کہتے ہیں اگر کسی نے مگر
مچھ کے آنسو دیکھنے ہوں تو دیکھ لے ۔ الطاف
حسین !یقین کروجب بھی تاریخ لکھی جائے گی تو
کراچی کا امن اور پاکستان کی معیشت تباہ کرنے
والے مجرموں کی فہرست میں تمھارا نام سرِ
فہرست ہو گا۔
الطاف حسین! تم جاگیر داروں کو برائی کی جڑ
قرار دیتے ہیں لیکن تم نے شادی کےلئے اسی
برائی یعنی جاگیر دار خاندان کا انتخاب کیا‘
تم جاگیرداروں پر تیر برساتے ہو ‘ تلوار چلاتے
ہو لیکن کیا کہیں تمھاری منافقت کا تم مرکز
اور صوبے میں کل بھی جاگیر داروں کے اتحادی
تھے اور آج بھی انہیں کی گود میں بیٹھ کر
انجوائے کر رہے ہو !!!الطاف حسین! تم فوج اور
جرنیلوں کے خلاف بڑی پرجوش تقریریں کرتے ہو ‘
وہ کون سا الزام ہے جو تم فوج اور جرنیلوں پر
نہیں لگاتے،تم نے پاکستان توڑنے کا ذمہ دار
بھی فوج اورجرنیلوں کو قرار دیا مگر کیا
کہیںتمھاری حوسِ اقتدار کاکہ تم لوگ آٹھ سال
تک بدنامِ زمانہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے مالشی
اور بٹ مین بنے رہے۔
الطاف حسین! سنو! عوام اب باشعور ہوچکے ہیں،
لچھے دار تقریریں کر کے‘ مگرمچھ کے آنسو بہا
کر ڈرامے بازی کے ذریعے اب عوام کو بے وقوف
نہیں بنایا جاسکتا‘ تم نے دیکھ لیا تمھاری ایم
کیو ایم اورطبلہ نواز پرویز مشرف تمام تر
کوششوں کے باوجود عوام کو چیف جسٹس کی حمایت
سے نہ روک سکے ‘ کراچی میں غنڈوں،دہشت گردوں
اور بھارتی ایجنٹوں نے گولیاں چلائیں وکلا کو
زندہ جلایا ، گمراہ کن پروپگنڈاکیا مگر عوام
کا ذہن نہ بدلا جا سکا ، تمھارے تمام حربے
ناکام ہوگئے!الطاف حسین! آپ جن خفیہ ہاتھوں کا
ذکر کرتے ہیں وہ ہاتھ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے
جرائم سے واقف ہیں ان کے پاس آپ کے سار ے
کرتوتوں کا ریکارڈ ہے اس لئے آپ کو ان کی ہر
بات ماننی پڑتی ہے اور ماننے کا یہ سلسلہ اس
وقت تک جاری رہے گا جب تک آپ اور آپ کا گروہ
موجود ہے۔ آپ یقین کریں کراچی میں بسنے والے
مہاجر، پنجابی‘ سندھی‘ بلوچ اور پختون آپ کی
وجہ سے سخت پریشان ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے
ایم کیو ایم کی موجودگی میں کراچی کا کھویا
امن واپس نہیں آ سکتا‘ جب تک آپ اس دنیا میں
موجود ہیں اس وقت تک کراچی کے شہری بھائی
بھائی نہیں بن سکتے‘ اس وقت تک ٹی ٹی کلچر جو
اب ترقی کرکے کلاشنکوف اور ریپیٹر کلچر بن چکا
ہے کبھی ختم نہیں ہوگا‘ علماءشہید ہوتے رہیں
گے‘ شرفاءاور امراءلٹتے رہیں گے‘ بھتہ وصولی
کا سلسلہ جاری رہے گا ،فیکٹریوں کو آگ لگتی
رہے گی ،شہر گولیوں کی آواز سے گونجتا رہے
گا،بم دھماکے ہوتے رہیں گے اور بھائی بھائی کا
گلا کاٹا رہے گا۔جب تک آپ کا وجود باقی ہے
کراچی میں چھائی تاریک رات ختم نہیں ہوگی۔
ہاں ایک صورت ہے جس سے کراچی کے حالات بدل
سکتے ہیں‘ امن لوٹ سکتا ہے‘ محبتیں پیدا
ہوسکتی ہیں‘ نفرتیں مٹ سکتی ہیں‘ قتل و غارت
گری کا سلسلہ رک سکتا ہے، وہ صورت یہ ہے کہ آپ
سچی توبہ کرلیں ‘ آپ کے قول وفعل کا تضاد ختم
ہو جائے‘ آپ اور آپ کے ساتھی گوشتہ نشینی
اختیار کرلیں مگر افسوس آپ ایسا نہیں کریں گے!
کیونکہ آپ کو پاکستان اور پاکستان کے عوام سے
زیادہ اپنا مفاد عزیز ہے،آپ نے اتنی محنت کرکے
بھائی کو بھائی سے لڑایا،کراچی کا امن و امان
تباہ کیا،پاکستان کو معاشی لہٰذ سے کمزور کیا
،عوام میں نفرت کے بیج بوئے،عوام میں علاقائیت
اور لسانیت کا زہر بھرا تو اب آپ سے کوئی
اچھائی کی امید کیا رکھے؟؟اب یہ سارا گند لیکر
آپ پنجاب آ رہے ہیںکیا اب آپ پنجاب کو بھی
کراچی بنانا چاہتے ہیں؟؟؟ الطاف حسین! خدا کا
واسطہ لاکھوں انسانوں کی قربانیوں سے بننے
والے پاک وطن کو آگ نہ لگاو ¿‘ بھائی کو بھائی
کا دشمن نہ بناو ¿‘ آنے والی نسلوں کےلئے
کانٹے مت بو۔ اے میرے اﷲ گلگت
بلتستان،سرحد،بلوچستان،کشمیر اور پنجاب کو
کراچی بننے سے محفوظ رکھ، یا اﷲ اس گند کو ہم
سے دور رکھ،ہمیں اور ہماری نسلوں کو علاقائیت
اور لسانیت کے زہر سے بچالے۔ (امین)
|