اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

                    

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309
 

Email:-     

Telephone:-                                                           

 

 

 

تاریخ اشاعت19-03-2010

پاکستان کی حفاظت عوام خود کریں

کالم:۔  منہاس زادہ نور

دشمنان ملت و مذہب نے ایک بار پھر پاکستان کے دل لاہور کو جمعتہ المبارک کے دن پانچ دھماکوں کے ذریعے خون میں نہلا دیا ہے جس میں نہتے اور بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان میں جاری دہشت گردی میں ابھی تک پاک فوج کے سینکڑوں افسران اور جوان شہادت کا رتبہ حاصل کرچکے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے راہنما اور کارکن بھی ان انسان دشمنوں کی بھینٹ چڑھ گئے اور جید علماء کرام کی ایک بڑی تعداد کو ان وحشیوں نے ہم سے جدا کر دیا۔ دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانے کی خاطر ابھی تک پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے مثالی اتحاد کا مظاہرہ نہیں کیا اور ان کے آپس کے اختلافات کی وجہ سے عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے اوردہشت گرد جہاں چاہتے ہیں وہاں آگ و خون کا بازار گرم کر جاتے ہیں۔ مساجد ' مارکیٹیں ' بازار ' سرکاری دفتر ' ایف آئی اے بلڈنگ' تھانہ کچہری محفوظ نہیں تو سکول ' کالج ' یونیورسٹیاں تک بھی نشانے پر ہیں حکمرانوں ' سیاستدانوں ' مذہبی راہنماوں نے تو جیسے دہشت گردوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں اور پاکستان کے عوام اور دھرتی کے ان دشمنوں جن کی کارروائیوں سے معصوم جانوں کا بھی ضیاع ہوتا ہے اور اب انہوں نے ہر اس شہر کو نشانے پر رکھ لیا ہے جہاں فوجی آپریشن کا کوئی چانس تک موجود نہیں ۔ فیصل آباد ' لاہور ' ملتان جیسے روحانی شہروں میں تو محبت کے درس دیئے جاتے ہیں یہاں نہ تو نیٹو فورسز ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی ٹھکانہ یا گزر گاہ صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت کے مرکزی عہدیداران جب سرعام ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کریں سیاستدانوں قاتلوں اور دہشت گردوں سے مذاکرات کا اعلان کریں اور ضمانتی بننے کے لئے تیار ہوں۔ ٹی وی پروگراموں میں دہشت گردوں کے خلاف ماحول بنانے کی بجائے یہ جواز پیش کرنے کے لئے کہ کارروائیاں ڈرون حملوں کا ردعمل ہیں تو یقین نہیں آتا کہ کیا دنیا میں ایک ایسا ملک بھی موجود ہے جہاں ملک دشمنوں کے خاتمے کی کسی کے پاس بھی عملی تدبیر موجود نہیں یا محکمہ جات ادارے اور حکمران خود دہشت گردوں کے خاتمے میں مخلص اور سنجیدہ نہیں یا ملک کے محافظ افواج پاکستان کے جوان اور افسران ہی ان کا مقابلہ کرنے میں دن رات ایک کرکے قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ دہشت گردانہ کارروائیوں کے تسلسل کے بعد تو حکمرانوں کو بالخصوص اور اداروں کو بالعموم ایک ایسا ٹھوس طریقہ وضع کرنا چاہیے تھا کہ ہر گھر محلہ گلی میں نہیں بلکہ ہر پاکستانی ان کی بزدلانہ حرکتوں اور کارروائیوں سے محفوظ ہوتا۔
دہشت گردوں کو حاصل ہونے والی ٹرانسپورٹ اور مالی امداد کا سراغ لگاکر مجرموں کو بے نقاب کیا جائے۔ شہروں میں دہشت گردوں کی آمد کو روکنے کے لئے سخت ترین حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ دوسرے شہروں سے آنے والے تمام سرکاری ' کاروباری اور پرائیویٹ ملازمین کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ مالک مکان کرایہ دار کا تھانہ میں مکمل ریکارڈ جمع کرائے۔ ہر شہر میں موجود مساجد اور امام بارگاہوں میں امام و خطیب مقامی ہو اور دوسرے شہروں سے آنے والے مقررین پر پابندی لگا دی جائے ۔ نفرت کے اظہار کرنے والے ہر مولوی خطیب کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سیاسی جماعتوں پر پابندی ہو کہ وہ مسلک و گروہ کے نام پر سیاست کو فروغ نہ دے سکیں اورمتعلقہ پارٹی کے ممبر کے ثبوت مل جانے کی صورت میں پارٹی پر پابندی لگا دی جائے اور متعلقہ شخص کو کسی بھی نام سے سیاسی پارٹی یا مذہب کے نام پر گروپ بنانے کی اجازت نہ ہو۔ سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں کی ذمہ داری سب سے بڑھ کر ہے جو چھوٹے چھوٹے مفادات یعنی دو چار نشستوں کی خاطر نفرتوں کے بیج بونے والوں کو مکمل ختم کریں اور سرکاری اداروں میں بھی مداخلت بند کریں۔ علماء کرام کو اب خاموشی توڑ کر اور بزدلوں کے مقابلہ کی خاطر دلیرانہ انداز میں میدان عمل میں آنا ہوگا کب تک علماء حق جاہل مولویوں سے خوفزدہ رہ کر اپنے حقیقی راہنمائوں کے لاشے اٹھائیں گے۔
والدین کی ذمہ داریوں میں زیادہ اضافہ ہوگیا ہے جو اپنے بچوں اور بچیوں پر تمام توجہ مرکوز نہیں کرتے جس کی وجہ سے ان پڑھ جاہل معصوم بچوں کو خودکش حملہ آور بنا رہے ہیں۔ من حیث القوم عوام ازخود اپنے گھر گلی محلہ گائوں شہر دفتر کاروبار رہائش کے علاقوں میں خود جاگیں اور تمام تر ذمہ داری حکومت پر نہ ڈالیں جہاں حکومت کی کوتاہی یا نااہلی ہو وہاں حکومت سے پوچھ گچھ ضروی ہے ۔ محلہ گلی میں موجود نفرتوں کے بیج بونے والوں کا خود گلا دبائیں دیر ہوگئی تو یہ بزدل عوا م دشمن کھلی جگہوں ' سرکاری دفاتر کے بعد گھروں پر بھی حملہ آور ہوں گے۔1965-1971 کی دونوں جنگوں میں زندہ دلانہ پاکستانیوں نے پلوں ' ریلوے سٹیشنوں ' ہوائی اڈوں کے علاوہ گائوں ' شہر ' محلہ کے نزدیک جنگلوں ' ویرانوں کی بھی حفاظت کی تھی حتیٰ کہ تھانہ ' سول ڈیفنس تک کی خدمات عوام نے خود سرانجام دے کر پاک فوج کے جوانوں اور افسران کی مدد کرکے نئی تاریخ رقم کی تھی۔ آج کے حالات ایک بار پھر ایسے ہوگئے ہیں کہ جہاں حکمران' سیاستدان ' علماء کرام سرکاری ادارے اب صرف اور صرف پاکستان کی حفاظت دن رات ایک کر دیں وہاں عوام بھی بزدل دہشت گردوں کے مقابلے کے لئے ازخود میدان میں آئیں۔ الیکٹرانک میڈیا پر دہشت گردوں کی بالواسطہ اور بلاواسطہ حمایت میں پیش کرنے والے پروگراموں پر فی الفور پابندی کے قانون پر سختی سے عملدرآمد بھی ضروری ہے اور ٹی وی چینلز کے سربراہان اور ا ینکر پرسنز کو بھی محتاط رہ کر پاکستان کی سلامتی کی خاطر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا یہ نہ ہو کہ سیاستدان ' سرکاری افسران اور علماء حق کی طرح یہ بزدل کل ہیرو بنانے والوں کو بھی نشانہ پر رکھ لیں۔ اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوگی ۔ سترہ کروڑ پاکستانیوں کو قلیل ترین تعداد کے خاتمے کی خاطر اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا عوام زندہ باد ' پاکستان پائندہ باد۔

 

 

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team