|
|
|
تاریخ
اشاعت:2010-04-21 |
|
ملک
بھرمیں بجلی کابحران بدستور جاری،4700 میگاواٹ
بجلی کی قلت |
پارلیمنٹ
، عدلیہ کے اختیارات پر نئی بحث شروع،محاذ آرائی
کا خدشہ
|
اسلام آباد.. . . . .. . ملک بھرمیں بجلی
کابحران بدستور جاری ہے۔4700 میگاواٹ بجلی کی
قلت کے باعث بیشتر شہروں اور دیہات میں طویل اور
غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جس سے لوگوں کو
شدیدمشکلات کا سامنا ہے۔ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا
مسئلہ شدت اختیارکرتا جارہا ہے۔اسلام آباد میں6
سے8 گھنٹے جبکہ راولپنڈی میں 8 سے 10 گھنٹے تک
کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔لاہور سمیت پنجاب کے
مختلف شہروں میں بجلی کا بحران بدستور جاری
ہے۔حکومت پنجاب نے بجلی بچت سکیم کا اعلان کرتے
ہوئے سرکاری دفاتر میں صبح گیارہ بجے تک تمام
ائیر کنڈیشنرزجبکہ پچاس فیصد لائٹس سارادن بند
رکھنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔پنجاب کے شہری
علاقوں میں بارہ گھنٹے اور دیہات میں اٹھارہ
اٹھارہ گھنٹے بجلی کی بندش کے سبب معمولات زندگی
بری طرح متاثرہورہے ہیں ۔کئی علاقوں میں پانی کی
قلت پیدا ہوگئی ہے۔اس صورت حال میں تاجروں اور
عوام کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی
جاری ہے۔کراچی میں چار سے پانچ گھنٹوں کی غیر
اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہورہی ہے جبکہ کئی علاقوں میں
طویل بریک ڈاؤن اور کیبل فالٹس کے باعث طویل
دورانئے تک بجلی کی معطلی سے شہری اذیت میں
مبتلا ہیں۔کے ای ایس سی ذرائع کے مطابق شہر میں
بجلی کی کل طلب2350میگا واٹ کے مقابلے میں رسد
2050میگاواٹ کے لگ بھگ ہے۔حیدرآباد،سکھر،
نوابشاہ، لاڑکانہ سمیت اندرون سندھ کے دیگر
شہروں میں14 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 18 گھنٹے
کی لوڈ شیڈنگ نے سخت گرمی میں لوگوں کو عذاب میں
مبتلا کررکھا ہے ۔مختلف شہروں میں احتجاجی
مظاہرے بھی کیے گئے ۔گدو اوچ سبی 220کے وی
ٹرانسمیشن لائن کے دو سرکٹ بند ہونے سے بلوچستان
میں بجلی کا شارٹ فال 850میگا واٹ تک پہنچ
گیا۔کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ذرائع کا
کہنا ہے کہ 850میگاواٹ بجلی کی کمی کے سبب کوئٹہ
میں 10 گھنٹے،جبکہ دیہی علاقوں میں 20گھنٹے کی
لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔صوبہ خیبرپختون خواکے دیہی
علاقوں میں 16 سے 18 گھنٹے جبکہ شہری علاقوں میں
لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 12سے14 گھنٹے ہے
|
پاکستان
میں پارلیمنٹ اور عدلیہ کے اختیارات کے حوالے سے
ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے جس پر ہر آنے والے
دن کے ساتھ دونوں اداروں میں تصادم کا خدشہ
بڑھتا جا رہا ہے۔دونوں ادارے کے اختیارات کے
بارے میں وکلاءبرادری بھی تقیسم ہو گئی ہے۔سپریم
کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر چودھری اعتزاز
احسن نے کہا ہے کہ عدلیہ آئینی ترمیم کو ختم
نہیں کر سکتی البتہ تجویز دے سکتی ہے۔انہوں نے
کہا کہ 17ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ سترہ کروڑ
عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے فیصلےکو کالعدم
قرار نہیں دے سکتی۔سپریم کورٹ نے کبھی کسی آئینی
ترمیم کو کالعدم قرار نہیں دیا۔ سابق چیف جسٹس
سجاد علی شاہ نے ترمیم کو کالعدم قرار دیا تھا
اور ان کے ساتھ جو کچھ ہوا میں نہیں چاہتا کہ
دوبارہ کسی کے ساتھ ہو۔دوسری طرف ممتاز قانون
دان اکرم شیخ نے اعتزاز احسن کے بیان پر شدید
ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کسی
بھی آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔سابق
وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ کا کہنا ہے کہ
سپریم کورٹ مکمل طور پر بااختیار ہے کہ وہ کسی
آئینی ترمیم کا جائزہ لے کر اس بات کا تعین کرے
کہ وہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے منافی ہے یا
نہیں۔واضح رہے کہ آٹھارویں ترمیم کے آئین کا حصہ
بننے کے بعد اس کے خلاف کئی درخواستیں سپریم
کورٹ میں دائر کر دی گئی ہیںجن میں ترمیم کی بعض
شقوں کو 73ءکے آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے
انہیں کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔حفیظ
پیرزادہ نے بھی اس بات کو تسلیم کیاہے کہ
آٹھارویں ترمیم میں ججوں سے متعلق شق سمیت بعض
دوسری شقیں آئین کے بنیادی ڈھانچے کے منافی ہیں۔
|
|
افغانستان
کی تعمیروترقی،عالمی کانفرنس 20جولائی کو ہو گئی
|
بغداد،انٹلیجنس
ایجنٹوں کی کارروائی میں2القاعدہ رہنما ہلاک
|
افغانستان کی
تعمیر و ترقی ، استحکام اور افغان حکومت کی
حمایت کیلئے افغانستان کانفرنس بیس جولائی کو
کابل میں ہوگی۔ جبکہ صدر حامد کرزئی دس مئی سے
امریکہ کا چار روزہ دورہ کریں گے۔
واشنگٹن میں میڈیا سے بات چیت میں پاکستان اور
افغانستان کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی رچرڈ
ہالبروک نے بتایا کہ امریکہ اور افغان حکومت میں
بہترین تعلقات ہیں کچہ دیر کیلئے ان میں تلخی
آئی تھی لیکن اب وہ ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کابل میں ہونے والی بین
الاقوامی کانفرنس سے افغان حکومت کو بہت مدد ملے
گی۔ کابل کانفرنس میں تشدد ترک کرنے والے طالبان
رہنماؤں سے بات چیت کیلئے صدر حامد کرزئی کی
تجویز کی ایک مرتبہ پھر حمایت بھی کی جائے گی۔ |
عراق کے وزیراعظم
نوری المالکی نےکہاہےکہ انٹلی جینس ایجنٹوں کی
کارروائی میں القاعدہ کے دواہم رہنما ہلاک ہوگئے
۔ دوسری جانب نائب امریکی صدر جو بائڈن کا کہنا
ہے کہ عراق میں القاعدہ رہنماؤں کی ہلاکت اہم
کامیابی اور القاعدہ کیلئے بڑا دھچکہ ہے۔
سرکاری ٹی وی پر اعلان کرتے ہوئے نوری المالکی
نے کہاکہ القاعدہ کے سرکرہ رہنما ابوعمر
البغدادی اورابو ایوب المصری صوبہ صلاح الدین
میں مارے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائی میں
امریکی مدد بھی شامل تھی۔
دوسری جانب وہائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہاہے کہ
القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت
یاگرفتاری بدستوراولین ترجیح ہے،بیان میں عراق
میں دو القاعدہ رہنماؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی
گئی ہے۔
|
|
صدر سے
وزیراعظم گیلانی اور جنرل کیانی کی ملاقات
|
شق 74 کے
خاتمے کا نوازشریف کو بھی علم نہ تھا،چوہدری
نثار
|
|
اسلام آباد میں
صدر آصف علی زرداری سے وزیر اعظم سید یوسف رضا
گیلانی نے ملاقات کی۔ جس میں آرمی چیف اشفاق
پرویز کیانی بھی شریک تھے۔ ملاقات میں ملک کی
سیاسی اور دفاعی صورتحال پر غور کیا گیا۔
مولوی
انوار الحق کو نیا اٹارنی جنرل مقرر کرنے کا
فیصلہ
اسلام آباد: حکومت نے ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج
اور سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق کو
نیا اٹارنی جنرل مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ۔ مولوی انوار الحق نے بعض
شرائط کے ساتھ یہ عہدہ قبول کرلیا ہے ۔
مولوی انوار الحق نے صدر آصف علی زرداری سے
ملاقات بھی کی جبکہ ان کی وزیراعظم کے ساتھ بھی
ملاقات کا بھی امکان ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ
مولوی انوار الحق کی تقرری کا نوٹیفیکشن کسی بھی
وقت جاری کردیا جائے گا۔
|
قومی اسمبلی میں
قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے
کہ اٹھارویں ترمیم کی شق 74 کے خاتمے کا میاں
نوازشریف کو بھی علم نہیں تھا ۔
میڈیا سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ شق 74
ایل ایف او کے ذریعے آئین میں ڈالی گئی، اس کے
نکالے جانے کے بعد بھی سیاسی جماعتوں میں الیکشن
ہونگے۔ چوہدری نثار نے کہا ہزارہ کے اعتراضات
ختم کرنے کیلئے آئین میں شاید مزید ترامیم کرنی
پڑیں، حکومت کے پاس آئین پرعمل کرنے کے علاوہ
اور کوئی راستہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پارلیمنٹ نے اچھا
کام نہیں کیا وہ اسمبلی میں سینیٹر رضا ربانی کی
تقریر سے مطمئن نہیں ہوئے۔
|
|
بینظیرقتل
کی یواین سے تحقیقات جان چھڑانےکی کوشش
ہے،ممتازبھٹو
|
رحمان ملک
کی برطرفی ریٹائرمنٹ میں تبدیل
|
سندھ نیشنل فرنٹ
کے سربراہ ممتاز بھٹو نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی
نے محترمہ بینظیر بھٹو قتل کیس کی اقوام متحدہ
سے تحقیقات کرواکر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی
ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ نیشنل فرنٹ کی
مرکزی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے
خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ممتاز بھٹو نے کہا کہ
امریکہ اور برطانیہ کے ذریعے بینظیر بھٹو اور
سابق صدر مشرف کے درمیان ڈیل ہوئی تھی لیکن جب
یہ ڈیل ٹوٹ گئی تو بینظیر بھٹو کو شہید کروادیا
گیا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اٹھارویں
ترمیم کی آڑ میں پیپلزپارٹی نے ایک نیا آئین
کھڑا کردیا ہے جو ملک میں سیاسی آمریت کو فروغ
دیگا |
وفاقی
حکومت نے وزیر داخلہ رحمان ملک کی بطور ایڈیشنل
ڈائریکٹر جنرل ایف آ ئی اے برطرفی کو ریٹائرمنٹ
میں تبدیل کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت قانون نے چند روز قبل ایک
سمری وزیر اعظم کو بھیجی تھی جس میں سرکاری
ملازمتوں سے بر طرفی کے ایکٹ کے بعض احکامات کو
بنیاد بنا کر سفارش کی گئی تھی کہ رحمان ملک کی
برطرفی سیاسی بنیادوں پر کی گئی تھی اوران کے
خلاف کوئی بھی الزام کسی بھی عدالت میں ثابت
نہیں ہو سکا۔
وزیر اعظم نے اپنی ایڈوائس کے ساتھ سمری ایوان
صدر بھجوائی جس میں سفارش کی گئی تھی کہ رحمن
ملک کی بر طرفی کو ریٹائرمنٹ میں تبدیل کر دیا
جائے۔ صدر نے وزیر اعظم کی اس ایڈوائس کی منظوری
دے کر رحمن ملک کی برطرفی کو ریٹائر منٹ میں
تبدیل کردیا ہے اس حوالے سے نوٹیفیکیشن جاری کر
دیا گیا ہے۔ رحمن ملک کو اب ریٹائرمنٹ کی تمام
مراعات حاصل ہوں گی ۔
|
|
تاریخ
اشاعت:2010-04-08 |
|
مشرف کا جون میں وطن واپسی کا اعلان متوقع
|
قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر اٹھارویں آئینی
ترمیمی بل کی منظوری دے دی |
پرویز
مشرف نے اپنی سیاسی جماعت کے قیام کیلئے کوششیں
تیز کر دیں۔ق لیگ سے رابطے کیلئے تین رکنی کمیٹی
تشکیل دے دی گئی۔ سابق صدر جون کے پہلے ہفتے میں
اپنی نئی سیاسی جماعت اور وطن واپسی کے پروگرام
کا اعلان کریں گے۔ نجی ٹی کے سابق صدر جنرل
ریٹائرڈ پرویز مشرف نے فیصل صالح حیات،امیر مقام
اور سرور خان پر مشتمل تیں رکنی کمیٹی تشکیل دی
ہے ۔ یہ کمیٹی مسلم لیگ ق کو پرویز مشرف کی
قیادت قبول کرنے پر آمادہ کرے گی۔اس کے علاوہ
تینوں رہنما ق لیگ کو سابق صدر کی نئی سیاسی
جماعت میں ضم کرانے کیلئے پارٹی قیادت سے بات
چیت کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خورشید محمود
قصوری اور حامد ناصر چٹھہ نے مشرف کی قیادت پر
رضا مندی ظاہر کر دی جبکہ سابق اٹارنی جنرل ملک
قیوم اور احمد رضا قصوری ایڈوکیٹ نئی پارٹی کے
قیام اور دیگر معاملات میں پرویز مشرف کو قانونی
معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
کیلاش
میوزیم کے یونانی سربراہ کو بازیاب کرا لیا گیا
پشاور،کیلاش کے علاقے میں قائم میوزیم کے سربراہ
یونانی شہری کو بازیاب کرا لیا گیا ہے،چترال کے
ضلعی حکام کے مطابق افاناسیوش لیرو نینند کو
2009ءمیں شدت پسندوں نے اغواءکیا تھا اور اس
موقع پر فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار
ہلا ک بھی ہو گیاتھا۔ضلعی حکام نے بتایا کہ
اگرچہ شدت پسند یونانی باشندے کے بدلے چند
گرفتار شدت پسندوں کو رہا کرانا چاہتے تھے تاہم
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شدت پسندوں کا
کوئی مطالبہ تسلیم کئے بغیر یونانی شہری کو غیر
مشروط طور پر بازیاب کرایا ہے۔واضح رہے کہ یونان
سے تعلق رکھنے والے افانا سیوش لیرو نینند
2001ءسے علاقے میں رہائش پذیر تھے اور میوزیم کی
دیکھ بھال فرائض انجام دے رہے تھے
وقت کی
پابندی پر مراعات حاصل کریں
بولیویا کے صدر کی جانب سے یہ فیصلہ اس لیے کیا
گیا ہے کہ ملک میں مقررہ وقت سے لیٹ ہونا عام سی
بات ہے اور پندرہ بیس منٹ یا آدھا گھنٹہ لیٹ
ہونے کو معیوب نہیں سمجھا جاتا۔
کام، ملاقات یا کسی بھی مقصد کے لیے دیا گیا وقت
نو بجے ہے تو ساڑھے نو بجے پہنچنا بولیویا کے
لوگوں کی عادت ہے اور اسے بولیویائی وقت کہا
جاتا ہے۔
یعنی نو کا مطلب ساڑھے نو۔ دنیا بھر میں عموماً
کاروباری اور پیشہ ور سرگرمیوں کا آغاز صبح کے
نو بجے ہوتا ہے چنانچہ آپ کو صبح کے سات بجے سے
ہی سڑکوں پر رش نظر آنا شروع ہو جاتا ہے لیکن
بولیویا میں ایسا نہیں ہوتا ہے اور لوگ نو بجے
سڑکوں پر نظر آنا شروع ہوتے ہیں۔
سکول کے طلباء ہوں یا اساتذہ، مزدور ہوں یا پڑھے
لکھے پیشہ ور لوگ، سبھی دیر سے آنے کے عادی ہیں۔
یہاں تک کہ صدر ایوو مورالیز خود وقت کی پابندی
کے عادی نہیں۔ بعض دفعہ تو ایسا ہوا کہ انہوں نے
صحافیوں کی پریس کانفرنس بلائی اور صحافی دو دو
گھنٹے انتظار کرنے کے بعد احتجاجًا اٹھ کر چلے
گئے کیونکہ صدر مورالیز کی آمد مقررہ وقت پر نہ
ہو سکی۔
اب بولیویا کے صدر کا خیال ہے کہ لوگوں کے دیر
سے آنے کی عادت ملکی معیشت کو لاکھوں ڈالر کا
نقصان پہنچا رہی ہے۔ چنانچہ ان کی حکومت نے لیبر
قوانین میں اصلاحات تیار کی ہیں جن میں اُن
لوگوں کو بونس اور اضافی مراعات دینے کا فیصلہ
کیا گیا ہے جو کم از کم کام کے معاملے میں وقت
کے پابند ہوں گے۔
تخریب
کاری‘ کی کوشش، سفارتکار گرفتار
امریکہ میں واشنگٹن کے ریگن ائرپورٹ سے ڈینور
جانے والی پرواز میں قطر کے ایک سفارت کار کو
مبینہ طور پر آگ لگانے یا دھماکہ کرنے کی اطلاع
پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک قطری سفارت کار
دورانِ پرواز اپنے جوتوں میں آگ لگانے کی کوشش
کر رہے تھے۔
امریکی کی شمالی کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس اطلاع
پر امریکی فضائیہ کے دو ایف سولہ جنگی جہاز نے
جہاز کو گھیرے میں لے لیا اور اس کو ڈینور کے
ہوائی اڈے پر بحفاظت ُاتار لیا گیا۔
لیکن اس کے بعد حکام نے کہا کہ قطری سفارت کار
سے کوئی دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا ہے اور
اس نے جہاز کے ٹوائلٹ میں سگریٹ پینے کی کوشش کی
تھی۔
ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر امریکی
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ جب
اس سفارت کار سے آمنا سامنا ہوا تو انھوں
نے’واقعے کو مذاق میں لیا‘۔
یہ سفارتکار واشنگٹن میں قطر کے سفارت خانے میں
تعینات ہیں۔ جہاز میں ایک سو ساٹھ مسافر سوار
تھے اور جب جہاز ڈینور کے ہوائی اڈے پر اترا تو
ٹی وی چینل پر دکھائے جانے والے مناظر کے مطابق
پولیس اور ہنگامی حالت سے نمٹنے والی گاڑیوں نے
جہاز کو گھیرے میں لیے ہوا تھا۔
امریکہ کی ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی انتظامیہ کا
کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے مشتبہ
شخص سے پوچھ گچھ کی ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری
ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’واشنگٹن سے
ڈینور جانے والی پرواز میں ائر فیلڈ مارشل نے
مسافروں کو متنبہ کیا کہ ممکنہ طور پر جہاز پر
کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے جبکہ ادارہ
اس واقعے کا جائزہ لے رہا ہے‘۔
خیال رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب چند
ماہ قبل نائیجیریا کے ایک شہری عمر فاروق
عبدالمطلب نے ہالینڈ سے امریکہ جانے والے جہاز
کو آتش گیر مادے سے اس وقت تباہ کرنے کی کوشش کی
جب وہ تین سو کے قریب مسافروں اور عملے کو لے کر
ایمسٹرڈم سے امریکی شہر ڈیٹرائٹ جا رہا تھا۔
اس سے پہلے دو ہزار ایک میں ایک برطانوی شہری نے
دورانِ پرواز اپنے جوتوں میں چھپائے گئے دھماکہ
خیز مواد سے جہاز کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
بھارت: ایوجنک انجن کا تجربہ کرے گا
بھارت جلد ہی ایک جدید قسم کے مواصلاتی سیٹلائٹ
کو مدار میں بھیجنے کے لیے ملکی سطح پر تیارہ
کردہ کرایوجنک انجن کو استعمال کرے گا۔
ماہرین کے مطابق اگر بھارت کو اس میں کامیابی
ملتی ہے تو خلائی سائنس کے شعبہ میں اس کے لیے
ایک اور بڑی کامیابی ہوگی
خود ساختہ انجن کے استعمال سے بھارت خلائی سائنس
کے شعبے میں وہ بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
بھارت اس سے پہلے بھی کئی بار مختلف طرح کی
سیٹلائٹ لانچ کر چکا ہے لیکن ماضی کے برعکس اس
بار وہ اپنے سائنسدانوں کا تیار کردہ کرایوجنک
انجن کا استعمال کرے گا۔
کرایوجنک انجن ایسی موٹر والے راکٹ ہیں جس میں
ایندھن کو سیال بنائے رکھنے کے لیے بہت کم درجہ
حرارت میں رکھنا پڑتا ہے ورنہ وہ گیس میں تبدیل
ہو سکتا ہے۔ یہ خاص ٹیکنالوجی دنیا کے صرف پانچ
ممالک کے پاس ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بھارت کو اس میں کامیابی
ملتی ہے تو خلائی سائنس کے شعبہ میں اس کے لیے
ایک اور بڑی کامیابی ہوگی۔
بھارت کے مشہور خلائی ادارے اسرو کے چیئرمین کے
رادھا کرشنن کا کہنا ہے کہ’ یہ قدرے پیچیدہ قسم
کی ٹیکنلوجکل حمکت عملی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے تھا کہ پندرہ اپریل کو سری ہری
کوٹا سے راکٹ ایک بڑی مواصلاتی سیٹلائٹ کو خلاء
میں لے جائیں گے جس سے بہت سی معلومات کو حاصل
کیا جا سکے گا۔
رادھا کرشنن کے مطابق چونکہ یہ ٹیکنالوجی ایک
ملک نے دوسرے ملک کے دباؤ کے سبب بھارت کو نہیں
دی تھی‘اس لیے اسے بھارت میں تیار کیا گیا ہے‘
اس کا بہتر جواب یہ ہے کہ آپ خود اس ٹیکنالوجی
کو تیار کرلیں۔
رادھا کرشنن کے مطابق چونکہ یہ ٹیکنالو جی ’ایک
ملک نے دوسرے ملک کے دباؤ کے سبب بھارت کو نہیں
دی تھی‘اس لیے اسے بھارت میں تیار کیا گیا ہے‘
اس کا بہتر جواب یہ ہے کہ آپ خود اس ٹیکنالوجی
کو تیار کرلیں۔‘
یہ سنہ انیس سو ترانوے کی بات ہے جب روس نے
امریکہ کے سخت دباؤ پر بھارت کو کرائیوجنک انجن
کی ٹیکنالوجی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ امریکہ
کا خیال تھا کہ بھارت اس ٹیکنالوجی کا استعمال
میزائل بنانے کے لیے کرے گا۔
بھارت اس سے پہلے سیٹلائٹ کے لانچ کے لیے روس کی
جانب سے فراہم کردہ گغے انجن کا استعمال کرتا
رہا ہے لیکن اس کامیابی سے وہ روس، امریکہ،
جاپان اور چین جیسے ملکوں کی فہرست میں شامل
ہوگیا ہے جن کے پاس کرائیوجنک انجن کی ٹیکنالوجی
موجود ہے۔
بھارت کو امید ہے کہ اگر وہ اس میں پوری طرح
کامیاب رہا تو پھر سیٹلائٹ لانچ کے لیے دنیا میں
جو اربوں ڈالر کا بازار ہے اس میں وہ بھی داخل
ہو جائے گا۔
|
قومی
اسمبلی نے جمعرات کو آئین میں 18 ویں ترمیم کی
دو تہائی اکثریت سے منظوری دے دی ہے ۔آئینی
ترمیم کی حمایت میں292 اراکین نے اپنا حق رائے
دہی استعمال کیا ۔ ترمیم کی منظوری کے لیے ڈویژن
کی بنیاد پر رائے شماری کرائی گئی ۔ رائے شماری
سے قبل ایوان سے باہر ارکان کے لیے پانچ منٹ تک
گھنٹیاں بجائی گئیں اور مقررہ وقت کے بعد ایوان
کے داخلی دروازے بند کر دیئے گئے ۔ترمیم کی
حمایت کرنے والے اراکین رائے شماری کے لیے ایوان
کی دائیں لابی میں چلے گئے ۔ سپیکر نے ووٹنگ کے
نتیجہ کا اعلان کیا۔ 292 ۔ووٹوں سے 18 ویں ترمیم
منظور کر لی گئی ہے ۔ کسی رکن نے بھی مخالفت
نہیں کی ۔ آئینی ترمیم کے تحت تیسری بار وزیر
اعظم اور وزیر اعلیٰ بننے پر عائد پابندی ختم کر
دی گئی ہے ۔ 17 ویں ترمیم 58 ٹو بی منسوخ ہو
گئیں ہیں۔ آئین توڑنے کے جرم کو بغاوت قرار دے
دیا گیا ہے ۔ جنرل پرویز مشرف کی 3 نومبر
2007ءکی ایمرجنسی اور پی سی او کو غیر آئینی
قرار دے دیا گیا ہے ۔صوبہ سرحد کا نام خیبر
پختونخوا رکھ دیا گیا ہے ۔ فوج میں سر براہان کو
تقرریوں کے اختیارات وزیر اعظم کو حاصل ہو گئے
ہیں۔ کنکرنٹ لسٹ منسوخ کر دی گئی ہے ۔ صوبوں کو
خدمات پر سیلزٹیکس کی وصولی کا اختیار حاصل ہو
گا۔ بندرگاہوں پر وفاق اور صوبوں کا مشترکہ
کنٹرول ہو گا۔ مشترکہ مفادات کونسل فعال ہو جائے
گی۔ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرریوں کے لیے دو
الگ الگ سات رکنی جوڈیشل اورآٹھ رکنی پارلیمانی
کمیشن تشکیل پائیں گے ۔ 18 ویں ترمیم کی منظوری
کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس دن بھر جاری رہا ۔
اجلاس میں پہلی شق کو 255 ووٹوں سے منظور کیا
گیا۔شق 2 جو کہ ایل ایف او 2002 ءکی منسوخی کے
بارے میں ہے کو 258 ووٹوں سے منظور کیا گیا ۔ شق
3 کو خیبر پختونخوا کے بارے میں ہے کو 264 ووٹوں
سے منظور کیا گیا۔ شق کے خلاف 20 وو ٹ آئے ، شق
4 کو 286 ووٹ سے منظور کیا گیا یہ آئین کے
آرٹیکل 6 کے بارے میں ہے جس کے دائرہ کار کوسیع
کیا گیا ہے شق 5 کو 286 سے ووٹ منظور کیا گیا
جبکہ شق 6 کو 287 ووٹوں سے منظور کیا گیا یہ
سیاسی جماعتوں کے بارے میں ہے ۔ ترمیم کی مخالفت
میں 6 ووٹ آئے ۔ شق 7 کو 276 ووٹوں سے منظور کیا
گیا شق 8 کو جو کہ خواتین کی نشستوں کے بارے میں
ہے کو265 ووٹوں سے منظور کیا گیا ۔ چار مخالفت
میں ووٹ آئے ۔ شق 9 کو جوکہ 5 سے 16 سال عمر کے
بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی کے بارے میں ہے کو
273 ووٹوں سے منظور کیا گیا شق 10 کو 274 سے 11
شق کو 268 ووٹوں سے منظور کیا گیا شق 12 جو کہ
صوبوں کی آمدن بڑھانے سے متعلق ہے کو 273 سے
منظور کیا گیا شق 13 کو بھی 273 ووٹوں سے منظور
کیا گیا ۔ شق 14 جو کہ وزیراعظم کے اختیارات سے
متعلق ہے کو 272 ووٹوں سے منظور کیا گیا ۔ شق 15
کو 272 دونوں سے منظور کیا گیا اس شق کے تحت صدر
اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں فوری طور پر عام
انتخابات کے انعقاد کا علان کریں گے جبکہ
ریفرنڈم کے لیے وزیر اعظم کو مشترکہ اجلاس سے
منظوری حاصل کرنا ہوگی شق 16 کو 273 ووٹوں سے
منظور کیا گیا ۔ شق 17 جو کہ 58 ٹو بی کی منسوخی
کے بارے میں کو 259 سے منظور کیا گیا شق 18 کو
278 ووٹوں سے منطور کیا گیا ۔ یہ شق سینٹ کی
نشستوں میں اضافے کے بارے میں ہے ۔ سینٹ نشستیں
100 سے بڑھا کر 104 کردیا گیاہے ۔ شق19 کو 279
ووٹوں سے منظور کرکے سینٹ کے ایام کار 110 کر
دئیے گئے ہیں ایوان نے شقوں 20 ، 21 اور 22 جو
اراکین پارلیمنٹ کی اہلیت و نااہلیت سے متعلق
ہیں کو بھی اتفاق رائے سے منظور کرلیا شق 23 کی
منظوری سے سینٹ قومی اسمبلی میں کسی بل پر
تنازعہ کی صورت میں اسے پارلیمنٹ کے مشترکہ
اجلاس میں پیش کیا جائے گا ۔ یہ شق 281 ووٹوں سے
منظور کی گئی24 ،24 شقوں کو بھی منظور کرلیا گیا
۔شق 26 کو 280 ووٹوں سے منظور کیا گیا شق 27 کے
حق میں 281 ووٹ آئے ۔ اس شق کے تحت سینٹ ،قومی
اسمبلی کے اجلاسوں کی صورت میں صدارتی آرڈنینس
جاری نہیں ہو سکے گا شق 28 کی منظوری بھی دیدی
گئی ہے ۔ جس کے تحت صدر وفاق کی علامت ہو گا۔
عاملانہ اختیارات وزیراعظم استعمال کر
سکیںگے۔ایوان نے ترمیمی بل کی شق 29 جوکہ تیسری
بار وزیراعظم بننے کی پابندی ختم کرنے سے متعلق
ہے کو 282 ووٹوں سے منظور کیا شق 30 جو کہ
کابینہ کے حجم کے بارے میں ہے ۔ کو 283 ووٹوں سے
منظور کیا گیا۔ کابینہ ، اراکین پارلیمنٹ کے 11
فیصد کے تناسب سے تشکیل پائے گی۔ 31 شق کو بھی
283 ووٹوں سے منظور کیا گیا ۔ شق 32 جو کہ
اٹارنی جنرل کے عہدے سے متعلق ہے کو بھی اتفاق
رائے سے منظور کرلیا ۔ شق کے تحت اٹارنی جنرل
پرائیویٹ پریکٹس نہیں کرسکے گا۔ شق 33 کے تحت
صدر وزیراعظم کی مشاورت سے گورنرز کا تقرر کر
سکیں گے گورنر کا متعلقہ صوبے کا ووٹر ہونا
آئینی تقاضا ہو گا۔ شق 34 کو بھی اتفاق رائے سے
منظور کرلیا گیا ۔ اس شق کے تحت گورنرز کی عدم
موجودگی میں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز قائم
مقام گورنر کے فرائض انجام دیں گے۔ شق 35 صوبائی
اسمبلیوں کی تحلیل کے بارے میں ہیں جو صرف
وزیراعلی کی مشاورت سے توڑی جا سکیں گی ۔شق 36
صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے بارے میں ہے شق 37
صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے بارے میں وزیراعلی کی
ایڈوائس سے متعلق ہے ۔ گورنر کی جانب سے اسمبلی
نہ توڑنے پر وزیراعلی کی ایڈوائس پر 48 گھنٹوں
بعد اسمبلی تحلیل تصور ہو گی ۔ شق 38 شق 39 کو
بھی دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا گیا ۔ شق 40
صوبائی اسمبلیوں کے ایام کار سے متعلق ہے ۔
صوبائی اسمبلیوں کے ایام کار 70 سے بڑھا کر 100
کر دئیے گئے ہیں۔ سپیکر نے 18 ویں ترمیم کی شقوں
50,49,48,47,46,45,44,43,42,41 اور 51 کو ایوان
میں منظور ی کے لیے پیش کیا جن کی ایوان نے
اتفاق رائے سے منظور ی دیدی ۔ شق 51 کے تحت آئین
سے کنکرنٹ لسٹ منسوخ کردی گئی ہے ایوان میں
58,57,56,55,54,53,52 کی شقوں کو بھی اتفاق رائے
سے منظور کیا گیا ۔ شق 58 کے تحت صوبوں کو بھی
پن بجلی کے منصوبے شروع کرنے کا اختیار حاصل ہو
گیا ہے ۔ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے بل کی
شق کو 283 ووٹوں سے منظور کیا گیا کسی رکن نے
شقوں کی مخالفت نہیں کی ۔ بل کی شق 60 کو 284 61
کے حق میں 284 ، 62 کے حق میں 283 جبکہ شق 63 کے
حق میں بھی 283 ارکان نے اپنے ووٹ کا استعمال
کیا ۔ 64 کے حق مین 280 ووٹ آئے ۔ شق 65 جو کہ
معدنیات کے بارے میں 284 ووٹوں سے منظوری کی گئی
اس شق میں عبدالقادر بلوچ نے مخالفت میں ووٹ
دیا۔شق 66 کو بھی اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا
۔ قیام عمل میں آگیا ہے اس شق کو 285 ووٹوں سے
منظور کیا گیا 67 شق کے تحت ججوں کی تقرری کے
لیے آئین میں طریقہ کار کو تبدیل کردیا گیا ۔ شق
کو 284 ووٹوں سے منظور کیا گیا ۔ شق 67 کے تحت
آئین کے آرٹیکل 175 میں ترمیم کی گئی ججوں کی
تقرری کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی
میں سات رکنی جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے گا۔ 8
رکنی چار ہائی کمیشن قائم ہوں گے شق 68 کو 284 ۔
شق 69 کو بھی 284 ، شق 70 کو بھی 286 اور 71 کو
286 ووٹوں سے منظور کیا گیا ۔ شق میں ہائی کورٹ
کے دائرہ اختیار کیا گیا ، شق میں ہائی کورٹس کے
دائرہ اختیار کی وضاحت کی گئی شق کے تحت اسلام
آباد میں ہائی کورٹس جبکہ مینگورہ تربت ہائی
کورٹ کے بینچ قائم ہوں گے۔72 شق کو 284 ووٹوں سے
منظور کیا گیا ۔ 73 شق کے حق میں 287 ووٹ آئے ۔
شق 74 کے تحت چیف جسٹس شرعی عدالت کی اہلیت کی
وضاحت کی گئی ہے ۔ شق 75 کو284 ، شق 76 کو 285
ووٹوں سے منظور کیا گیا ۔ شق 77 جو کہ الیکشن
کمیشن کے بارے میں 2 ۔ ترمیم کے تحت چیف الیکشن
کمشنر کو وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی
مشاورت سے مقرر کیا جائے گا اور حتمی منظوری
پارلیمانی کمیٹی دے گی اس شق کو متفقہ طور پر
منظور کرلیا گیا ۔ شق کے حق میں284 ووٹ جبکہ شق
78 کے حق میں بھی 285 جبکہ 79 کے حق بھی 285 ووٹ
آئے ۔ شق 80 کے حق میں 286 ووٹ ، شق 81 کے حق
میں 285 ، شق 82 کے حق میں 280 و و ٹ آئے ۔ شق
83 جو کہ نگران حکومت کے بارے میں ہے کو 289
ووٹوں سے منظور کیا گیا اس شق میں حکومت کی
معیاد پوری ہونے پر صدر عام انتخابات کے لیے
وزیراعظم ، قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے نگران
وزیراعظم نامزد کریںگے۔ 84 شق کو 276 ووٹوں سے
منظور کیا گیا ۔ 85 کو 277 ووٹوں سے منظور کیا ۔
شق 86 جسے 275 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ ہنگامی
حالات کے نفاذ کے بارے میں ہے کے حوالے سے قومی
و صوبائی اسمبلیوں کی قرار داد وںکو لازمی قرار
دیا گیا ہے ۔ شق 87 کو بھی د و تہائی اکثریت سے
منظور کرلیا گیا۔ شق 88 پارلیمنٹ کے مشترکہ
اجلاس کے بارے میں ہے ۔ 276 ارکان نے حمایت کی ۔
89 شق فیڈرل سروس کمیشن کی تقرری کے بارے میں ہے
۔و زیراعظم کی مشاورت ہی سے صدر ، چیئرمین فیڈرل
پبلک سروس کمیشن کا تقرر کرسکیں گے۔فوج میں اعلی
تقرریوں سے متعلق شق 90 کو 276 ووٹوں سے منظور
کیا گیا ۔ شق چیف آف کراچی سٹاف ، چیئرمین
جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ، دیگر فوجی سربراہان
کی تقرریوں کے بارے میں ہے ان تقرریوں کا اختیار
وزیراعظم کو مل گیا ہے ۔ 91 ، 92 شقوں کو بھی
دوتہائی اکثریت سے منظور کرلیا گیا ۔ 94,93 کو
بھی منظور کرلیا گیا ۔ 95 شق کے تحت جنرل
ضیاءالحق کا نام خارج کردیا گیا ہے شق کو 276
ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ شق 96 کے تحت جنرل مشرف
کی 3 نومبر 2007 ءکے پی سی او اور ایمرجنسی کو
غیر آئینی قرار دیدیا گیا ہے۔ 97 ، 98 ،99 ، 100
، 101 ، 102 شقوں کو بھی دو تہائی اکثریت سے
منظور کیا ۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم سید یوسف رضا
گیلانی نے کہا ہے کہ 18 ویں ترمیم کی منظوری سے
ملک میں پارلیمنٹ کی بالا دستی قائم ہو گئی ہے ۔
حقیقی معنوں میں ملک وفاقی پارلیمانی نظام کے
راستے پر گامزن ہو گیا ہے ۔ مفاہمتی پالیسی کو
جاری رکھیں گے ۔ اب قوم اپنے دیگر مسائل کے حل
کی منتظر ہے ۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے
وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی میں کہا جاتا تھا کہ
یہ ہاﺅس خود مختار نہیں ہو سکتا اور یہ ربڑ
سٹیمپ ہے ۔ ایوان نے اپنی آزادی و خود مختاری کو
ثابت کر دیا ہے ۔ہاﺅس کو خود مختار بنانے کے
خواب کی تکمیل ہو رہی ہے ۔ ہم نے مفاہمت کی
پالیسی اختیار کی ۔ ہم پر تنقید کی گئی مفاہمت
کو کمزوری بھی قرار دیا گیا مگر ہم نے مفاہمانہ
پالیسی کو اختیار کیے رکھا۔ آج پوری قوم اکٹھی
ہے ۔ قومی مفاہمت بہت بڑی پیشرفت ہے ۔ ملک و قوم
کے مفاد کے لیے سب اکٹھے ہیں۔ 18 ویں ترمیم کی
منظوری غیر معمولی بات نہیں ہے ۔1973ءکے آئین کے
بعد پارلیمنٹ نے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ۔
آمریتوں کی لائی گئی ترامیم ختم کر دی گئی ہیں۔
آج پارلیمنٹ نے قوم کی نمائندگی کا حق ادا کردیا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد
علی جناح رحمتہ اﷲ علیہ ، ذوالفقار علی بھٹو،
میثاق جمہوریت کے مطابق بے نظیر بھٹو ، نواز
شریف اور پوری قیادت کی جو سیاسی بصیرت تھی اس
کا مظاہرہ کیا گیا ہے ۔ ناممکن کو ممکن بنا یا
گیا ہے ۔ پارلیمنٹ کی بالا دستی قائم ہو گئی ہے
۔ پارلیمنٹ کی بالا دستی سے ملک مضبوط ہو گا۔ یہ
آخری اقدام نہیں ہے ۔عوام ملکی معاملات کے حوالے
سے مزید اقدامات چاہتے ہیں۔ مفاہمت کی پالیسی کے
تحت ملک وقوم کے مفاد میں جو ہو گا کر گزریں گے
۔انہوںنے کہا کہ ہم اقتدار میں آنے والی نسلوں
کا سوچ رہے ہیں۔ اس آئینی ترمیم پر آنے والی
نسلیں فخر کریں گی۔ملک و قوم کو صحیح سمت دی گئی
ہے ۔ قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ سیاسی قیادت میڈیا
کی رہنمائی سے کچھ سیکھیں ہیں۔ا س حوالے سے ہمیں
کوئی احساس کمتری نہیں ہے ۔18ویں ترمیم لائن آف
ایکشن ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو طاقتور
بتایا گیا ہے ۔ طاقت کا سر چشمہ عوام ہی ہیں۔
عوام کے نمائندوں کی طاقت عوام کی طاقت ہے ۔
عوام کے مسائل بہت زیادہ ہیں ان میں مایوسی بھی
ہے ۔ وہ انتخابی منشور پر عملدرآمدکی منتظر ہیں۔
حکومت اپنے وسائل میں رہتے ہوئے ملک وقوم کی
حکومت کرے گی ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی
نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالا دستی سے تمام اداروں
کی طاقت بھی بڑھے گی ۔ 18 ویں ترمیم کے تحت وزیر
اعظم اور وفاقی کابینہ کو دونوں ایوانوں میں
جوابدہ ہیں۔ ہماری ذمہ داری بھی بڑھ گئیں ہیں۔
صدر پاکستان قوم کو 18 ویں ترمیم کی منظوری پر
مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ملک کو وفاقی پارلیمانی
نظام کے راستے پر گامزن کر دیا ہے خطے کی سیاست
میں یہی نظام کامیاب ہو سکتا ہے ۔ آمروں کے آئین
کوچوںچو جو کا مربہ بنا دیا تھا۔ حقیقی معنوں
میںوفاقی پارلیمانی نظام قائم ہو گیا ہے ۔ ایوان
صدر اور پارلیمنٹ کے درمیان اختیارات میںتوازن
پیدا ہو گیا ہے ۔
|
|
|
|
|
|
|
|
تاریخ
اشاعت:2010-04-07 |
|
جوہری صلاحیت میں کامیابی،ایران میں 9 اپریل کو
جشن
|
قومی اسمبلی میں عدلیہ پر تنقید، فیصلے نہیں
مانیں گے۔ ارکان کی تقریریں
|
|
ایران نے جوہری
صلاحیت کی خوشی میں دو دن جشن کا اعلان کر دیا ۔تفصیل
کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ منوچر متقی نے تہران
میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران دو
دنوں میں اپنے جوہری مقاصد حاصل کرنے کی خوشی
منائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری
پروگرام سویلین مقصد کے لئے ہے۔ انہو ں نے کہا
کہ جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ ایک سنگین مسئلہ ہے
، ایران جوہری عدم پھیلاؤ کی حمایت کرتا ہے اس
سلسلے میں 16 اور 17 اپریل کو تہران میں ایک
کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں یہ بات ہوگی کہ
توانائی کے لئے جوہری ٹیکنالوجی سب کے لئے جوہری
ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کسی کے لئے نہیں ہونی
چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے چیک ری
پبلک میں ایٹمی ہتھیاروں کی عدم پھیلاؤ کی بات
کی تھی جس کی ہم نے حمایت کی تھی
ایٹمی
کانفرنس،چین امریکہ سے پاکستان کیساتھ سول جوہری
معاہدہ کا مطالبہ کریگا
واشنگٹن میں ہونیوالی جوہری توانائی کے عدم
پھیلاو کی عالمی کانفرنس میں چین اور پاکستان
مشترکہ حکمت عملی کے تحت شریک ہونگے۔ تفصیل کے
مطابق قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم سید
یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس
ہوا جس میں چین میں تعینات پاکستانی سفیر مسعود
خان نے واشنگٹن میں ہونیوالی جوہری توانائی کے
عدم پھیلاو کی عالمی کانفرنس کے بارے میں
بریفننگ دی۔ اطلاعات کے مطابق واشنگٹن میں
ہونیوالی جوہری توانائی کے عدم پھیلاو کی
عالمیکانفرنس میں چین پاکستان کی حمایت کریگا
اور پاکستان اور چین مشترکہ حکمت عملی کے تحت
کانفرنس میں شریک ہوں گے اور چین امریکہ سے کہے
گا کہ بھارت کی طرح پاکستان کے ساتھ بھی سول
نیوکلیئرٹیکنالوجی کا معاہدہ کیا جائے۔اس موقع
پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ
پاکستان سول نیوکلیئرٹیکنالوجی کے حصول کے لئے
ہرلحاظ سے اہل ہے اورجوہری ٹیکنالوجی سے بجلی
کاحصول حکمت عملی کاحصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ
پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے اچھی طرح آگاہ ہے،
جوہری اثاثوں کی حفاظت کا ناقابل تسخیر نظام
رائج کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت
دفاع، کشمیر اور جوہری توانائی سمیت اہم معاملات
پر تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لے کر آگے
بڑھے گی۔
|
قومی
اسمبلی میں اٹھارویں ترمیم پر بحث کے دوران
گزشتہ روز ارکان نے عدلیہ کو شدید تنقید کا
نشانہ بنایا اور کہا کہ ماضی میں ہمیشہ عدلیہ نے
آمروں کو آئین میں ترامیم کی اجازت دی۔ عدلیہ پر
تنقید کرنے والوں میں نیشنل عوامی پارٹی،
مسلملیگ (ن) اورپیپلز پارٹی کے ارکان بھی شامل
تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نیشنل عوامی
پارٹی کے رہنماءغلام احمد بلور نے کہا کہ عدلیہ
کو پارلیمنٹ کے فیصلوں کا مذاق اڑانے کی اجازت
نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدلیہ
پارلیمنٹ کے فیصلوںکا احترام نہیں کرے گی تو ہم
بھی عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کے پابند
نہیں ہونگے۔اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے تمام
سیاسی جماعتوں کے ارکان نے صدر آصف علی زرداری
کو خراج تحسین پیش کیا ۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے
مسلم لیگ (ق ) کی رکن ماروی میمن نے کہا کہ
اگرچہ انہیں اٹھارویں ترمیم کی بعض شقوں پر
اعتراض ہے لیکن اس کے باوجود ان کی جماعت ترمیم
کے حق میں ووٹ دے گی۔ایم کیو ایم سمیت کئی دوسری
جماعتوں کے ارکان نے بھی اٹھارویں ترمیم کی بعض
شقوں پراپنے تحفظات کا اظہار کیا تاہم مجموعی
طور پر بل کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔توقع ہے کہ
جمعرات کے روز اٹھارویں ترمیم کے آئینی بل کی شق
وار منظوری شروع ہو جائے گی جس کے بعد بل سینٹ
کو بھیج دیاجائے گا۔
|
|
|
|
|
|
|
|
تاریخ اشاعت:2010-04-01 |
|
بچوں کے
لیے لازمی تعلیم کا قانون |
اٹھارویں ترمیم کے مسودے پر اتفاق، سرحد کا نام
خیبر پختونخواہ |
ہندوستان میں
بچوں کے لیے لازمی تعلیم کے قانون پروزیراعظم
منموہن سنگھ کے اس وعدے کے ساتھ جمعرات سے
عملدرآمد شروع ہوگیا ہے کہ سکیم کے اطلاق کی راہ
میں فنڈز کی کمی کو رکاوٹ نہیں بنے دیا جائے گا۔
بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کو ان کے
بنیادی حق کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے بھارت کے
آئین میں ترمیم سن دو ہزار دو میں ہی کر دی گئی
تھی لیکن اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے قانون
گزشتہ برس منظور کیا گیا تھا۔
نئے قانون کے اطلاق کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے
ہوئے من موہن سنگھ نے کہا ہے کہ ’حکومت اس بات
کو یقینی بنائے گی کہ ہر بچے کو، چاہے اس کا
تعلق کسی بھی جنس اور سماج کے کسی بھی طبقے سے
ہو، تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔۔۔میں چاہتا ہوں کہ
ہر ہندوستانی ایک بہتر مستقبل کاخواب دیکھے اور
اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرے۔‘
رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کے تحت چھ سے چودہ سال کے
بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔ بتایا جاتا
ہے کہ اس سکیم کے تحت تقریباً ایک کروڑ بچے
تعلیم حاصل کرسکیں گے۔
من موہن سنگھ نے اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے کہا
کہ وہ بچپن میں لالٹین کی روشنی میں پڑھا کرتے
تھے اور انہیں اپنے سکول تک پیدل جانا پڑتا تھا
جو ان کے گھر سے کافی دور تھا ’میں آج جو کچھ
بھی ہوں، اپنی تعلیم کی وجہ سے ہوں۔‘
لیکن مبصرین کے مطابق دیہاتی علاقوں میں آج بھی
سکول کافی فاصلے پر واقع ہیں جس کی وجہ سے اس
قانون کا اطلاق آسان نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ ان
کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے ابھی تک یہ واضح
نہیں کیا ہے کہ قانون کے اطلاق کے لیے درکار
خطیر رقم کا انتظام کیسے کیا جائے گا۔
جواب میں انسانی وسائل کے وزیر کپل سبل نے کہا
ہے کہ’ فنڈز کی دستیابی کوئی مسئلہ نہیں۔ ریاستی
حکومتوں کے پاس پیسے کی کمی نہیں ہے۔‘
|
آ ئینی
اصلاحات کمیٹی کے اراکین نے اتفاقِ رائے کے بعد
اٹھارویں ترمیم کے مسودے پر دستخط کردیے ہیں۔
ترمیم میں صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ اور
ججوں کی تقرری پر کمیشن میں اضافی ممبر کی
تجاویز شامل ہیں۔
جمعرات کو اسلام آباد میں اصلاحاتی کمیٹی کے
سربراہ اور پیپلز پارٹی کے رہنما میاں رضا ربانی
نے سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو
اٹھارویں ترمیم کا مسودہ پیش کر دیا ہے۔تاہم یہ
نہیں بتایا گیا کہ کس روز یہ مسودہ منظوری کے
لیے اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
اس موقع پر میاں رضا ربانی نے میڈیا سے بات کرتے
ہوئے کہا کہ وفاقی اور جمہوری پاکستان کی بنیاد
کو سامنے رکھتے ہوئے صوابدیدی اختیارات ختم کر
کے اداروں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔
یاد رہے کہ اصلاحاتی کمیٹی کا مینڈیٹ فوجی
سربراہان کے دور میں متعارف کردہ ترامیم ختم
کرکے آئین کو انیس سو تہتر والی شکل میں بحال
کرنا ہے۔ یہ کمیٹی صدر کے اختیارات وزیراعظم اور
پارلیمان کو سونپے جانے اور اسمبلی توڑنے کے
بارے میں صدر کا اختیار ختم کرنے پر بھی کام کر
رہی تھی۔
اٹھارویں ترمیم کے مسودے پر گزشتہ ماہ مارچ کی
پچیس تاریخ کو دستخط ہونے تھے لیکن پاکستان مسلم
لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ
ججوں کی بھرتی کے طریقہ کار اور صوبہ سرحد کے
نام پر اتفاق نہیں ہو سکا۔
کینیڈا کا افغانستان میں فوجی مشن میں توسیع
سےانکار
روسی ریاست داغستان میں دھماکے ،12 افراد ہلاک
نیب کا زرداری کیخلاف سوئس مقدمات دوبارہ کھولنے
کیلئے خط،جنیوا کی تردید
بھارتی ایئرچیف کا پاکستان کیلئے امریکی امداد
پراظہارتشویش
ہزاروں جعلی پاسپورٹس کے استعمال پرموساد کے
خلاف تحقیقات
جی 8 کا پاک افغان سرحد کے مکینوں کیلئے معاشی
منصوبہ
صدر عرب امارات کے لاپتہ بھائی کی لاش برآمد
بینظیر قتل کیس ،اقوام متحدہ تحقیقاتی کمیشن کی
رپورٹ حکومت کے کہنے پر روک لی گئی
جعلی ڈگری پر الیکشن لڑنے والوں کو سزا دینے کی
تجویز
جوہری پروگرام ،چین ایران پر پابندیوں کا حامی
ہے،ہیلری
یمن: امریکہ کا نیا محاذ، کمانڈ وز اتار د ئیے
|
|
ترک صدر کا لاہور میں
شاندار استقبال
|
افغانستان میں ایران
سےاسلحہ لایا جا رہا ہے، مائیک مولن
|
|
ترک صدر عبداللہ
گل دو روزہ دورے پر لاہور پہنچ گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، گورنر سلمان تاثیر
، اور صوبائی وزرا نے ایئرپورٹ پر ترک صدر
عبداللہ گل کا استقبال کیا۔اس موقع پر بینڈباجوں
کے ساتھ ان کے استقبال کیلئے مال روڈ کو
خیرمقدمی بینروں اور قد آور تصاویراورپرچموں سے
سجایاگیا۔ اس موقع پر فوج اور پولیس اور
انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔ ترک
صدر مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف اور
وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی کی جانب سے اپنے
اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے میں شرکت کریں گے ۔ |
امریکی فوج کے
سربراہ ایڈمرل مائیک مولن نے الزام لگایا ہے کہ
افغانستان میں ایران کے راستے اسلحہ لایا جا رہا
ہے ۔ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل
مائیک مولن نے قندھار اور کابل کا دورہ کیا ۔ اس
موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہو ئے انہوں نے
الزام عائد کیا کہ افغانستان میں ایران سے اسلحہ
آ رہا ہے اور تہران پڑوسی ملک میں منفی انداز می
اپنا کردار بڑھا رہاہے ۔ ایک سوال کے جواب میں
انہوں نے کہا کہ نیٹو فوج قندھار میں آپریشن کی
تیاریاں کر رہی ہے کیونکہ قندھار پر کنٹرول کرنے
کے بعد ہی افغان |
|
برطانوی پارلیمنٹ کا
اسرائیل کواسلحہ فراہمی پرنظرثانی کا مطالبہ
|
سوئس حکا م کو خط
وزیراعظم کی منظوری سے بھیجنا چاہیےتھا، سپریم
کورٹ |
|
برطانوی پارلیمنٹ
میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں حکومت سے مطالبہ
کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت
روکنے کے لیے اقدامات کرے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے
کہ اسرائیل نے دسمبر2008 اور جنوری 2009 کے
دوران غزہ پرحملے کے دوران غیر قانونی طور
پربھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے برطانوی
ساختہ اسلحہ بھی استعمال کیا، جس کے بعد حکومت
کے لیے ضروری ہے کہ وہ تل ابیب کو اسلحہ کی
فروخت کے تمام معاہدے منسوخ کرتے ہوئے اسے ہرقسم
کے ہتھیاروں اور فوجی سامان کی فراہمی پر پابندی
لگا دے۔یہ رپورٹ پارلیمنٹ کی"اسٹریٹیجک ایکسپورٹ
کنٹرول" کمیٹی میں ٹ پیش کی گئی ہے۔ جس میں
رپورٹ غزہ جنگ کے دوران برطانوی ساختہ اسلحے کے
بے دریغ استعمال پرگہری تشویش اور اس سے ہونے
والی ہلاکتوں پرافسوس کا اظہار کیاگیا ہے۔ رپورٹ
میں کہاگیا ہے کہ یہ بات کس قدر افسوسناک ہے کہ
اسرائیل نے غزہ جنگ کے دوران غیر قانونی طور پر
اسلحہ کا اندھا دھند استعمال کیا، جس سے بڑے
پیمانے پرجانی و مالی نقصان ہوا۔دوسری جانب وزیر
خارجہ ڈیوڈملی بینڈ نے اعتراف کیا ہے کہ قابض
اسرائیلی فوج کے برطانیہ کی جانب سے فراہم کردہ
اسلحہ کو غزہ جنگ میں استعمال کرنے کا امکان
موجود ہے۔ |
سپریم کورٹ نے
سوئس حکام کو لکھے گئے خط کو غیر تسلی بخش
قراردےدیا چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی
سربراہی میں سپریم کورٹ کے7رکنی بنچ نے این آر
او فیصلے پر عمل درآمد کے مقدمہ کی سماعت کی ۔
این آر او کیس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا سوئس حکا م
کو خط وزیر اعظم کی منظوری سے بھیجنا چاہیے تھا
۔ سوئس مقدمات کھلوانے کیلئے دوبارہ دستاویزات
مرتب کی جائیں ۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا
کہ نیب کا خط ، وزارت قانون کے پاس بھی ہے جسے
قانونی طریقہ کار سے بھیجا جائے گا ، جسٹس طارق
پرویز نے کہا کہ سوئس کیسز کی بحالی پر خط حکومت
پاکستان کی طرف سے جانا چاہیے تھا، جسٹس خلیل
الرحمن رمدے نے ریمارکس میں کہا کہ سوئس حکام ،
نیب کے قانون کو نہیں مانتے۔ سپریم کورٹ نے
دوبارہ دستاویزات ایک بجے پیش کرنے کا حکم دے
|