اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين
 

Email:-  mmanwaar@yahoo.com

Telephone:-         

 

 

تاریخ اشاعت03-02-2010

شہید آزادی

کالم:۔ محمد زبیر خان

فلسطینیوں کی آنکھ کا تارا محمد عبدالروف الحمد بھی اپنے قائد شیخ محمد یاسین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا ۔ شہید کا جنازہ جس دھج سے اٹھا وہ اپنی مثال آپ تھا، یکم فروری کو شام کی دھرتی نے وہ نظارے کم ہی دےکھے ہونگے جس میں ہزاروں افراد کے علاوہ عزت ماب خواتین بھی شہید کو خراج تحسین پیش کرنے میں پیش پیش تھےں۔
محمد الحمد اُن جانبازوں میں شامل تھے جنھوں نے شہید شیخ احمد یاسین کے ساتھ ملکر حماس کی بنیاد رکھی تھی اور وہ اسراءیلیوں پر ابابیل کی طرح جھپٹنے والے القاسم ونگ کے کمانڈر تھے۔ شہید محمد الحمد کو شہرت 1989 میں اُس وقت ملی جب اُنھوں نے دو اسراءیلی فوجیوں کو اغوا کیا اور بعد میں جہنم رسےد کر دیا تھا۔ محمد الحمد کو 20 جنوری کو دوبئی میں اُنکی رہائش کے ہوٹل میں شہید کر دیا گیا تھا۔ اس طرےقہ واردات پر دوبئی پولےس ےکسو ہے کہ ےہ کارنامہ صرف اور صرف اسراءیل کی بد نام زمانہ خفےہ اےجنسی موساد ہی کا ہو سکتا ہے۔ دوبئی پولےس کے خیال میں اس قتل کےپیچھے سات افراد کارفرما ہیں اور اُنھوں نے محمد المحمد کو شہید کرنے کے لئے تےز تر زہر استعمال کیا تھا۔ اسراءیلی اور موساد پچھلے چند سالوں سے مزاحمت کی تحریک حماس کے رہنماوں کی ٹارکٹ کلنگ میں مصروف عمل ہے۔ایک آدھ رہنما کے علاوہ مزاحمتی لیڈروں کے قتل مختلف ممالک میں کےے گے ہیں 1988 میں یاسر عرفات کےایک قرےبی ساتھی ابو جہاد کو تےونس میں شہید کر دیا گیا تھا۔ 1995 میں اسلامی جہاد گروپ کے سربراہ فتحی کو مالٹا میں شہید کیا گیا۔ اس کے بعد 2004 میں میزاءل  حملہ میں شیخ احمد یاسین اور چند ہی دنوں بعد کار حملہ میں عبداﷲ عزےز رئےسانی کو شہید کر دیا گیا تھا۔
حماس کے موجود رہنما خالد مشعل کو 1997 میں شام میں زہر دےکر شہید کرنے کی ناکام کوشش کی گی تھی۔ موساد مختلف طرےقوں کے ساتھ ٹارکٹ کلنگ کی ماہر تصور کی جاتی ہے اور وہ گزشتہ بےس سال سے محمد الحمد کا پےچھا کررہی تھی ۔ حےرت انگےز طور پر دوسرے ممالک میں اپنے ٹارکٹ کو قتل کرنے کے طرےقہ کار کا بانی اسراءیلی کا سابق وزیر اعظم اور موجودہ نائب وزیر اعظم اور دفاعی وزیر اےود بارک ہے جس نے اپنی فوجی سروس کے دوران کمانڈوایکشن کرتے ہوئے 1973 میں لبنان میںفلسطین لبرےشن آرگنائزےشن کے تےن ارکان کو شہید کر دیا تھا۔ اےود بارکایک انتہا پسند ےہودی رہنما ہے جس کی تارےخ بے گناہ فلسطینیوںکے قتل سے بھری پڑی ہے اور جوفلسطین کے مجاہدےن کے خون کا پیاسا ہے جس نے اپنی فوجی سروس کے علاوہ سیاسی دور اقتدار میں بے گناہ فلسطینیوںکا قتل عام کرنے کے مختلف طرےقہ اختیار کےے تھے۔
محمد الحمد کے طرےقہ شہادت نے دوبئی اور متحدہ عرب امارات کی انتظامےہ کے ہاتھوں کے طوطے اڑا دےے ہیں۔ دوبئی میں پچھلے کچھ عرصہ سے مختلف اہم شخصیات قتل ہوئی ہیں جن میں سے اکثر کا تعلق جرائم کی دُنیا سے تھا مگر محمد الحمد کا قتل اپنی نوعےت کا مختلف واقعہ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسراءیلی خفےہ ادارے متحدہ عرب امارات کی امےر ترےن ریاست میں بھی اپنی مضبوط جڑےں رکھتے ہیں۔ اُنکی ےہ کاروائی اسلامی دُنیا کی بے بسی کی انتہا ہے۔ ےہاں تک کے ابھی تک اس واقعہ پر اسراءیلی سے باضابطہ طور پر سفارتی احتجاج بھی نہیں کیا گیا ۔ دوبئی پولےس کے چےف دعوی تو کرتے ہیں کہ وہ قاتلوں تک پہنچ جاءیں گے مگر ےہ دعوی حقےقت نظر نہیں آتا ۔ دوبئی اور متحدہ عرب امرارت میں اس وقت امرےکہ اور ےہودےوں کا عمل دخل اور اثر و رسوخ کسی سے پوشےدہ نہیں۔ صحرا کی خوشحالی میںایک بڑا حصہ ےہودی کمپنےوں کا بھی ہے جو اپنے منافع کا بڑا حصہ ےہودےت کے فروغ کے لئے عطےہ کرتی ہیں۔
محمد الحمد تو شہادت ہی کے متلاشی تھے۔ اُنکی زندگی اسراءیلی جارحیت کے خلاف لڑتے لڑتے گزر گی اور بلاآخر اسی ظالم کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرکےایک تارےخ رقم کرگے ہیں۔ ظالم اگر ےہ تصور کرتاہے کہ محمد الحمد کو شہید کرکے وہ فلسطین میں جاری جدوجہد آزادی کو کمزور کر سکے گا تو اےسا کبھی بھی ممکن نہیں ہو گا۔ شہید کا جنازہ تو شام میں پناہ گزیر کےمپ میں ادا کیا گیا ،مگر اس کی تڑپ اُنکی جائے پےدائش عزہ میں بھی محسوس کی گی ہے۔ اُنکی شہادت پرایک دو نہیں بلکہ ہزاروں فرزندان توحےد نے اُنکی تصاوےر کو اٹھا کر شہید کے نقش قدم پر چلنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اور اس موقع پر اُن ہزاروں مرد و خواتین میں شہید کی بوڑھی ماں بھی موجود تھی۔ جس نے اپنے بےٹے کا یادگاری پوٹرئےٹ اٹھایا ہوا تھا۔ اس تصوےر کو غور سے دےکھےں تو پتا چلتا ہے کہ شہید کی ماں کا حوصلہ اور عزم ٹوٹا نہیں بلکہ مزےد بڑھا ہے اور بوڑھے چہرے پر موجود عزم ےہ ظاہر کر رہا ہے کہ فلسطنےں کی مائےں آزادی کی شمع پر اپنے بےٹوں کو قربان کرکے فخر محسوس کرتی ہیں۔ جس قوم میں محمد الحمد جیسے بےٹے اور اُس کی ماں جےسی مائےں موجود ہوں اُس قوم کو کون شکست دے سکتا ہے۔ آج نہیں تو کل ناپاک ریاست کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا اور کبھی نہ کبھی تو محمد الحمد جیسے ہزاروں فلسطینیوں کا لہو سوئی ہوئی اسلامی دُنیا کو جگانے کا سبب بن کر رہے گا۔

مینارہ نور مزاح آپ کے خطوط انٹرویو ساءنس  رپورٹس

تصاویر

اردو ادب

 
Email:-jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team