WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309
 

Email:-   jawwab@gmail.com

Telephone:-  1-514-250-3200       

                                                                                                            

 
تاریخ اشاعت:-26-07-2010
 ڈاکٹر صبا حت عا صم وا سطی کی کتاب
ترا ا حسان غزل ہے کی تقر یبِ رو نما ئی
(
ابو ظبی۔یو اے ای) ڈاکٹر صبا حت عا صم وا سطی کی کتاب ترا ا حسان غزل ہے کی تقر یبِ رو نما ئی کی انتہا ئی خو بصورت اور دلکش شام کا انعقاد ایک مقا می ہو ٹل میں کیا گیا جس میں متحدہ ا ما رات ، کو ئت۔ انگلینڈ۔ امر یکہ اور پا کستان سے نا مور شعرا نے شر کت کر کے تقریب کی خو بصو رتی میں چار چا ند لگا د ئیے ۔ تقر یب کی صدارت کی سعا دت سفیرِ پا کستان خو رشید احمد جو نیجو کے حصے میں آئی جو پاکستانیو ں کے ہر دل عز یز سفیر بھی ہیں اور ان میں انتہا ئی مقبو ل بھی ہیں۔ اپنی گو نا ں گوں مصرو فیات میں سے انھوں نے جس طرح اس تقریب کے لئے وقت نکا ل کر اس تقریب کے وقار میں اضا فہ کیا اس پر منتظمین ان کے تہِ دل سے ممنو ن و مشکو ر ہیں۔ ڈاکٹر صبا حت عا صم وا سطی ایک نا مور شا عر ہی نہیں بلکہ ابو ظبی کی جا نی پہچا نی شخصیت بھی ہیں ۔ محبتیں با نٹنے اور محبتیں سمیٹنے کے فن سے بخو بی آگا ہ ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے اعزاز میں منعقد ہ اس تقریب میں ان کے چا ہنے وا لو ں نے دل کے پو رے جذ بو ں سے شر کت کی اور شعرا کو دل کھو ل کر داد سے بھی نوازا۔ ایک ایک شعر پر سا معین کا جھوم جھوم جا نا اس شام کی کا میابی کی دلیل ہے۔ پاکستان سے آ ئے ہو ئے سارے شعرا خوش قسمت تھے کہ انھیں اتنے محبت کرنے وا لے سا معین ملے جو اشعار کی پو ری رعنا عیو ں کو محسوس کر کے ان پر داد لٹا رہے تھے۔
ترا ا حسان غزل ہے کی تقر یبِ رو نما ئی کی ا س شام کے دو سیشن ہو ئے۔ پہلے سیشن میں ڈاکٹر صبا حت عا صم وا سطی کی کتاب کے حوا لے سے مضا مین پڑے گے اور واسطی صا حب کی شا عری کی مختلف جہتو ں اور محا سن کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی۔کتاب میں ا ٹھا ئے گئے فلسفے ، مو ضوع اور ترا کیب پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا گیا۔ ڈا کٹر صا حب کی شخصیت اور ان کی فکر پر سیر حا صل بحث کی گئی۔ ان کے اسلوب اور اندازِ بیا ن کو خا ص زا ویے سے دیکھنے کی کو شش کی گئی۔ ان مقا لا ت میں ڈاکٹر صبا حت عا صم وا سطی کے گھر انے کی ادبی خد مات کا ذکر بھی ہوا اور ڈا کٹر صا حب کے وا لد محترم کی ادب نوا زی اور احسان نوا زی کا ذکر بڑے بھر پور انداز میں کیا گیا۔ عباس تابش نے ڈاکٹر صبا حت عا صم وا سطی سے اپنی دوستی اور ڈا کٹر صا حب کے والد محترم سے اپنی عقیدت کا جس طرح اظہار کیا اس نے واسطی خاندان کی علمی خد مات اور قدرو منز لت میں بے پنا ہ اضا فہ کر دیا ۔ عباس تابش نے مزید کہا کہ ڈاکٹر صبا حت عا صم وا سطی کے والد محترم نے ادب کی جس طرح سے خدمت کی اور اپنے علا قے سے شعرو سخن میں طبع آزما ئی کرنے وا لے شعرا اور ادبا کی جس طرح حو صلہ افزا ئی کی اور اپنے ذا تی اثرو رسوخ سے انھیں آگے بڑھنے کے جو موا قع فرا ہم کئے اس پر میں ان کی عظمتو ں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہو ں۔ ترا ا حسان غزل ہے پرجن شخصیات نے مقا لے پڑھے ان کے نا م یہ ہیں۔۱۔ ریحا نہ قمر۔۲۔سلیم خان۔۳۔پیر محمد کلاش۔۴۔شا ہد زمان۔۵۔اوجِ کمال۔۶۔ صبیحہ صبہا ۔۷۔شکیل جا ذب۔۸۔عباس تا بش۔۹۔با صر کا ظمی۔
سفیرِ پا کستان خو رشید احمد جو نیجو نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر صبا حت عا صم وا سطی کو اتنی خو صورت تخلیق پر انھیں مبا رک باد پیش کی، انھو ں نے کہا کہ شا عر معاشرے کا ضمیر ہو تا ہے اور ا پنی شا عری سے دلو ں کو سکون عطا کرتا ہے۔ وہ امن اور محبت کا پیغام بر ہو تا ہے جس کی ہما رے معا شرے کو اس وقت اشد ضرو رت ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے چند یوم قبل ڈاکٹر صبا حت عا صم وا سطسی سے کہا تھا کہ ابو ظبی کی ادبی محفلیں آج کل قدرے دھیمی پڑی ہو ئی ہیں ذرا اس میں تحر ک پیدا کیجئے کیو نکہ ادب ہی وہ قوت ہے جو لو گو ں کو امن اور محبت کی ضما نت دیتا ہے۔ ڈاکٹر صبا حت عا صم وا سطی نے جلد ہی کسی بڑی ادبی شام کا وعدہ کیا اور آج کی یہ خو بصورت شام اسی وعدے کی ایفا یت کی عمدہ مثا ل ہے۔ سفیرِ پا کستان خو رشید احمد جو نیجو نے مز ید کہا کہ ملک میں دھشت گردی کے ما حو ل میں شعرو ادب ہی امید کی آخری کرن ہے جو محبت اور امن کی نقیب بن کرقوم کو اس اسیب سے نجات دلا سکتی ہے لہذا میری ہا ل میں بیٹھے ہو ئے شعرو ادب کے متوا لو ں سے گذا رش ہے کہ وہ ایسی خوبصو رت محفلیں زیا د ہ سے زیا دہ منعقد کر یں تا کہ نفرت کی جگہ محبت اور بد امنی کی جگہ امن ہما را مقدر بن سکے۔
کھا نے کے وقفے کے بعد مشا عر ے کا دور ہوا جس میں یو اے ای کی تمام ریا ستو ں سے شعرا نے شرکت کر کے ڈاکٹر صبا حت عا صم وا سطی سے اپنی محبت کا ثبو ت پیش کیا۔ ابو ظبی۔دبئی ۔ شارجہ۔ عجا ن ۔راس ا لخیمہ۔ فجیر ہ اور العین سے شعرا کی شرکت اس با ت کا بین ثبو ت تھی کہ ڈاکٹر صبا حت عا صم وا سطی سب شعرا ءمیں یکساں مقبو ل ہیں۔ متحدہ اما رات سے مصدق لا کھا نی،شاہ زمان کو ثر،امجد چو ہدری، سحر تاب رو ما نی، سلمان جا ذب ، طارق حسین بٹ۔ منظور حسرت۔ ایس اقبال پسر وری۔ صغیر جعفری ، مسز صبیحہ صبہ، انجم عظمی، یعقوب عنقا، خا لد نسیم، محمد عبد القدوس،صبا حت کا ظمی، فیاض ور دگ، فیاض خان (کو ئت) اور ظہو السلام جا وید نے بھی اپنا کلا م پڑھا اور خوب داد سمیٹی۔ مشا عرے کی کمپیر نگ کی ذمہ داری یو اے کے مشہو رو معروف شا عر ظہو السلام جا وید کے کندھو ں پر رکھی گئی اور انھو ں نے اس ذمہ داری کو بڑے خو بصورت انداز میں سر انجام دے کر مشا عرے کے ٹیمپو کو کسی بھی لمحے ٹو ٹنے نہیں دیا بلکہ اپنے بر جستہ اشعار سے مشا عرے کی کیفیت کو قا ئم بھی رکھا اور سا معین کے شوق کو جوان بھی رکھا ۔ بیر ونِ مما لک سے آئے ہو ئے مہمان شعرا نے اپنی خو ب صور ت شا عری سے سا معین کے دل مو ہ لئے اور انھیں اپنے سحر میں جکڑ لیا ۔ سامعین نے بھی دل کھو ل کر مہمان شعرا ءکو داد دی اور یوں ترا ا حسان غزل ہے کی تقر یبِ رو نما ئی کی خو بصورت شام کو یاد گار بنا دیا ۔ تقریب میں میاں منیر ہانس،ڈا کٹر امجد حمید ا نجم ، پرنس اقبال ، ڈا کٹر ثمینہ ، مسز شیریں درانی ، عر ض محمد شیخ نے شر کت کر کے محفل کو مز ید پر وقار بنا دیا۔
ڈاکٹر صبا حت عا صم وا سطی نے اپنی کتاب ترا ا حسان غزل ہے کی تقر یبِ رو نما ئی میں تمام حا ضرین کا شکریہ ادا کیا۔ انھو ںے کہا کہ آپ سب نے جس محبت اورجذ بو ں سے آج کی تقریب کو رونق بخشی ہے میں تہ دل سے آپ کا کا ممنو ں ہو ں اور ا پنی گو نا ں گوں مصرو فیات سے وقت نکا لنے پر آ پ کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ڈاکٹر صبا حت عا صم وا سطی نے کہا کہ ان کی شا عری کو جلا بخشنے میں ان کے وا لد محترم کا بڑا ہاتھ ہے لہذا آج کی تقریب کے ا ختمام پر اپنی غزل انہی کے نام کر رہا ہو ں مجھے امید ہے کہ وہ یہیں کہیں مجھے سن رہے ہو نگے او ر میری ادبی خدمات پر مسرور بھی ہو رہے ہو ں گے۔
یہ سا منے کو ئی میرے جیسا ہے کہ میں ہو ں۔۔آئینہ میری آنکھ کا دھو کہ ہے کہ میں ہو ں
اے صاحبِ شب تجھ سے مجھے پو چھنا یہ ہے ۔۔ہمرا ہ میرے اندھیرا ہے کہ میں ہو ں
اے خو فز دہ شخص میرے پاس چلا آ۔۔قسمت تیری اچھی ہے یہ اچھا ہے کہ میں ہوں
کھلتی ہی نہیں مجھ پہ حقیقت میری اپنی۔عاصم میرے اندر کو ئی مجھ سا ہے کہ میں ہو ں
 
تاریخ اشاعت:-23-07-2010
 

میڈیا سیل‘ تحریک استقلال

رحمت خان وردگ کی مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما مخدوم جاوید ہاشمی کی عیادت‘ اسپتال جاکر گلدستہ پیش کیا اور جاوید ہاشمی کی صحت یابی اور درازی عمر کے لئے دعا کی
مخدوم جاوید ہاشمی نے ہر دور میں حق بات کی ہے اور اللہ ان کو صحت دے
تاکہ سچ بات کہنے کا یہ سلسلہ جاری رہے
23 جولائی 2010ء لاہور (پریس ریلیز) تحریک استقلال کے مرکزی صدر رحمت خان وردگ‘ آفتاب خان وردگ اور مسلم لیگ ن کے سابق صوبائی امیدوار فضل رحمان وردگ نے اسپتال جاکر مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور ممبر قومی اسمبلی مخدوم جاوید ہاشمی کی عیادت کی۔ رحمت خان وردگ نے جاوید ہاشمی کو گلدستہ پیش کیا اور ان کی صحت یابی کے لئے دعا کی۔
رحمت خان وردگ نے جاوید ہاشمی کی صحت یابی اور درازی عمر کے لئے خصوصی دعا کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی کی صحت یابی کے لئے خصوصی دعائیں کی جائیں۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے ہر دور میں حق بات کہی ہے اور کبھی آمر کے سامنے نہیں جھکے اور اب تک ان کی سچ بات کہنے کا سلسلہ جاری ہے اور اللہ رب العزت یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رکھے۔ (آمین)
جاری کردہ
عبدالقیوم مجاہد
انچارج‘ میڈیا سیل
تحریک استقلال 0333-2176882

بلاول ہا و س کے ترجمان اعجاز درانی نے کہا ہے کہ شریف برادران اور پنجاب حکومت نے رانا مقبول کی گرفتاری کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے اور وہ پاکستان کی کسی معزز عدالت کے احکامات کی پیروی کرنے کو تیار نہیں۔ اعجاز درانی نے کہا کہ رانا مقبول کی گرفتاری کو پنجاب حکومت صرف اس لیے اپنی انا کا مسئلہ بنا رہی ہے کیونکہ اگر وہ گرفتار ہوگئے تو وہ صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کے قتل کی سازش سمیت بڑے بڑے اہم انکشافات سامنے لائیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ دوران حراست رانا مقبول نے اپنے آقا وں کے اشاروں پر نہ صرف سول لائن کراچی کے تھانے میں جناب آصف علی زرداری کو قتل کرنے کی سازش کی بلکہ انہوں نے پنجاب کی مختلف جیلوں میں بھی ٹوتھ پیسٹ کے اندر آصف علی زرداری کو زہر ملا کر قتل کرنے کی سازش کی جس کا انکشاف شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی زندگی میں کردیا تھا اور ان کے وہ بیانات آج بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ترجمان نے اس امر پر افسوس و دکھ کا اظہار کیا کہ میاں نواز شریف نے اب تک اس حساس مسئلے کا کوئی نوٹس نہیں لیا بلکہ انہوں نے اپنے بھائی میاں شہباز شریف کی جانب سے مسلسل رانا مقبول کو VVIPتحفظ فراہم کرنے پر بھی اپنے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ ترجمان نے کہا کہ موجودہ جمہوری حکومت کے دور میں ایک عام آدمی بھی منتخب پارلیمنٹ اور عدالتوں کے سامنے پیش ہوکر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر آواز احتجاج بلند کرسکتا ہے۔ کسی بھی صوبے میں ہونے والی زیادتی پر اس صوبے کی پولیس دوسرے صوبے میں جاکر متعلقہ ملزم کو آئین و قانون کے مطابق گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ امر افسوس و دکھ کا باعث ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر جناب آصف علی زرداری کے قتل کی سازش میں ملوث ایک مفرور شخص آج بھی صوبہ پنجاب میں سب سے بڑا اہم شخص بن کر عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
جاری کردہ
اعجاز درانی
میڈیا سیل، بلاول ہا وس
 
Karachi July 23, 2010: President Asif Ali Zardari today performed the ground breaking ceremony of a number of projects in Sindh including a Cadet College in Dadu, Garments City in Karachi, the Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto Chair and Convention Centre in the University of Sindh, Jamshoro besides presiding over the balloting of Waseela Haq program of the Benazir Income Support Program to extricate 700 poorest of the poor families from the vicious generational poverty cycle and a briefing on Thar coal development project. All the ground breaking ceremonies and BISP balloting were held in the Chief Minister�s House in Karachi in the presence of a gathering of people drawn from all walks of life.

Those who attended the launch of the new projects and the draw included besides the Chief Minister, the Federal and Provincial Ministers, members of Parliament, federal and provincial government officers, businessmen, academicians, Party activists and a large number of the beneficiaries of the BISP.

Briefing media Spokesperson Farhatullah Babar said that addressing the gathering on the occasion the President said that Shaheed Benazir Bhutto Chair at the Jamshoro University provided an opportunity to researchers and scholars to dig deep into the political philosophy of the Muslim World�s first elected woman Prime Minister and the twice elected Prime Minister of Pakistan which needed to collected and collated before it was misplaced or damaged by the vagaries of time 

Seldom before a victim has been transformed into a legend and become folklore so soon after departing from this world, the President said of Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto and complimented the University of Sindh for establishing the Chair and the Convention Centre as homage to her ideals and memory. Farhatullah Babar said that the President also asked for exploring the possibility of setting up Research Chair in the prestigious universities of the Muslim countries.

The President said that to pay homage to the memory of Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto it was important to promote and empower women of the country and said that the Benazir Income Support Program had been launched precisely for lifting and empowering the women.

In addition the government has decided to give free of cost the state lands in the command areas of new proposed dams to the poor women of the area, he said. Besides the Protection of Women against Harassment law had also been enacted to give a sense of security to working women.

Noting that girls from rural areas are unable to pursue higher studies in universities is because of lack of hostel facilities for them the President directed the provincial government to set up Shaheed Benazir Bhutto Girls� Hostel in University of Sindh.

President Zardari recalled that Mohtarma Bhutto had been urging investment in the people by improving the quality education and health facilities instead of building war machines and said that the government was conscious of its obligation to invest more in the social sector development.

He said that the public-private partnership model had been adopted for the economic and industrial development of the country and the Garment Cities in Karachi, Lahore and Faisalabad were the result of this policy. The setting up of the Cadet College Dadu shows our emphasis on providing quality education, he said.

Addressing businessmen gathered at the function the President said that due to the war against militancy Pakistan had suffered over 45 billion dollars of loss over the past eight years. We have urged the international community to help in our economic development through trade and not aid for fighting the menace of militancy, the President said.

We have impressed upon the west that market access will create employment opportunities in Pakistan and wean away the frustrated jobless youth from joining the extremists and militants, the President said.

The President said that in order to assist the textile industry, a limit had been set on exports of low valued yarn so that raw material was available in the domestic market for value addition in the textile secto

The President said that as a result of the policies the economy had turned around, the Stock exchange had bounced back; investors were showing confidence by investing in infrastructure projects and foreign investors were showing interest in stocks and power sector.

Earlier the President invited the office bearers of the Press Clubs of Hyderabad, Larkana and Sukkur for an informal meeting over lunch. The President was also given briefing on Thar coal project. The President said that we need to find out of box solutions and work for a right energy mix to meet our power needs. He also asked relevant authorities for a separate briefing on gasification of coal for power production, the spokesperson said.

 

تاریخ اشاعت:-22-07-2010
 بلاول ہا وس میڈیا سیل‘ تحریک استقلال
سندھ کے صوبائی مشیر اطلاعات جمیل سومرو اور بلاول ہا وس کے ترجمان اعجاز درانی نے آج شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی رہائش گاہ بلاول ہا وس میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کی جناب سے اپنے جسمانی اعضاءکے عطیہ کے اعلان کو تاریخ کا نیا باب قرار دیا ہے۔ صوبائی مشیر اطلاعات جمیل سومرو نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کے اس تاریخی فیصلے کی نہ صرف ملک کی تمام سیاسی جماعتیں بلکہ دنیا بھر کے سربراہ مملکت تقلید کریں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے فکر و فلسفے کی روشنی میں جینے کا ایک نیا راستہ دکھائیں گے۔ جمیل سومرو اور اعجاز درانی نے کہا کہ آج جناب آصف علی زرداری نے ایک مرتبہ پھر اپنی جان کو پاکستان کے مستقبل کے لیے پیش کر کے ایک تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا ہے اور انہوں نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس پیغام کو روشناس کرایا ہے کہ بھٹو خاندان کو جسمانی طور پر تو ختم کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے فکر و فلسفے کو دنیا کی کوئی بھی طاقت ختم نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ جناب آصف علی زرداری کی جانب سے دنیا کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر سید ادیب رضوی کو نوبل پرائز نامزد کرنے کا اعلان صوبہ سندھ سمیت پورے پاکستان اور دنیا بھر میں قیام پذیر مسلمانوں کے لیے فخر کا باعث ہے جس پر صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔
جاری کردہ

اعجاز درانی
میڈیا سیل، بلاول ہا وس
امریکہ افغانستان میں اپنی شکست چھپانے کیلئے بھارت کے ذریعے پاکستان پر حملہ کرانے کی سازش تیار کرچکا ہے: رحمت خان وردگ
جنرل میک مولن کے بیان کی شدید مذمت کرتا ہوں‘امریکہ نے کبھی پاکستان اور بھارت کشیدگی کم کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا
22جولائی 2010ء لاہور ( ) تحریک استقلال کے مرکزی صدر رحمت خان وردگ نے جنرل میک مولن کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارت پر ایٹمی حملوں کا خطرہ ہے۔ رحمت خان وردگ نے کہا کہ امریکہ اپنی افغانستان میں شکست کو چھپانے کے لئے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کروانا چاہتا ہے اور اس لئے اس طرح کے بیانات دیئے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی پاکستان اور بھارت کی جنگوں اور مسلسل کشیدگی کی پشت پر امریکہ ہی کارفرما ہے او رجب بنگلہ دیش کی علیحدگی کے وقت بھارت نے پاکستان پر حملہ کردیا تھا تو اس وقت بھی بھارت کو امریکہ کی مکمل آشیرباد حاصل تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ ریکارڈ ہے کہ جس جگہ بھی اس کے مفادات ہوں وہاں چاہے جنگ سے مقاصد حاصل ہوں وہاں جنگ شروع کرادی جاتی ہے اور جب امن کے قیام میں مفادات حاصل ہورہے ہوں تو فوری طور پر امن کرادیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کی مزاحمت کئی عشروں تک جاری رہی اور اس کے پس پشت امریکہ ہی تھا اور جب اس کے مقاصد حاصل ہوگئے تو اس نے سری لنکا میں تامل ٹائیگر ز کا وجود ختم کرادیا اور اس بات کا باقاعدہ اعتراف امریکہ کرچکا ہے کہ سری لنکا کی شورش کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ تھا۔ میں حکومت پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری طور پر خار جہ پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے عوام کی رائے کے مطابق خارجہ پالیسی تشکیل دی جائے اور امریکہ کے ساتھ غلامانہ طریقے کے بجائے مساوی طور پر مذاکرات کئے جائیں اور افغان ٹریڈ پالیسی کے متعلق امریکی ڈکٹیشن قطعی قبول نہ کی جائے کیونکہ پہلے ہی دہشت گردی کیخلاف امریکی جنگ میں پاکستان اربوں روپے کا نقصان برداشت کرچکا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جا ری ہے۔ اب بھارت کے ذریعے افغان ٹریڈ کے بعد پاکستان کی ٹریڈ‘ انڈسٹری اور معیشت کو بالکل تباہ و برباد کرنے کی سازش تیارکی گئی ہے۔
جاری کردہ

عبدالقیوم مجاہد
(انچارج)
میڈیا سیل‘ تحریک استقلال
0333-2176882
تاریخ اشاعت:-21-07-2010

حکومت فوری بلدیاتی انتخابات کا اعلان کرے۔ سابق ٹاﺅن ناظمین و یو سی ناظمین
Constituency Relation Group NA-240

 حلقہ تعلقاتی گروپ

NA-240

 کے زیر اہتمام فری اینڈ ٓفیئر الیکشن نیٹ ورک اور بانھ بیلی کے اشتراک سے ایک سیمینار بعنوان ”فوری بلدیاتی انتخابات کیوں ضروری ہیں ؟“ ٹیپو سلطان روڈ بلدیہ ٹاﺅن میں منعقد ہوا ۔ اس سیمینار میں کثیر تعداد میں سابق ناظمین ، سابق ٹاﺅن ناظمین ، کونسلرز، خواتین کونسلرز، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سیمینار سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے لیاری ٹاﺅن کے سابق ٹاﺅن ناظم اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما ملک محمد خان اعوان نے کہا کہ فوری بلدیاتی الیکشن وقت کی ضرورت ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے ۔ کیونکہ بلدیاتی ادارے ہی حقیقی معنوں میں عوام کے روزمرہ کے مسائل حل کر سکتے ہیں اور عوام بہت جلد بلدیاتی انتخابات کے متعلق خوشخبری سنیں گے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی لیبر سیکریٹری رانا گل آفریدی نے کہا کہ بیوروکریسی کبھی بلدیاتی نظام کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ منتخب قیادت نہ ہونے کی وجہ سے بلدیاتی اداروں سے عوام کی شکایات دن بدن بڑھ رہی ہیں ۔ بلدیاتی انتخابات سے متعلق عوامی نیشنل پارٹی کا اصولی مو ¿قف ہے کہ کراچی کو انتظامی طور پر پانچ حصوں میں تقسیم کر کے بلدیاتی انتخابات منعقد کروائے جائیں ۔ میانوالی اتحاد کی سپریم کونسل کے ممبر اور پیپلز پارٹی کے رہنما محبت خان نیازی نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق عوامی حکومت کا وعدہ جلد پورا ہو گا اور عوام کو بیوروکریسی سے نجات دلا کر بہت جلد بلدیاتی اداروں کا کنٹرول منتخب نمائندوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔ ہم عوامی شکایات سے پوری طرح آگاہ ہیں کیونکہ ایڈمنسٹریٹرز عوامی مسائل حل کرنے میں بُری طرح ناکام ہو چکے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے رہنما شوکت زمان نے کہا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات سے راہ ِ فرار اختیار کر رہی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ حکومت اپنے دیگر وعدوں کی طرح یہ وعدہ بھی پورا نہیں کرے گی۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے جماعت اسلامی کا اُصولی مو ¿قف ہے کہ ہم فوری بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
لیگل رائٹس فورم کے چیئرمین ملک طاہر اقبال بلدیاتی انتخابات جمہوریت میں روح کی حیثیت رکھتے ہیں اس لئے حکومت وقت سے مطالبہ ہے کہ جلد سے جلد بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں تاکہ جمہوریت پنپ سکے اور یوسی ناظمین ، کونسلرز نے بھی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے فوری بلدیاتی الیکشن کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ : صفی الدین اعوان ایڈووکیٹ
کو آرڈینیٹر NA-240، ڈیمو کریٹک گورننس پروگرام

Cell : 0334-3093302

 
President Zardari Reviews pace of progress on Zulfikarabad and agricultural demonstration zones in Sindh

Karachi July 22, 2010: President Asif Ali Zardari who arrived in Karachi late last night presided over two high level meetings in the Bilawal House to review progress on the new proposed city of Zulfikarabad in Thatta and also on the industrial and agricultural demonstration zones in the province. 

Those who attended the meetings included Chief Minister Qaim Ali Shah, Federal Ministers Naveed Qamar, and Mir Hazar Khan Bijaran, Secretary General to the President Salman Farooqui, Special Assistant Kamal Majidullah, Deputy Chairman Planning Commission Nadeemul Haq and provincial ministers Jamil Soomro, Zulfikar Mirza, Agha Siraj Durrani, Murad Ali Shah, Jam Mehtab, Manzoor Wassan, SP Shahid, Dr Saleem Zafar besides secretaries of concerned departments. 

Briefing the media Spokesperson to the President Farhatullah Babar said that President Zardari emphasized that the new city project needed to be taken in right earnest as the huge influx of national and international migrants in Karachi and Hyderabad had strained the existing infrastructure of the province major cities.  He asked the provincial government to so design the new city that it was equipped with the latest infrastructure and facilities like in any modern city and should be a new city and completely separate from the Greater Karachi. The new city should be based on the concept on converting useless state land into a productive asset instead of acquiring new land.

Farhatullah Babar said that last week the �Zulfiakrabd Development Authority Ordiance 2010� was promulgated for the establishment of the new city in Thatta district as a port city. The Authority has been tasked to prepare a master plan and also a phased program for the development of the new city.

The meeting was informed that Expressions of Interest (EoI) would be invited from international consultants for giving the basic design concept. The President asked the Chief Minister to keep him posted about the progress made in the project.

The President said that the new hybrid seeds of wheat, rice and cotton should be tested from all aspects to examine their suitability in the local environment. He said that it was important to develop high yielding new varieties of major crops to not only overcome shortage but also to enable Pakistan export food grains to other countries. He said that our yield per acre was one of the lowest in the world and there was great potential for increasing the per acre yield using hybrid seed technology. He said that the Chinese had made great advances in the hybrid seed technology and there was a great deal to learn from their experience. The President said that during his numerous visits to China he found that the Chinese hybrid technology was very advanced and more importantly they were more than willing to share it with our farmers. The meeting was informed that hybrid rice had already been grown in agricultural demonstration zones and trials were underway.

The President also called for stepping up work on the building of new dams in the province so as to meet the growing requirements of irrigation and drinking water on the one hand and to empower the poor women of the areas through free distribution of state lands in the command areas of the new dams among them, on the other.  

President Zardari also asked the provincial government to take up on priority basis the provision of housing to the poor and in this context asked for a separate briefing on the progress made in the Benazir Behan Basti program aimed at providing low cost housing units to the poor people in rural areas of the province.

 
میانوالی اتحاد
غریب عوام کے لئے ”رمضان پیکج“ کا فوری اعلان کیا جائے اور پیکج کی تقسیم کے لئے حکومتی اتحادی جماعتوں کے بجائے ہر علاقے میں مساجد کمیٹیوں‘ سوشل ویلفیئر تنظیموں اور برادریوں کے اتحادوں کو ذمہ دار ٹھہرانے سے یقینی طور پر غریب عوام کے ہر طبقے کو رمضان پیکج کا فائدہ پہنچے گا٭ میانوالی اتحاد کی مرکزی رابطہ کونسل کے اراکین کا مشترکہ بیان
21 جولائی 2010ئ کراچی‘ پاکستان ( پریس ریلیز) میانوالی اتحاد کی مرکزی رابطہ کونسل کے اراکین سلیم خان نیازی‘ عبدالقیوم مجاہد‘ انور خان نیازی‘ عصمت اﷲ نیازی ایڈووکیٹ‘ ثناءاﷲ خان نیازی‘ ملک مصباح الحق اعوان اور حافظ عبدالستاراعوان نے مشترکہ طور پر حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ غریب عوام کے لئے رمضان المبارک کے مہینے کے آغاز سے قبل آٹا‘ چینی‘ گھی اور دیگر بنیادی اشیائے ضرورت پر سبسڈی پر مشتمل پیکج کا اعلان کیا جائے اور غریب عوام کو رمضان المبارک میں بنیادی اشیائے ضرورت انتہائی سستے داموں تقسیم کے لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ گزشتہ سال کی طرح چند سیاسی لٹیروں کے ذریعے پیکج کی تقسیم نہیں کی جانی چاہئے اور اس سال سابقہ طریقے کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں کیونکہ اس طریقے سے ”اندھا بانٹے ریوڑھا صرف اپنوں کو“کے مترادف چند مخصوص لوگوں تک پیکج کے فوائد پہنچتے ہیں بلکہ سیاسی لٹیرے تو سبسڈی کی اشیاءبازار میں فروخت کرکے کروڑوں روپے کماتے ہیں۔
انہوں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ حکومت سندھ کو چاہئے کہ رمضان پیکج کااعلان کرنے کے ساتھ ساتھ ہر یونین کونسل میں موجود مسجد کمیٹیوں کو نگران بنانا جائے اور مسجد کمیٹیاں بھی اپنے علاقے میں موجود سوشل ویلفیئر تنظیموں اور برادریوں کے اتحاد جیسے میانوالی اتحاد‘ میمن اتحاد‘ کچھی رابطہ کمیٹی‘ ہزارہ اتحاد‘ خاصخیلی اتحاد وغیرہ کو پیکج کی تقسیم کا ذمہ دار ٹھہرائے اور ساتھ ہی ساتھ پیکج کی تقسیم کے ذمہ داروں سے تقسیم کئے گئے پیکج کی مکمل تفصیلات بھی لی جائیں تاکہ سبسڈی کی اشیاءمکمل طور پر عوام کے تمام طبقات تک مساوی طور پر تقسیم ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی ضروریات اور فی گھر میں راشن کی ضرورت کا Dataبھی مل سکے۔
انہوں نے مشترکہ بیان میں مزید کہا کہ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ اگر ہماری تجاویز پرعمل کیا جائے تو رمضان پیکج کی تقسیم بہترین طریقے سے عمل میں آنے کے ساتھ ساتھ تمام علاقوں کے مقیم غریب افراد اور تمام طبقات کو رمضان پیکج سے استفادہ حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کی دعائیں موجودہ حکومت کو حاصل ہوں۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال کراچی میں تین حکومتی اتحادی جماعتوں کو رمضان پیکج کی اشیاءکا کوٹہ دیا گیا تھا اور عوام کو صرف آٹے کی چند بوریوں کے علاوہ چینی اور گھی تو نظر بھی نہیں آیا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر رمضان پیکج کا اعلان کرکے میانوالی اتحاد‘ میمن اتحاد‘ کچھی رابطہ کمیٹی‘ خاصخیلی اتحاد‘ ہزارہ اتحاد اور دیگر برادریوں کے اتحادوں اور سوشل ویلفیئر تنظیموں کو پیکج کی تقسیم کا ذمہ دار ٹھہرائے۔
جاری کردہ
عبدالقیوم مجاہد
ممبر‘ میڈیا سیل
میانوالی اتحاد‘ کراچی فون 0333-2176882:
تاریخ اشاعت:-17-07-2010
میانوالی اتحاد کے وارڈنمبر2 ہنگورہ آباد لیاری کراچی آفس کا شاندار افتتاح‘ جلسہ عام سے مرکزی قائدین کا خطاب

  پاکستان (پریس ریلیز) میانوالی اتحاد کے وارڈنمبر 2 ہنگورہ آباد‘ لیاری کراچی میں افتتاح کا شاندار جلسہ عام منعقد ہوا۔ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حاجی گلستان نے تمام شرکاءکا شکریہ ادا کیا اور بھرپور اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اسلم خان نیازی نے کہا کہ موجودہ حکومت کراچی میں قیام امن میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے اس لئے تمام برادریاں باہمی اتحاد سے دہشت گردوں اور بھتہ خوروں سے نمٹنے کے لئے برسرپیکار ہوگئی ہیں اور ہم کچھی رابطہ کمیٹی‘ میمن اتحاد سے مل کر لیاری میں امن قائم کریں گے۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے محبت خان نیازی نے کہا کہ ہم گزشتہ 30 سال سے کراچی میں امن کے ساتھ رہ رہے ہیں اور اب بھی تمام لوگوں کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہاتھ ملاﺅگے تو ہم بھی ہاتھ آگے بڑھائیں گے اور اگر پنجہ آزمائی کا شوق ہو تو آزماکر دیکھ لو۔ ہم کسی بھتہ خور یا دہشت گرد سے ڈرنے والے نہیں مگر امن کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے۔ میں ہنگورہ آباد کے تمام منتظمین اور عہدیداران کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ جلسے میں اسٹیج سیکریٹری کے فرائض ماسٹر غلام محمد نے ادا کئے۔ ملک محمد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب پورا کراچی جل رہا تھا اس وقت لیاری میں مکمل امن رہتا تھا مگر اب موجودہ حکومت مکمل طور پر لیاری میں قیام امن میں ناکام ثابت ہوئی ہے اور ہم تمام برادریوں سے مل کر لیاری میں امن قائم کریں گے۔ ہنگورہ آباد کے مقامی عہدیداران نے شاندار جلسہ عام منعقد کیا ہے ہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ سابق یو سی نائب ناظم حبیب اللہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میانوالی برادری ”میانوالی اتحاد“ کے پلیٹ فارم پر مکمل طور پر متحد ہے اور کراچی میں میانوالی برادری کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کی آنکھیں نکال دیں گے۔ یونین کونسل کے سابق ناظم غلام یاسین خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میانوالی اتحاد کراچی بھر میں اپنے وارڈ آفسز کھول رہا ہے اور ہماری کراچی بھر میں قیام امن کے لئے کاوشیں جاری ہیں۔ پرجوش مقرر ملک حق نواز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی شارٹ وقت میں منعقدکیا گیا کامیاب جلسے پر مقامی عہدیداران کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ہم اپنی بھرپور قوت کا مظاہرہ ”میانوالی کنونشن“ میں کریں گے جو عنقریب نشترپارک یا Sea View پر منعقد ہوگا۔ جلسہ عام میں کچھی رابطہ کمیٹی (K.R.C.) کے مقامی عہدیداران نے بھی شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے میانوالی اتحاد سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم دونوں برادریاں باہمی اتحاد سے لیاری کو پرامن بنائیں گے اور لیاری میں دہشت گردوں اور بھتہ خوروں کو جگہ نہیں ملے گی۔ آخر میں حاجی مہر محمد نے دعا کرائی اور محبت خان نیازی نے ہنگورہ آباد وارڈ نمبر2 لیاری کراچی کا افتتاح کیا ۔
جلسے میں میانوالی اتحاد کی مرکزی رابطہ کونسل کے اراکین سلیم خان نیازی‘ عبدالقیوم مجاہد‘ ملک مصباح الحق اعوان‘ محمد خان نیازی‘ سلیم عاصم قریشی‘ فوجی استاد‘ شیردل خان نیازی اور دیگرنے شرکت کی۔

تاریخ اشاعت:-17-07-2010
 معذور لوگوں کی تعلیم و تربیت اور فلاح و بہبود کے لیے ایک کثیر الجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے
الحنا ویلفیئرٹرسٹ رضاکارانہ طور پر معذور افراد، بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے سرگرمِ عمل ہے ،حنا یاسمین
کراچی( اردو پاور ڈاٹ کوم )بیوہ خواتین اور معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لئے سرگرم فلاحی ادارے الحناءویلفیئر ٹرسٹ کی چیئر پرسن معروف سماجی کارکن میڈیم حنا یاسمین نے کہا ہے کہ معذور افراد کی مدد کرکے دلی خوشی ہوتی ہے۔ الحنا ویلفیئرٹرسٹ معذور افراد کی بحالی کا منفرد ادارہ ہے جو کہ رضاکارانہ طور پر معذور افرادکی بحالی، بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے سرگرمِ عمل ہے اس ادارے کا اہم مقصد غریبوں اور معذور لوگوں کی حوصلہ افزائی اور بحالی ہے۔ مخیر حضرات اور صاحب ثروت افراد معذوروں اور بیوہ خواتین کی مدد کرنے میں الحنا ویلفیئر ٹرسٹ کے ساتھ تعاون کرے تاکہ خدمات کا سلسلہ وسیع کیا جاسکے۔الحناءویلفیئر ٹرسٹ کے مرکزی دفتر واقع نیشنل آٹو پلازہ مارسٹن روڈ کراچی میںصغریٰ نامی ایک معذور لڑکی کو ویل چیئر دیئے جانے کے موقع پر معززین سے گفتگو کرتے ہوئے حنا یاسمین نے کہا کہ الحناءویلفیئر ٹرسٹ بلا تفریق رنگ ونسل دکھی انسانیت کی خدمت پر یقین رکھنے والا فلاحی ادارہ ہے جس میں محدود وسائل اور کسی تشہیری مہم کے بغیر ہزاروں مستحق بیواﺅں اور معذور افراد کی مدد کی ہیں اور انشاءاللہ یہ سلسلہ مخیرحضرات کی تعاون سے ہمیشہ جاری رکھا جائے گا۔اس موقع پر اختر شیرانی،عبدالرزاق قریشی، مقصود احمد، محمد حامد اور دیگر معززین و ٹرسٹ کے ارکان بھی موجود تھے۔ صغریٰ بی بی کے اہل خانہ نے ویل چیئر دینے پر حنا یاسمین اور ان کے ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ حنا یاسمیننے کہا کہ معذور لوگوں کی تعلیم و تربیت ، فلاح و بہبود اور ان کی خدمات حاصل کرنے کے لیے ایک کثیر الجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام عبادت کا درجہ رکھتا ہے اور مخیر حضرات کو اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس کام میں ان کے ادارے کے ساتھ تعاون کریںکیونکہ اسپیشل افرادخصوصا اسپیشل بچوں کو معاشرے کا مفید شہری بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں معاشرے کے تمام طبقوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
تاریخ اشاعت:-14-07-2010
نارووال(اردو پاور ڈاٹ کوم)تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ و تحفظ مزارات اولیاءاسلام کی اساس ہے ۔قوم مسلم اپنے محسنین کی یادوں سے سکونِ قلب حاصل کرتی ہے ۔نبی کریم ﷺ بانی ¿ اسلام اور اولیاءامت مبلغ اسلام ہیں ۔دربار رسالت ﷺ سے ملنے والے فیضان کو بزرگان دین نے لاہور ،اجمیر ،گولڑہ ،علی پور اور دنیا کے مختلف علاقوں میں دین مصطفوی ﷺ کے پر چم لہرا کر انسانیت میں تقسیم کرتے رہے ۔آج پھر مقامِ مصطفی ﷺ کے تحفظ اور مزاراتِ اولیاءکے دفاع کی ضرورت ہے ۔داتا دربار حملہ منکرین اولیاءاور گستاخانِ رسالت ﷺ کا مکروہ فعل ہے ۔حکومت اہلسنت تنظیمات کے مطالبا ت فی الفور تسلیم کرے ورنہ عاشقانِ رسول ﷺ کا سیلاب سنبھالنا مشکل ہو گا ۔ان خیالات کا اظہار تحریک اویسیہ پاکستان کے مرکزی امیر علامہ پیر غلام رسول اویسی سجادہ نشین دربار اویسیہ علی پور چٹھہ شریف نے موضع مسلمانیاں اور کالو پڈا میں محفل ذکر مصطفےٰ ﷺ و شانِ اولیاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر تحریک اویسیہ پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خانقاہیں قومِ مسلم کے لئے کامیابی کی اُمید گاہیں ہیں۔ کالعدم تنظیمات کے خلاف حکومت کا کریک ڈاﺅن حوصلہ افزاءہے مگر ابھی منزل دور ہے ۔حکومت ان تنظیمات کے نیٹ ورک کو مکمل ختم کرے اور سانحہ داتا دربار کے مجرموں سمیت ان کے سرپرستوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچائے ۔محفل پاک سے چیف ایگزیکٹو ادارہ تاجدار یمن پاکستان محمد یعقوب اویسی ایڈووکیٹ ،پیر میاں غلام اویس اویسی ،قاری محمد ارشد اویسی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
محمد یعقوب اویسی ایڈووکیٹ
ناظم اطلاعات تحریک اویسیہ پاکستان
تاریخ اشاعت:-14-07-2010
پاکستان پیپلز پارٹی شیر پاو
پشاور( اردو پاور ڈاٹ کوم)پاکستان پیپلز پارٹی شیر پاو کے فیڈرل کونسل ممبر محمد فیصل میرنے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میںوفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام سخت ماےوسی اور بے چےنی کا شکار ہیں۔وہ پارٹی رہنماو ں اور کارکنوں کی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے ۔ محمد فیصل میرنے کہا کہ پاکستان انتہائی نازک موڑ سے گزر رہاہے اور ہر طرف عوام کا ناجائز خون بہاےا جارہا ہے اور جاری بد امنی نے عوام کاجینا دوبھر کر دےا ہے جبکہ حکمران ان کو درپیش مشکلات کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں اور نہ ہی انہوں موجودہ سنگےن حالات سے نکالنے کےلئے کوئی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔انھوں نے کہا کہ عوام کی حکومت سے بڑی توقعات وابستہ کر رکھی تھی لیکن وہ عوام کے تحفظ اور بہبود میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے ۔ انھوں نے کہا صوبے پنجاب میں جاری صورتحال سے عوام میں تشوےش ،ماےوسی اور احساس عدم تحفظ بڑھتا جا رہا ہے انھوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ان کے ساتھ بحالی امن اور ان کے تحفظ ،ترقی و خوشحالی کے وعدے کئے تھے وہ اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں اور نہ ہی وہ عوام کے توقعات پر پورا اتر سکے بلکہ ان کی غلط پالیسیوں کی بدولت عوام میں محرومی و ماےوسی بڑھتی جا رہی ہے ۔اس موقع پر شرکائے اجلاس نے پارٹی قائد آفتاب احمد خان شیر پاو کی قےادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے کہا کہ موجودہ حالات میںآفتاب احمد خان شیر پاو ہی واحد قےادت ہیں جو پاکستان کو سنگےن صورتحال سے نکالنے کی اہلیت رکھتے ہیں اوران کی عوام دوست پالیسیوں کی بدولت عوام کی نظرےں ان پر لگی ہوئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ عوام چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں آفتاب احمد خان شیر پاو کے ہاتھ مضبوط کرے ۔
 
تاریخ اشاعت:-14-07-2010 تاریخ اشاعت:-14-07-2010

WORLD TOP INVESTMENT GROUPS KEEN IN ISSUANCE OF CONVERTIBLE/ EXCHANGEABLE BONDS FOR PAK SOEs
Islamabad, July 13, 2010
The World’s top investment and financial groups including HSBC, NOMURA UK and London Stock Exchange have showed keen interest in the current plans of the Pakistan’s Privatisation Commission for the issuance of Equity Linked Instruments i.e Convertible and Exchangeable Bonds for State Owned Entities and pursuing privatisation process under the Public Private Partnership (PPP) Mode. The senior officials from HSBC, NOMURA, London Stock Exchange and major financial institutions in London expressed it during meetings with the Federal Minister for Privatisation Senator Waqar Ahmed Khan, says a message received from UK here today.
During the meetings, senior banking officials apprised the Minister on the current global economic & financial environment and discussed various options for increasing foreign investment in Pakistan and termed that frontier markets like Pakistan were the key to future global growth and current market conditions were opportune for foreign investment in Pakistan.
Senator Waqar Ahmed Khan Federal Minister for Privatisation who is currently on a visit to UK informed the groups that the current SOE restructuring plan being pursued by the Privatisation Commission of Pakistan would further improve the current overall economic environment and would turnaround the loss making entities into profitable ones. This restructuring plan involved for generating capital via equity linked instruments and efficient utilization of proceeds for organizational restructuring of the transactions on the Privatisation agenda, he added.
The Minister further said that the strong and visionary political leadership has made the economic environment in Pakistan more conducive for investment through consistency and continuity of investment friendly policies. The international community could play vital role in promoting foreign investment in Pakistan, which would help alleviate fiscal pressures on the GoP created by the war on terror, he said.
Lauding the visionary leadership and the analytical skills of the Minister, the officials from the London Stock Exchange Chief Executive Mr. Xavier Rolet invited him as a ‘key note’ speaker at the London Stock Exchange premises. Political harmony between Pakistan and the World was essential for progress and proposed visits of leading teams from their institutions to Pakistan in order to meet key stakeholders in the country so as to take a step forward and indulge in profitable investments in the country, the officials opined.

کچھ وکلاءکا ایماندار ججوں سے رویہ دہشت گردوں سے بھی بدترہے‘ رحمت خان وردگ
لاہور ہائیکورٹ سیشن جج لاہور کا کسی صورت میں تبادلہ نہ کرے٭ مرکزی صدر‘تحریک استقلال ‘رحمت خان وردگ
صوبوں میں پانی کی تقسیم 1991ءکے ایکارڈ کے مطابق ہونی چاہئے‘ رحمت خان وردگ
اٹھارہویں ترمیم میں جمہوریت کے چیمپئنز نے سیاسی جماعتوں میںانتخاب کی شق ختم کرکے
خاندانی سیاست کو رواج دیا‘ رحمت خان وردگ
13جولائی 2010ء کراچی (پریس ریلیز) تحریک استقلال کے مرکزی صدر رحمت خان وردگ نے تحریک استقلال سندھ کے جوائنٹ سیکریٹری قاری ظہوراحمد بھٹی کی قیادت میںملنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ لاہور میں وکلاءکی جانب سے ایماندار سیشن جج کے ساتھ بدسلوکی اور گاڑی پر جوتے پھینکنے کے عمل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند وکلاءکا ایماندار ججوں کے ساتھ رویہ دہشت گردوں سے بھی بدتر ہے حالانکہ عدلیہ کی بحالی میں وکلاءکے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی اور میڈیا کا بھی بھرپور کردارہے مگر چند وکلاءنے تو دہشت گردوںکو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ میں لاہورہائیکورٹ سے اپیل کرتا ہوں کہ ایماندار سیشن جج لاہورکا کسی بھی صورت تبادلہ نہ کرے بلکہ بدسلوکی کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں میں پانی کی تقسیم کے لئے 1991ءکے ایکارڈ پر عملدرآمد ہونا چاہئے اور اس معاہدے سے ہٹ کر کسی بھی طرح صوبوں کے حصے میں تبدیلی نہ کی جائے کیونکہ ارسا کی جانب سے چند اقدامات کی وجہ سے صوبوں کے عوام میں نفرتیں پیدا ہورہی ہیں۔ اگر پانی کے ذخائر میں کمی ہوتو اسی شرح سے صوبوں کے حصوں میں بھی کٹوتی ہونی چاہئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نام نہاد جمہوریت کے چیمپئنر اور ”میثاق جمہوریت“ پر دستخط کرنے والوں نے اٹھارہویں ترمیم سے سیاسی جماعتوں میں الیکشن کرانے کی شق ختم کرکے ”ون مین شو“ اور خاندانی سیاست کو رواج دیا ہے اور چیف جسٹس صاحب کے ریمارکس حقیقت پر مبنی ہیں۔ جو لوگ اپنی جماعت کو جمہوریت کے مطابق چلانے کے لئے تیار نہیں اور موروثی سیاست و آمریت کے حامی ہیں وہ ملک میں کس طرح سے جمہوریت کو رواج دیکر جمہوریت پر مبنی فیصلے کریںگے؟
جاری کردہ
عبدالقیوم مجاہد
(انچارج)
میڈیا سیل‘ تحریک استقلال‘ 0333-2176882:
 
 

صفحہ نمبر:-07-06-05-04-03-02-01

 

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise Guest book Privacy Policy Contact us   Disclaimer Terms of Usage Our Team