|
پاکستان میں سیاست کو ہمیشہ ایک ہاضمہ دار
چورن سمجھا گیا۔ قومی خزانے میں لوٹ مار اور
کرپشن کے ذریعے حاصل کی گئی دولت کو آسانی سے
ہضم کرنے میں سیاسی چورن ہمیشہ خفیہ اور
کارآمد ثابت ہوا اور ہر دور میں بروئے کار آیا۔
یہ چورن اس قدر لذیذ ہے کہ جس نے ایک بار اس
کا مزاچکھ لیا اسے بار بار کھانے کی خواہش
ہوئی۔ بعض اوقات اس چورن کے زیادہ استعمال سے
سیاستدانوں کو اپھارہ کا مرض بھی لاحق ہوا جس
کے علاج کیلئے پہلے انہوں نے جیل اور بعدازاں
سرکاری حراست میں اعلیٰ درجے کے پر تعیش
ہسپتالوں میں رہ کر اپنا عرصہ قید کاٹا اور
اپھارہ کے مرض سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی۔
مگر سیاستدانوں نے اپھارہ کا شکار اپن بیٹی،
بھائیوں سے عبرت حاصل نہ کی اور ہاضمے دار
چورن استعمال کرتے کرتے بد ہضمی سے دو چار ہو
گئے۔ پاکستان میں سیاستدانوں کے جرائم کو ثابت
کرنا آسان کام نہیں کیونکہ ان پڑھ اور انگوٹھا
چھاپ سیاستدان بھی کرپشن کے معاملے بے احتیاطی
کے باوجود دستاویزی کا ایگری سے کرپشن کو
قانونی قرار دلانے یا ثبوت و شواہد کو مٹا
ڈالنے میں سیاست تامہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے
کہ سالہا سال کی تفتیش و تحقیق کے باوجود ننگے
جرائم کو بھی ثابت نہ کیا جا سکا۔ اکثر اوقات
تو سیاسی حکمران اپنے پیشہ ور سیاسی حکمرانوں
کو ان الزامات سے بری الذمہ قرار دلانے کیلئے
ایڑھی چوئی کا زور لگاتے ہیں۔ جن کی بنیاد پر
سابق حکومت کو برطرف کر کے حق حکمرانی نئے
حکمرانوں کو سونپا گیا یہ ایک قسم کی سودے
بازی ہوتی ہے۔ ہم آپ کے جرائم کو عوام کے
سامنے بے نقاب نہیں کرتے۔ آپ ہمارے جرائم سے
صرف نظر کرنا اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ جس روز
نواز شریف دور میں بینظیر بھٹو کو عدالت سزا
سنانے والی تھی اس سے ایک روز قبل نواز حکومت
نے بینظیر کے بیرون ملک فرار کی راہ ہموار کی۔
الطاف حسین کے خلاف جاری آپریشن میں جب سو سے
زائد سنگین مقدمات میں ان کی گرفتاری کا فیصلہ
ہوا تو آپریشن کرنے والی نواز حکومت نے ایک
روز قبل ان کو ملک سے فرار کر دیا اور کسی کو
کانوں کا ن خبر نہ ہوئی۔ مشرف دور میں بھی
احتساب کی کڑوی گولی صرف ان لوگوں کے حلق سے
اتارنے کی کوشش کی گئی جن کا ہاضمہ تیز تھا۔
اور جو اس گولی کو بھی ہضم کرنے کی بھر پور
صلاحیت رکھتے تھے ذمہ دار حکام نے نگلوانے قبل
سے اس گولی پر شوگر کی ایک تہہ بھی چڑھائی۔ جس
کی وجہ سے گولی کھانے والے کے منہ کا ذائقہ
بھی خراب نہیں ہوا۔ بلکہ جیل اور سرکاری
ہسپتالوں میں زیر علاج رہنے کے بعد ان کا
ہاضمہ پہلے سے بھی تیز ہو گیا۔ ناخنوں کا
نوکیلا پن بھی بہتر ہو گیا اور مشرف حکومت کے
خاتمے کے بعد انہوں نے قومی خزانے پر مزید
دانت تیز کر لیے۔ کچھ سیاستدان تو مشرف کے ہم
رکاب بن کر سرکاری خزانے پر ہاتھ صاف کرتے رہے
اور ساتھ ہی ساتھ اپنے دامن پر سے خون کے دھبے
بھی دھوتے رہے۔ بین الاقوامی کمپنیوں کو جب
معلوم ہوا کہ پاکستان میں ہو با اثر، صاحب
رسوخ اور اختیار و اقتدار کے حامل پر اشتہار
بھی ایسے آنے لگے۔ داغ تو چلا جائیگا یہ وقت
پھر نہیں آئیگا ۔ مطلب دامن پر لگے داغ کی فکر
مت کرو داغ تو دھل جاتے ہیں مگر اقتدار پھر
ملے گا نہ ہی قومی خزانے اپنی تجوری میں منتقل
کرنے کا وقت دوبارہ آئے گا۔
لہٰذا داغ کی حکومت کرو، کھاﺅ، پیو اور لوٹو۔
ایک بین الاقوامی کمپنی سے سوچا شائد کسی کا
ضمیر زندہ ہو اور وہ صرف اپنے کردار اور ضمیر
کے دامن کو دھبوں اور داغوں سے بچانے کیلئے اس
بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے گریز کرے۔ لہٰذا
اس نے اپناواشنگ پاﺅڈر بیچنے کیلئے نعرہ دیا۔
داغ تو اچھے ہوتے ہیں“ یعنی داغ، دھبوں سے
بچیے دائر فکر کیوں کرتے ہو، اگر تمہارا دامن
کرپشن کے داغ سے صاف ہے تو اسے داغ دار کرو،
کہ داغ برے نہیں ہوتے بلکہ داغ کو اچھے ہوتے
ہیں اور آج جس کا دامن داغدار نہیں وہ کامیاب
انسان نہیں بلکہ ناکام ترین شخص ہے۔ محض 30
سال قبل رشوت کو ایک گھناﺅ نا جرم سمجھا جاتا
تھا۔ جھوٹ کو انتہائی برا فعل جانا جاتا تھا ۔
شراب نوشی، زنا، لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ، ملاوٹ،
منافع خوری، ذخیر اندوزی کو قومی جرائم میں
شمار کیا جاتا تھا مگر آج یہ جرائم اخلاقی
درجہ حاصل کر چکے ہیں۔ قانون کی نگاہ میں بھلے
یہ تمام فعل جرم ہی ہونگے۔ مگر خود قانون کے
محافظ بھی ان جرائم کو جرائم نہیں مانتے ۔
بلکہ ایسے جرائم کرنے والوں کو معاشرے میں
باعزت اور محترم گردانتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا
جب متوسط طبقہ کے لوگ رشوت خور کو بیٹی کا
رشتہ نہیں دیتے تھے۔ ملاوٹ کرنے والے کو
معاشرہ میں انتہائی بری نگاہ سے دیکھا جاتا
تھا ۔ منافع خور کا بائیکاٹ کیا جاتا تھا۔ مگر
آج ان تمام جرائم کو جائز قرار دیدیا گیا ہے۔
بلکہ خصوصیت قرار دیا جاتا ہے ۔ یہ داغ اب
دامن پر بھرے لگتے ہیں۔
نہ روح و قلب پر بدنما دکھائی دیتے ہیں۔ کہ
داغ تو اچھے ہوتے ہیں کا نیافارمولا وضع کر
لیا گیا ہے۔ صرف سیاستدانوں پر ہی کیا مو قوف،
سرکاری وکیل، ڈاکٹر، عسکری افسران، حکمران
طبقہ، تاجر، صنعتکار، کاشتکار سب اپنی اپنی
جگہ اخلاقی جرائم میں ملوث ہیں۔ اگرچہ سب لوگ
اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کو قانون کی کھال
پہنا کر قانونی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتے
ہیں اور اس کام میں ان کو قانون اور قانون
نافذ کرنے والوں کا تعاون بھی حاصل ہوتا ہے
مگر اسلامی تعلیمات، معاشرتی روایات اور
اخلاقی اقدار کی روشنی میں ان کے تمام کارنامے
نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ غیر قانونی بھی
ہیں کہ ان جرائم کو قانونی قرار دلانے کیلئے
قانون کا بدنیتی سے استعمال کیا گیا۔ بد نیتی
پاکستانی قوم کے اکثریتی طبقہ کو لاحق ایک
ناقابل علاج مرض ہے ۔ علماءکرام قومی یکجہتی
اسلامی بھائی چارے اور اتحاد امت کا درس دیتے
ہیں ، مگر خود ان کی وابستگی کسی نہ کسی فرقہ
سے ضرور ہے اور یہ لوگ اسی فرقہ کے ہمدرد بھی
ہیں۔ وکیل عدالتوں میں اپنے موکل کا بھاری فیس
لے کر تحفظ کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ لوگ
معاشرے کے مجرم ہیں ۔ ڈاکٹر اپنی پریکٹس چلانے
کیلئے ہسپتالوں میں نجی کلینک کے مریضوں کو
اہمیت دیتے ہیں ۔ حکمران جماعت اپنے کارکنوں
اور ارکان اسمبلی کے حقوق کو اولیت دیتا ہے۔
استاد کی توجہ صرف ان بچوں کو ملتی ہے جو ان
سے ٹیویشن پڑھتے ہیں ۔ تا جر اپنے مفادات کا
خیال کرتا ہے ۔ صنعتکار کا استحصال کر رہا ہے
جاگیردار کسانوں کے حقوق غصب کئے ہوئے ہیں اور
یہ سب کچھ قانون و حکومت کی چھتری تلے ہورہا
ہے وجہ یہ ہے کہ احتساب کے نام پر بیگناہ ثابت
کرنے کے قوانین اور داغ تو چلا جائیگا۔ یہ وقت
پھر نہیں آئیگا۔ کا فارمولا ہے۔ جو ہر داغ کو
مٹا دیتا ہے۔
|