|
حضرت
عثمان کا قول ہے کہ تو انسانوں کو چاہے جتنی
مرتبہ ازما لے وہ سانپ یا بچھو سے کم نہ ہوگا۔
12جنوری کا دن قدرتی افات کے حوالے سے ہیٹی
اور دنیا کی تاریخ میں قیامت خیز دن کی حثیت
سے روحوں کو ےڑپاتا رہے گا کیونکہ اسی دن 4 بج
کر35 منٹ پر 7 ریکٹر سکیل والے ہولناک زلزلے
نے ہیٹی کے دارلحکومت پورٹ او پرنس اور ملحقہ
علاقوں میں دو لاکھ انسانوں سمیت ہر شے کو
ملیامیٹ کردیا۔انسانی بستیاں مٹی کے ڈھیروں
اور عمارتیں قبرستانوں کا منظر بن گئیں۔جہاں
کبھی پرندوں کی چہچہاہٹ کے سریلے سر کانوں میں
رس گھولا کرتے تھے اج وہاں عزداری اور اہ و
بکا کی شام غریباں سجی ہے۔یہ زلزلہ ہیٹی کی
200سالہ زندگی کا سفاک ترین زلزلہ ہے۔ حضرت
انسان اپنی سوچ و فکر اور انا کی رو سے چاہیے
کتنا ہی ترقی یافتہ طاقتور اور سائنس و
ٹیکنالوجی کی تحیر انگیز ایجادات سے مسلح کیوں
نہ ہو ہوجائے مگر یہ طے ہے کہ انسان فطرت
یذداں کی ہونیوں کے سامنے مٹی کے مادھو کا
درجہ رکھتا ہے۔قدرتی افات چاہے سیلابوں کی شکل
میں ہو ں یا طوفانوں کی صورت میں وہ جان لیوا
وبائیں ہوں یا قحط سالی انسان کو اسکی حثیت
روشناس کرواتی ہیں۔ہیٹی میں افٹر شاکس کا
سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔ماہرین ارضیات کی
رپورٹ کے مطابق اب تک4 تا6 ریکٹر سکیل کے40
افٹر شاکس نمودار ہوچکے ہیں۔ہیٹی کے دلخراش
سانحے پر اقوام عالم انسو بہارہی ہیں۔دنیا کے
کونے کونے سے رنگ و نسل زبان و بتان سے بالاتر
ہوکر امدادی ٹیمیں زلزلہ ذدگان کی بحالی اور
امداد و استعانت کے لئے کشاں کشاں یہاں وارد
ہوچکی ہیں تاکہ زخم خوردہ لوگوں کے زخموں کا
اندمال کرسکیں اور اشرف المخلوق کا یہی وصف
انسانیت کی عظمت کو دوبالا کرتا ہے۔ امریکہ
ایک طرف امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے
رہا ہے تو دوسری30 ہزار امریکی فوجی اسلحے
سمیت ہیٹی پہنچ گئے۔امریکی افواج کی امد نے
دنیا کو تشویش میں مبتلا کررکھا ہے کہ آخر
افواج قاہرہ کی امد کا کیا فلسفہ ہے؟ویسے یہ
بھی سچ ہے کہ امداد بحالی اور ہتھیاروں کا اپس
میں کوئی تعلق نہیں ہے۔پاکستان میں وادی نظیر
جنت کشمیر میں زلزلے نے تباہی و بربادی اور
رنج و الم کی ایسی داستانیں دیکھنے کو ملیں کہ
انسانی دماغ ماعوف ہوگئے تھے۔کشمیر میں ایک
لاکھ کشمیری موت کے جبڑے کا شکار بن گئے ۔پوری
دنیا نے کشمیریوں کی دستگیری کا ایسا مظہر
دیکھا کہ انسانیت جھوم اٹھی مگر یہاں تو کسی
ملک کی فوج وارد نہیں ہوئی تھی تو بھلا ہیٹی
میں امریکی ٹروپس کی امد چہ معنی ورد۔وینزویلا
کے انقلابی رجال کار ہوگوشاویز نے اواز حق
بلند کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہیٹی پر قبضے کی
پلاننگ کررہا ہے۔ہوگوشاویز نے امریکہ سے
مطالبہ کیا کہ وہ فوجیوں اور ہتھیاروں کی
بجائے ادویات خیمے اشیائے خوردنی روانہ کرے۔
شاویزنے ہیٹی کے دکھیارے و بے کس باسیوں کو
مشورہ دیا ہے کہ وہ امریکی امداد پر نظریں
مرکوز نہ کریں۔ دنیا کے اکثر ملکوں نے شاویز
کے بیان پر ابتدا میں کان نہیں دھرے کیونکہ
امریکہ اور شاویز کے درمیان کشیدگی چل رہی ہے
مگر دنیا اس وقت خدشات کے بھنور میں پھنس گئی
جب امریکہ کے وفادار دوست فرانس نے شاویز کی
ہاں میں ہاں ملادی۔فرانس کے وزیرخارجہ برناڈ
فیوچز نے کہا کہ دنیا ہیٹی میں انسانیت کی
خدمت کررہی ہے مگر امریکہ امدادی کاموں کی آڑ
میں ہیٹی پر غاصبانہ قبضہ جمانے کی سازش
کررہاہے۔امریکی فوجیں ہیٹی میں اسلحے کے ڈھیر
لگارہی ہیں۔امریکی انتظامی امور اپنے ہاتھ میں
لینے کی سبیل کررہے ہیں ۔ کسی کی بربادی
ناداری اور مفلسی کی اڑ میں اپنی عسکری
بالادستی قائم کرنا انسانیت کے منہ پر کالک
ملنے کے مترادف ہے۔امریکی کمانڈوز کے82 ایر
بورن ڈویژن نے چھاتہ مار کاروائی میں صدارتی
محل پر قبضہ کرلیا جس سے مقامی ابادی میں
ابہام پھیل گیا۔پورٹ پرنس کا سفید صدارتی محل
طاقت اور خود داری حمیت اور غیرت کی علامت
تصور ہوتا ہے۔اسی لئے ہیٹی کی عوام امریکی شب
خون پر غم و غصے اور ناگواری کی صدائے احتجاج
بلند کرنے پر مجبور ہے۔امریکی فوجوں نے ہیٹی
کے انٹرنیشنل ایرپورٹ پر قبضہ کرلیا ہے۔گو
امریکی ترجمان زبانی کلامی قبضے کی خانہ
استعجاب داستانوں کو مسترد کررہے ہیں مگر ایک
تاریخ سچ تو یہ بھی ہے کہ جہاں امریکی فوجی
داخل ہوجائیں وہاں سے نکلنے کا نام نہیں
لیتے۔ہیٹی جغرافیائی پوزیشن کے حوالے سے اہم
ترین ملک ہے جو وسطی اور لاطینی امریکہ کے
سنگم پر واقع ہے۔امریکہ خطے میں اپنی بالادستی
کے لئے ہیٹی پر قبضہ کرنے جارہا ہے۔وہ ہیٹی
میں فوجی اڈے بنا کر اپنے حریف ہوگوشاویز اور
خطے کے دوسرے ملکوں پر نظریں رکھنے کا طاغوتی
منصوبہ بنا چکا ہے۔ہیٹی میں سرکاری
انفراسٹرکچر غتربود ہوچکا۔امن و امان کی
صورتحال ابتر ہے۔ہر سو افراتفری نفسانفسی کا
عالم ہے۔جیلوں سے ہزاروں قیدی فرار ہوگئے اور
یہی لوگ لوٹ مار کررہے ہیں۔نوجوانوں کے جتھے
سرعام سڑکوں پر وارداتیں کررہے ہیں۔یہ لوگ
جہاں کہیں امدادی اشیا کے ڈھیر دیکھتے ہیں لوٹ
کرلے جاتے ہیں۔یواین او کی کوارڈی نیٹر امیلا
کہتی ہیں کہ یواین او کا امدادی سامان لوٹ
جاچکا ہے۔بیس لاکھ لوگ اٹے راشن کی راہ دیکھ
رہے ہیں۔ہیٹی کے وزیر داخلہ انتھونی کہتے ہیں
کہ لاشیں وبائی امراض پھیلارہی ہیں جنہیں
اجتماعی قبروں میں دفنانے کے لئے عالمی برادری
تعاون کرے۔ہیٹی کے صدر پریوال اپیل کررہے ہیں
کہ عالمی برادری تعمیر نو کے لئے دس ارب ڈالر
کی امداد دے۔سینیگال کے صدر عبداللہ واعدے نے
نئے شہر کی تعمیر کے لئے زمین دینے کی پیشکش
کی ہے۔ اس وقت عالمی برادری اور یواین او کا
فرض بنتا ہے کہ وہ ایک طرف امریکی فوجیوں کے
سامراجی عزائم کو ناکام بنائے اور دوسری طرف
ہیٹی کے مصیبت زدگان کو علاج، ادویات خیمے اور
پیٹ کے ایندھن کے لئے اشیائے خوردنی کی فراہمی
کو یقینی بنائے ورنہ لاکھوں لوگ بھوک زخموں
اور وبائی امراض کی وحشت سے لقمہ اجل بن جائیں
گے۔ہیٹی کی حکومت ، صدر اور عوام کو چاہیے کہ
وہ حضرت عثمان کے محولہ بالا قول کی روشنی میں
امریکی افواج کو ہمدرد تصور نہ کریں امریکی
افواج کو کسی ناگہانی صورتحال سے پہلے ہی ہیٹی
چھوڑنے پر مجبور کردیاجائے کیونکہ سامراجی
اپنے مفادات کے اسیر ہوتے ہیں انسانوں کے خیر
خواہ نہیں۔ سامراجیوں سے انسانیت کی توقع کرنا
عبث ہے۔شائد حضرت عثمان نے اسی صورتحال کے
تناظر میں یہ جملہ کہا تھا کہ تو انسانوں کو
چاہے معیار کی کسی کسوٹی پر ازما لے وہ سانپ
اور بچھو سے کم نہیں ہوگا۔اس جملے اور امریکہ
کے درمیان گہری مماثلت پائی جاتی ہے جسے
سمجھنا قارئین کی زمہ داری ہے
|