|
پاکستان
میں توانائی کا بحران روز بروز پھیلتا جارہا
ہے۔مغربی جریدے ٹائم نے پچھلے سال اپنی
تحقیقات رپورٹ میں پیشین گوئی کی تھی کہ وہ
ملک مستقبل میں دنیا کی قیادت کا بیڑہ اٹھائے
گا جن کے پاس ایک طرف توانائی کے سب سے زیادہ
زخائر ہونگے اور دوسری
طرف
انکے پاس پانی کے وافر
reservoires
ہونگے۔کسی
قوم کی سلامتی و خوشحالی کے لئے مضبوط ترین
معیشت اور فعال انڈسٹریل نظام ناگزیر ہوتے ہیں
مگر سچ تو یہ بھی ہے کہ ہیوی ویٹ معاشی و
صنعتی نظام کی زندگی کا انحصار توانائی یعنی
تیل و گیس اور بجلی پر ہوتا ہے۔ہماری دگرگوں
معاشی حالت زار کی اہم وجہ انرجی کی قلت ہے ۔
پانی کے معاملے پر بھی ہماری صحت اچھی نہیں۔
پانی کی کمی کے کارن جہاں ہم پن بجلی کی نادر
نعمت سے محروم ہیں تو دوسری جانب پانی کی قلت
نے ہماری زرعی انڈسٹری کی کمر توڑ کر رکھ دی
ہے۔پاکستان زرعی ملک ہے مگر ہمارا منہ شرم سے
جھک جاتا ہے کیونکہ ہم روئے ارض کے سب سے بڑے
نہری نظام کے باوجود 62 سالوں سے زرعی پیداوار
میں خود کفالت کی بارڈر لائن کراس کرنے میں
کامیاب نہیں ہوئے۔پاکستان اجکل بجلی اور گیس
کی لوڈشیڈنگ کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔بجلی
و گیس کی لوڈ شیڈنگ نے گھریلو صارفین کو ادھ
موا کردیا ہے اور بجلی کی بندش سے صنعتی
پیدوار میں50 فیصدتک کمی ہوگئی ہے۔ بجلی اور
گیس کی لوڈشیڈنگ نے پچھلے دوسالوں میں اربوں
ڈالر کا نقصان کیا۔پاکستان کو اس وقت3300
میگاواٹ بجلی اور گیس کی800MCF مقدار کی کمی
کا سامنا ہے۔اگر اس کمی کو پورا نہ کیا گیا تو
2030 تک بجلی کی کمی64 فیصد ہوجائے گی۔ انرجی
کے حوالے سے تشویشناک پہلو تو یہ ہے کہ پچھلے
آٹھ دس سالوں میں بجلی کی طلب میں سالانہ 8
فیصد اضافہ ہوتا رہا مگر روشن خیالی کے اسیر
سبز انقلاب کے دعوے تو زور شور سے کرتے رہے
مگر وہ گیس و بجلی کی مطلوبہ مقدار پوری کرنے
میں ناکام رہے۔یوں بجلی کی طلب اور سپلائی میں
فرق بڑھتا رہا جسکا خمیازہ اجکل قوم لوڈ شیڈنگ
اور مہنگائی کی شکل میںبھگت رہی ہے۔پورے ملک
میں روزانہ8 سے 15گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ نے
گھریلو صارفین اور صنعتی شعبے سے وابستہ افراد
کی زندگیوں کو بے کیف بنادیا ہے۔ سی این جی
پمپوں اور گیس پر دوڑنے والی انڈسٹری کو ہفتے
میں دو دن گیس سپلائی نہیں کی جاتی مگر پھر
بھی گھریلو صارفین کی کی طلب پوری نہیں
ہوپاتی۔پاکستان میں18127 میگا واٹ بجلی پیدا
کرنے کے زرائع موجود ہیں مگر ہم اس مقدار کا
صرف60 فیصد حاصل کررہے ہیں۔نامناسب منصوبہ
بندی تکنیکی خامیوں اور بجلی و تیل فراہم کرنے
والی کمپنیوں کے مابین عدم ادائیگیوں کے
تنازعات نے بھی معاملات کو گھمبیر بنادیا ہے۔
واپڈا اور حکومتی ادارے جب تک پرائیویٹ تھرمل
پاورز کو رقم کی پوری ادائیگی نہیں کرتے تب تک
وہ نہ تو تھرمل پاورز کو چلاتے ہیں اور نہ ہی
بجلی مہیا کرتے ہیں۔مثال کے طور پر کوٹ ادو
پاور کمپنیkapco انگریزوں کی ملکیت ہے۔کوٹ ادو
تھرمل پاور کے ٹوٹل16 میں سے9 یونٹ عدم
ادائیگی کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ایک المیہ تو
یہ بھی ہے کہ تھرمل پاورز غیر ملکی کمپنیوں نے
خرید رکھے ہیں ۔تھرمل پاورز کے زیادہ حصص ابھی
تک واپڈا کی ملکیت ہیں۔کوٹ ادو پاور کمپنی
تھرمل پاور کے 30 فیصد جبکہ واپڈا70 فیصد حصص
کی مالک ہے۔تاہم یہاں انگریزوں نے ایسٹ انڈیا
کمپنی والا ظالمانہ نظام مسلط کررکھا
ہے۔معاہدوں کی رو سے تھرمل پاورز کے تمام
انتظامی اختیارات انگریزوں کے پاس ہیں جبکہ
حکومت اور واپڈا کا تھرمل پاورز پر کوئی
اختیار نہیں۔حکومت تمام تھرمل پاورز کا کنٹرول
خود سنبھالے تاکہ سامراجیوں کی قائم دادا گیری
کو ختم کیا جاسکے۔پاکستان میں33 فیصد بجلی
پانی سے بنائی جاتی ہے جبکہ بقیہ تیل و گیس
اور دیگر زرائع سے حاصل کی جاتی ہے۔منگلا ڈیم
چشمہ بیراج ،تربیلا اور غازی بروتھا ڈیم
سے6644 میگاواٹ بجلی حاصل کی جارہی ہے جو
ڈیموں کی مجموعی صلاحیت سے34 فیصد کم ہے۔ہمارے
ہاں تیل سے44 اور گیس سے20 فیصد بجلی پیدا
ہوتی ہے جبکہ پیداوری استعداد11723 میگاواٹ ہے
جس میںتھرمل پاورزسے4829 میگاواٹIPPsسے6009
میگاواٹ اور رینٹل پاورزسے285 میگاواٹ بجلی
پیدا کی جارہی ہے۔ بجلی کے بحران کے فوری حل
کے لئے جہاں ایک طرف بند بجلی گھروں کی مرمت
کرکے رننگ حالت میں لانا ضروی ہے تو دوسری
جانب پانی کی ایک ایک بوند کو سٹور کرنے کے
لئے فوری طور بڑے اور چھوٹے ڈیموں کی ساتھ
ساتھ تعمیر بھی لازم ہے۔ حکومتی پالیسی ساز
لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے کرائے کے بجلی گھر
حاصل کرنے کی منصوبہ سازی کررہے ہیں مگر یہاں
بھی عوام کو کڑوے گھونٹ پینا ہونگے کیونکہ
ایشیائی ترقیاتی بینک نے اودہم مچادیا کہ
کرائے کے بجلی گھروں سے بنائی جانیوالی بجلی
کے نرخوں میں فیصد40 اضافہ کرنا پڑے
گا۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے بازیگر کہتے ہیں
کہ کرائے کے بجلی گھر لگانے سے ایک تا دو سال
میں لوڈ شیڈنگ کی دوزخ کو بہاروں میں بدلا
جانا ممکن ہے تاہم حکومت کو پانچ سے چھ ارب
ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرنا ہوگی جو زرمبادلہ
کے زخائر میں کمی کا سبب بنیں گے۔یوسف رضا
گیلانی کا یہ بیان قابل داد ہے جس میں انہوں
نے رینٹل پاور پراجیکٹ کے لئے ازادانہ اڈٹ
کروانے کا اعلان کیا ایسا نہ کرنے کی شکل میں
ہماری معیشت پر تاریک اثرات مرتب ہوتے اور ان
اثرات کی کوکھ سے جنم لینے والے زہریلے گھونٹ
ہماری انے والی نسلوں کو پینا پڑتے۔تیل سے
حاصل کی جانیوالی بجلی پر سالانہ12 ارب ڈالر
خرچ ہوتے ہیں۔یوں تھرمل پاورز سے بنائی
جانیوالی بجلی انتہائی مہنگی پڑتی ہے اور
مہنگی بجلی مہنگائی کو قاتلانہ بڑھاوا دے رہی
ہے۔مہنگی ترین بجلی اور خونی مہنگائی نے عوام
کا جینا دو بھر کردیا ہے۔اسی لئے ضروی ہے کہ
پانی، ہوا ، کوئلہ اور شمسی زرائع سے بجلی
پیدا کرنے کے ہنگامی منصوبے شروع کرنے چاہیں
کیونکہ یہ پراجیکٹس ایک لاکھ میگاواٹ بجلی
مہیا کرسکتے ہیں جن میں40 فیصد ہائیڈرو پاور
شامل ہے۔بدقسمتی تو یہ ہے کہ ہم ان زریعوں
سے13 فیصد بجلی پیدا کرتے ہیں۔1990 کی دہائی
میں ڈیموں سے حاصل کی جانیوالی بجلی مجموعی
حصے کا43 فیصدہے جو اب گھٹ کر26 فیصد ہو چکی
ہے۔تربیلا منگلہ اور چشمہ بیراج میں پانی سٹور
کرنے کی صلاحیتSEDIMENTATION یعنی گاد بھرنے
سے تیس فیصد کم ہوگئی ہے۔تھرمل پاورز سے پیدا
ہونے والی مہنگی بجلی کا کل توانائی میں حصہ55
فیصد سے کراس کرکے72 فیصد تک ہوچکا ہے۔پاکستان
خطے کا واحد ملک ہے جو تھرمل بجلی استعمال
کرتا ہے حتی کہ تھرمل زرائع دنیا میںمہنگے
ہونے کی وجہ سے متروک بن رہے ہیں۔انڈیا12 اور
چین95 بڑے ڈیم جنکی اونچائی200 فٹ ہے تعمیر
کررہا ہے۔ چین نے سترہ سالوں میں22 ہزار
میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والا ڈیم تعمیر کیا ہے۔
چین میں ہائیڈرو پاور بنانے کے اتنے زرائع
بنائے جاچکے ہیں جو اگلے 20 سالوں کی ضروریات
پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔پاکستان کے
دریاوں کا بہاو25000 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا
کرنے کے قابل ہے۔بھارت پاکستانی دریاوں پر ڈیم
تعمیر کررہا ہے جس سے دریاوں میں پانی کی کمی
ہوچکی ہے۔دریائے چناب جس میں کبھی10ہزار کیوسک
پانی بہتا تھا اج 6ہزار کیوسک تک محدود ہوچکا
ہے۔دوسرے دریاوں کیcapasity چالیس فیصد کم
ہوگئی ہے۔دریائے سندھ کا32 لاکھ ایکڑ پانی ہر
سال سمندر میں گر کر ضائع ہو رہا ہے جسے سٹور
کرنے کے لئے کالاباغ ڈیم کا منصوبہ بنایا گیا
تھا جو سندھ اور سرحد کی مخالفت کی وجہ سے
ازکار رفتہ ہوگیا۔ حکومت اگر کالاباغ ڈیم کا
منصوبہ ختم کرچکی ہے تو ہر سال سمندر کی نذر
ہونے والے قیمتی پانی کو سٹور کرنے کے لئے
دیگر مقامات پر نئے ابی زخائر تعمیر کئے
جائیں۔پاکستان میں جب تک تھرمل پاورز سے پیدا
ہونے والی بجلی سے چھٹکارہ حاصل نہیں
کیاجاتااور 10 عدد بڑے ڈیمز تعمیر نہ ہوئے تو
لوڈشیڈنگ مہنگائی بے روزگاری اور غربت کے
خاتمے جبکہ زرعی خود کفالت اور معاشی و صنعتی
ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوگا۔
|