|
اس ظلم و بربریت پہ کوئی کیا لکھے۔ ہر طرف
اندھیر نگری ہے۔ کوئی ایک واقعہ ہو تو اس پر
ماتم کیا جائے۔ یہاں تو ہر صبح ایک نئی کہانی
لیکر طلوع ہوتی ہے۔ صرف تھانہ بھوانہ ہی پر
کیا موقوف جس طرف بھی نگاہ اٹھائیں یہی منظر
دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کونسا تھانہ ہے جس کے در
و دیوار جرم کی ان وارداتوں کے چشم دید گواہ
نہیں۔ کوئی ہے جو اس کی ذمہ داری قبول کرے۔
حکمران کہتے ہیں قصور پولیس کا ہے۔ پولیس کہتی
ہے عادی مجرموں سے جرم کے اقرار کا اور دوسرا
کوئی راستہ نہیں۔ ایک بے حسی ہے جو طاقت کے
ایوانوں میں ہے۔ ایک بے بسی ہے جو کمزوروں کی
میراث ہے۔ ایسا سلوک تو جنگی قیدیوں سے بھی
نہیں ہوتا جو دشمن کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔
ان کے لئے بھی مہذب اقوام نے جنگی قوانین
بنائے ہوئے ہیں۔ مقصد ایک ہی ہے کہ کسی طرح
انسانیت تذلیل سے بچ جائے مگر ان معاشروں میں
بیچارے کمزور کیا کریں جہاں کوئی لفظ
”انسانیت“ ہی سمجھنے کیلئے تیار نہ ہو۔
یہ تو اس کا عشر عشیر بھی نہیں جو کیمرے کی
آنکھ دکھا پائی حیوانیت کے ایسے ایسے روپ ہیں
کہ تصور سے ہی روح کانپ جائے اور یہ سب کچھ
کسی دور افتادہ گاﺅں یا گمنام قصبے میں نہیں
ہو رہا حکمرانوں کی ناک کے عین نیچے ہر روز
ایسے شرمناک تماشے کب سے جاری و ساری ہیں۔
کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ ظلم و ستم کی کوئی
داستان خلق خدا کے سامنے آشکار ہو جائے تو ذمہ
داری کا تقاضا چند نمائشی اقدامات ورنہ اک
خاموشی رضا ہے جو ماحول پہ چھائی ہوئی ہے۔
کوئی مان سکتا ہے کہ صاحب اقتدار کی نظروں سے
یہ مکروہ کھیل اوجھل ہونگے۔ یقینا انہیں سب
علم ہے نہ جاننے والا تو نااہل ہوتا ہے اور
میں اس پوزیشن میں نہیں کہ نااہلی کے فتوے
جاری کرسکوں۔ یہی گمان کیا جاسکتا ہے کہ جانتے
بوجھتے ہوئے بھی حکمران چپ سادھے بیٹھے ہیں کہ
یہی پردہ پوشی ان کے حق میں جاتی ہے۔ یہی رواج
ہے کہ تھانہ اور پٹوار حکومت کے دو مضبوط ستون
ہوتے ہیں۔ ان کا سہارا نہ ہو تو تخت دھڑام سے
نیچے گر جائیں اور ملک پاکستان کے حکمران تخت
بچانے کیلئے تو کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔ ایک
بڑی سلطنت ہے جو سینئر افسروں کے سہارے قائم
ہے ان گنت چھوٹی چھوٹی سلطنتیں ہیں جنہیں
تھانیداروں نے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔ یہ
نظام موجودہ حکمرانوں کی دین نہیں حکمرانی کی
یہ روایات تو مدت سے قائم ہیں۔ اسی لئے تو
تھانے بانٹے جاتے ہیں اسی لئے تو من پسند
تھانیداروں کا انتخاب ہوتا ہے۔ میرا حلقہ ہے
اس لئے تھانیدار بھی میری مرضی کا ہوگا۔ ایم
پی اے ‘ ایم این ایز کا پہلا مطالبہ ہی یہ
ہوتا ہے کہ مجال ہے کوئی دوسرا ان کی سلطنت
میں دخل اندازی کا مرتکب ہوسکے۔ تھانیدار ان
کی مرضی کا ہوتا ہے وہ ان کی تابعداری کرتا ہے
اور باقی رعایا تھانیدار کی تابعداری پر مجبور
کر دی جاتی ہے۔ ایک وقت تھا پنجاب کے وزیر
اعلیٰ شہباز شریف پر جنون طاری تھا کہ انہوں
نے تھانہ کلچر کو ہر صورت تبدیل کرنا ہے۔ یہ
ان کے پہلے دور حکومت کا قصہ ہے۔ ایک دنیا
پریشان تھی کہ یہ کیوں کر ہوسکے گا ‘ یار
لوگوں نے مخالفت بھی کی۔ آئی جی پنجاب ‘
سیکرٹریز اور دیگر رفقاءکار منع کرتے رہے مگر
شہباز شریف بضد رہے۔ آئی جی نے ان نومنتخب شدہ
پڑھے لکھے نوجوان انسپکٹر کو خطاب کیا تو
اعتراف ہوا کہ وہ بھی اس مہم جوئی کے مخالف
تھے۔ استدلال یہ تھا کہ ناتجربہ کار نوجوان
ایس ایچ او کی بھاری بھر کم ذمہ داریاں کیسے
نبھا پائیں گے۔ شہباز شریف کے پاس ایک ہی دلیل
تھی کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کی تعیناتی سے
تھانیدار کا وہ روایتی کردار ختم ہو جائے گا
جو خرابی کا باعث بنتا ہے۔ کہاں وہ باتیں اور
کہاں آج کے یہ مناظر!!
وہ شہباز شریف کہاں گیا جو تھانہ کلچر تبدیل
کرنا چاہتا تھا۔ کیا وقت نے اسے بھی سمجھوتے
پر مجبور کر دیا؟ میاں شہباز شریف کے ساتھ تو
لوگوں کی بڑی امیدیں وابستہ تھیں وہ ان کے
خواب کیا ہوئے؟؟ ادراک ‘ نیت اور صلاحیت کیا
اس کے علاوہ بھی مسئلے کے حل میں کوئی شرط
دخیل ہوتی ہے۔لوگوں کی خوش فہمی ہے کہ شہباز
شریف ان تینوں خوبیوں سے لیس ہیں مگر نتائج
کہاں ہیں؟؟ لاہور کے ہنجروال تھانے میں جعلی
پولیس مقابلہ ‘ ملتان شہر سے زنجیروں میں جکڑے
لوگ پولیس کے نجی ٹارچرسیل سے برآمد چنیوٹ کے
تھانہ بھوانہ میں برہنہ شہریوں پر بہیمانہ
تشدد اور حافظ آباد کے تھانے میں نوجوانوں پر
چھترول کیا اعلیٰ اوصاف کے حامل ایک منتظم کے
دور میں بھی لاقانونیت کی ایسی مثالیں دستیاب
ہوسکتی ہیں؟ مگر آنکھ جو کچھ دیکھ رہی ہے وہ
بھی تصور نہیں ایک حقیقت ہے جو روز روشن کی
طرح عیاں ہے۔
ایک عرصہ بیت گیا مگر اصلاح کی کوئی صورت نہ
بن سکی۔ ہر آنے والے نے دعویٰ کیا وہ پولیس کا
قبلہ درست کرے گا لیکن ہر صبح ایک نئی بھیانک
کہانی کے ساتھ ہی نمودار ہوئی۔ اصل مسئلہ
ضرورت کا ہے اور قوم کی بدقسمتی ہے آج تک کسی
نے اصلاح کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ ضرورت
نئی راہیں نکال لیتی ہے۔ ضرورت کسی نئی ایجاد
کا سبب نہ بھی بنے تو اس کا ایک فائدہ ضرور
ہوتا ہے۔ یہ اصلاحات کی بنیاد بن جاتی ہے۔
اکلوتی شرط بس یہی ہے کہ مسئلے کے حل کی ضرورت
محسوس کی جائے۔ علاج درکار نہ ہو تو مرض کی
تشخیص کی نوبت کیوں آئے گی۔ ضرورت درپیش ہو تو
وجوہات تلاش کرنا کونسا مشکل کام ہوتاہے۔
خرابیاں دریافت ہو جائیں تو سسٹم کی اصلاح
ہوسکتی ہے۔ شاید اسی کا نام ”ریفارمز“ ہوتا ہے
اور صاحب کار ”ریفارمر“ کہلاتا ہے۔ کوئی ہے جو
اس طرح سوچے۔ کوئی ہے جو ذمہ داری قبول کرے۔
حکمران کہتے ہیں قصور پولیس کا ہے ‘ پولیس
کہتی ہے چند کالی بھیڑیں ہیں۔ ایک بے حسی ہے
جو طاقت کے ایوانوں میں ہے ‘ ایک بے بسی ہے جو
کمزوروں کی میراث ہے۔ |