اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

                    

   اردو پاور کے لیے اپنی تحریر     اس ای میل ایڈریس پر روانہ کریں    

Email:-ceditor@inbox.com  Email:-Jawwab@gmail.com

       
 

 

 

 
       
 

 

 

 

 

 

 

دیوبندیوں اور بریلویوں کو لڑانے کی سازش کو کچل دیا جائے

 
وزیرداخلہ رحمان ملک سے سوموار کو مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام نے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں عید میلادالنبیۖ کے موقع پر فیصل آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان میں تشدد کے مختلف واقعات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ علمائے کرام نے تجویز پیش کی کہ امن کے لئے کمیٹیاں بنائی جائیں۔ اس موقع پر جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں کہا گیا ہے کہ عید میلادالنبیۖ کے روز پرتشدد واقعات قابل افسوس ہیں، شہدا کے ورثاء اور زخمیوںکو معاوضہ دیا جائے اور ایک تحقیقاتی کمیشن بھی قائم کیا جائے۔
بریلوی، دیوبندی فسادات کی منصوبہ بندی بہت عرصہ پہلے کی گئی تھی اور '' اوصاف'' کو یہ اعزازحاصل ہے کہ اس نے خطرے کو بروقت بھانپ کر حکومت کو خبردار کیا تھا کہ وہ اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لے۔ چند ماہ پہلے جب ہمیں یہ خطرہ متشکل ہوتا ہوا نظر آیا تو ہم نے اس پر نہ صرف ادارئیے لکھے بلکہ ادارے کی جانب سے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کو بھی باور کرایا کہ کس قدر سنگین خطرہ ہمارے سروں پہ منڈلا رہا ہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے اے پی این ایس اور سی پی این ایس کی میٹنگ کے دوران اوصاف نے وزیراعظم کی توجہ اس مہیب خطرے کی جانب دلائی۔ بعد ازاں ملتان جا کر قاری حنیف جالندھری سے ملاقات میں انہیں بتایا گیا کہ دیوبندی ، بریلوی فسادات کی سازش ہو رہی ہے۔ آگے بڑھئیے اور اس کا سدباب کیجئے۔ قاری حنیف جالندھری کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں گے۔ بعد ازاں لاہور میں مفتی سرفراز نعیمی سے ملاقات کر کے ان کی توجہ بھی اس سازش کی جانب مبذول کرائی گئی۔ مفتی نعیمی کی فکر مندی نمایاں تھی اور وہ کہہ رہے تھے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ایسا ہوا تو بڑا نقصان ہوگا۔
اسی دوران لاہورکے ایک بڑے ہوٹل میں ایک غیر ملکی فنڈڈ پروگرام ہوا جس کا موضوع اتحاد بین المسلمین تھا اور اس میں مفتی سرفراز نعیمی بھی مدعو تھے۔ مفتی نعیمی کی تقریر میں بڑی درد مندی تھی اور انہوں نے واشگاف لفظوں میں فرمایا تھا کہ ہم ایک اللہ اور ایک رسول ۖکے ماننے والے ہیں اور کسی بھی صورت تقسیم نہیں ہوں گے۔ جو ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش کرے گا وہ منہ کی کھائے گا۔ اس پر جوش اور دردمندی سے بھرپور خطاب کے تھوڑے دن بعد ہی مفتی سرفراز نعیمی کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا اور ظاہر بات ہے، ان لوگوں نے شہید کرایا جوجانتے تھے کہ مفتی سرفراز نعیمی جیسے قد کاٹھ کے عالم دین جب بیچ میں آگئے تو دیوبندی ، بریلوی لڑائی کی سازش کامیاب نہ ہو پائے گی۔
اگلے روز ایک نجی ٹی وی چینل پر حافظ طاہر محمود اشرفی اور صاحبزادہ فضل کریم آپس میں بچوں کی طرح لڑرہے تھے۔ نہ دلیل نہ برہان بس خوامخواہ کا شور شرابا ، یوں کہ جیسے دو ان پڑھ اور گنوار آپس میں لڑتے ہیں ۔ دونوں اپنے اپنے مسالک کو بنیاد بنا کر ایک دوسر ے پر کیچڑ اچھال رہے تھے اور دونوں کی گفتگو میں شائستگی نام کی کسی چیز کا کوئی عمل دخل نہ تھا۔ اس کے مقابلے میں اگر مفتی منیب الرحمان اور مفتی رفیع عثمانی یا مفتی تقی عثمانی جیسے علمائے کرام کے رویوں کو دیکھا جائے تو ان میں شائستگی ، رواداری اور علمیت کے پہلو غالب ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں مسالک کے بڑے علمائے کرام کو دوسرے درجے کے علمائے کرام کے ناروا اور ناشائستہ رویوں کا نوٹس لینا چاہیے اور اختلافی مسائل سے نمٹنے کے لئے خود آگے آنا چاہئے ، اللہ مغفرت کرے مولانا شاہ احمد نورانی کی ، کیسے نابغہ عصر تھے کہ ہرمسلک کے لوگ ان کا دل سے احترام کرتے تھے۔ مولانا شاہ احمد نورانی نے کبھی لڑائی جھگڑے والی بات نہ کی اور جب تک زندہ رہے اتحاد بین المسلمین کے لئے کام کرتے رہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بریلوی اور دیوبندی دونوں فقہ حنفی سے تعلق رکھتے ہیں۔ دونوںمسالک کے درمیان کوئی ایسا بڑا اختلاف نہیں کہ جس کی بنیاد پر دونوں جانب کے علمائے کرام ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالیں۔ دونوں مسالک کے علمائے کرام جانتے ہیں کہ بریلویوں اور دیوبندیوں کو آپس میں لڑانا ایک بین الاقوامی سازش ہے لیکن اس سازش کا ادراک رکھنے کے باوجود عید میلادالنبیۖ کے موقع پر جو ناخوشگوار صورت حال سامنے آئی وہ ایک ایسا المیہ ہے جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ برصغیر میں عید میلاد النبیۖ کے جلوس صدیوں سے نکل رہے ہیں اور کبھی کوئی تنازعہ نہیں ہوا۔ اب جا کر اس معاملے نے اگر تنازعے کی شکل اختیار کر لی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک عرصہ پہلے ہم نے جس سازش کی نشاندہی کی تھی وہ اب عملی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے وزیر داخلہ رحمان ملک جو سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں، وہ خراج تحسین کی مستحق ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ وزیرداخلہ اس سازش کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ تمام امن پسند علمائے کرام کو اس ضمن میں وزیر داخلہ رحمان ملک کے ساتھ مکمل اور غیر مشروط تعاون کرنا چاہئے کیونکہ پاکستان اب کسی نئے تنازعہ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ سانحہ ڈیرہ اسماعیل خان اور فیصل آباد کے مرتکب لوگوں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہئے تاکہ ملک میں آئندہ کسی مذہبی تہوار پر اس قسم کا ناخوشگوار واقعہ نہ ہو سکے۔
 

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team