اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

                    

  اردو پاور کے لیے اپنی تحریر     اس ای میل ایڈریس پر روانہ کریں    

Email:-ceditor@inbox.com  Email:-Jawwab@gmail.com

 

 

 

 

 

 

 
 
اسلام اور انسانی حقوق

حضور نبی اکرم کی بعثت کے وقت انسانیت مختلف الانواع تضادات کا شکار اور کئی طبقات میں تقسیم تھی، سماجی اور معاشرتی شرف و منزلت کی بنیاد نسلی، لسانی اور طبقاتی معیارات پر مشتمل تھی۔ معاشرے کے طاقتور لوگ ہر لحاظ سے قابل عزت ہوتے تھے جبکہ غلام، کمزور اور زیردست طبقے طاقتور کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزید

اجتماعی نظام

ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب سفر میں تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک کو امیر بنا لیا جائے۔ تشریح: اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ جب سفر جیسی عارضی حالت میں بھی جماعتی نظام قائم کرنے کی تاکید کی گئی ہے تو حضر کی صورت میں بدرجہ اولیٰ جماعتی نظام اور و امارات کی تشکیل واجب ہو جاتی ہے اسی کی تائید ایک دوسرے روایت سے ہوتی ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ اگر کسی جنگل فلاة میں تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک کو امیر بنا لیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزید

مسلما ن خاتون نے قرآن پاک کا سنسکرت میں ترجمہ کرلیا

بھارت میں ایک مسلم خاتون نے قرآن پاک ک سنسکرت میں ترجمہ کرلیا ہے۔ اتر پردیش کے د یو بند کی رضیہ سلطانہ کو قرآن کا سنسکرت میں ترجمہ کرنے میں بارہ برس سے زائد کا عرصہ لگا ہے ۔ کیونکہ ان متبادل الفاظ کی تلاش ایک مشکل کام تھا ۔ جو کہ سنسکرت میں موجود نہیں ہیں ۔ لیکن قرآن کی اصطلاحات کی ادائیگی کے لئے ان کا ہونا ضروری تھا ۔ رضیہ سلطانہ کی اس کوشش کو پوری دنیا میں قد ر و قیمت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے ۔ اس سلسلے میں موصوفہ کو امریکہ، ایران، روس اور یوروپ کے کئی ملکوں سے ستائشی خطوط تو ملے ہی ہیں انہیں ان ملکوں کے دورے کی دعوت بھی دی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزید

حضرت عمر کا اپنی بیوی کو زچگی میں لے جانا

امیر المومنین حضرت عمرؓ اپنے خلافت کے زمانہ میں بسا اوقات رات کو چوکیدارہ کے طور پر شہر کی حفاظت بھی فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ اسی حالت میں ایک میدان میں گذر ہوا، دیکھا کہ ایک خیمہ بالوں کا بنا ہوا لگا ہوا ہے جو پہلے وہاں نہیں دیکھا تھا۔اس کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ ایک صاحب وہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور خیمہ سے کچھ کراہنے کی آواز آرہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزید

ازواج نبی اعظم

ارشاد رب العزت: النَّبِیُّ أَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ وَأَزْوَاجُہ أُمَّہَاتُہُمْ ۔ نبی مومنین کی جانوں پر خود ان سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہے اور نبی کی ازواج ان کی مائیں ہیں۔" (احزاب :۶) ازواج میں بدکرداری و زنا وغیرہ کا تصور نہیں۔ حرم رسول ہیں۔ ا ن میں اس طرح کی خرابی نہیں ہو سکتی۔ ارشاد رب العزت : إِنَّ الَّذِیْنَ جَائُوْا بِالْإِفْکِ عُصْبَةٌ مِّنْکُمْ لَاتَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَّکُمْ بَلْ ہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ لِکُلِّ امْرِءٍ مِّنْہُمْ مَّا اکْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِیْ تَوَلّٰی کِبْرَہ مِنْہُمْ لَہ عَذَابٌ عَظِیْمٌ لَوْلاَإِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنْفُسِہِمْ خَیْرًا وَّقَالُوا ہَذَا إِفْکٌ مُّبِیْنٌ لَوْلاَجَائُوْا عَلَیْہِ بِأَرْبَعَةِ شُہَدَاءَ فَإِذْ لَمْ یَأْتُوْا بِالشُّہَدَاءِ فَأُوْلٰئِکَ عِنْدَ اللہ ہُمُ الْکَاذِبُوْنَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزید

حضرت مریم

ماں نے نذر مانی خیال تھا بیٹا ہوگا مگر حضرت مریم کی ولادت ہوئی۔ اللہ نے بیٹی کو بھی خدمت بیت المقدس کے لئے قبول کر لیا۔ وَإِنِّیْ سَمَّیْتُہَا مَرْیَمَ وَإِنِّیْ أُعِیذُہَا بِکَ ۔ "میں نے اس لڑکی کا نام مریم رکھا۔ میں اسے شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ (آل عمران:۳۶) پھر بڑی ہوگئیں۔ خدا کی طرف سے میوے آتے ۔ ذکریا پوچھتے۔ بتاتیں۔ من عنداللہ ۔ اللہ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزید

دختر جناب شعیب

حضرت شعیب کی خدمت میں موسیٰ کی آمد ۔ شعیب کی طرف سے شادی کی پیش کش ۔حق مہر کا تعین ۔کئی سال کاکام ۔پھر واپس روانگی۔ راستہ میں بچے کی ولادت اور نبوت کا ملنا ان واقعات میں موسیٰ کی ماں کا مامتا پر ضبط، خواہر موسی کی جفا کشی اورخبرداری پھر زوجہ ٴ فرعون کا ہر مرحلہ میں حضرت موسیٰ کا تحفظ ۔ان مراحل میں عورت کی عظمت، عورت کی محبت وایثار اورنبی کی جان کے تحفظ ۔ایسے واقعات ہیں جن سے عورت کی عظمت واضح و آشکار ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزید

زمین کا مرکز ’گرینچ‘ یا ’مکۃ المکرمہ

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے
»ِاِنَّ أَوَّلَ بَیتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّۃَ مُبَارَکاً وَہُدًی لِّلعَالَمِین«
بلاشبہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے تعمیر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے ۔ا س گھر کو برکت دی گئی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا۔ (آل عمران : 96
سب سے پہلا گھر جو منجانب اللہ لوگوں کے لیے مقر ر کیا گیا ہے وہ ہے جو مکہ میں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں سب سے پہلا عبادت خانہ کعبہ ہے، اس کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزید

قرآن مجید میں بعض عورتوں کا تذکرہ

ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کی زوجہ محترمہ،ام البشر جناب حوا ، آدم علیہ السلام کی(تخلیق سے) بچی ہوئی مٹی سے پیدا ہوئیں۔جیسا کہ ارشاد رب العزت ہے: وَخَلَقَ مِنْھَا زَوْجُھَا ۔ "اوراس کا جوڑا اسی کی جنس سے پیدا کیا۔" (نساء:۱) وَمِنْ آیَاتِہ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْکُنُوْا إِلَیْہَا ۔ "اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارا جوڑا تمہیں سے پیدا کیا تاکہ تمہیں اس سے سکون حاصل ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزید

آسیہ زوجہ فرعون

قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ ایک سو اکیس مرتبہ ہوا ۔ ان کے مفصل واقعات ہیں جنہیں میں کئی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ولادت کا مخفی ہونا ، بعد از ولادت کے واقعات جس میں موسیٰ کی والدہ کا کردار، صبر و استقامت، بہن کا کردار، جدت و ہوشیاری کے ساتھ اس صندوق کا تعاقب جس میں حضرت موسیٰ سوئے ہوئے تھے اورپھر جناب آسیہ کا کردار جس نے فرعون کے دل میں ان کی محبت ڈالی اسے راضی کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزید

زوجہ حضرت ایوب

ارشاد رب العزت ہے : وَاذْکُرْ عَبْدَنَا أَیُّوْبَ إِذْ نَادٰی رَبَّہُ أَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطَانُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ہَذَا مُغْتَسَلٌ م بَارِدٌ وَّشَرَابٌ وَوَہَبْنَا لَہ أَہْلَہ وَمِثْلَہُمْ مَّعَہُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِکْرٰی لِأُوْلِی الْأَلْبَابِ وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِہ وَلاَتَحْنَثْ إِنَّا وَجَدْنَاہُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّہ أَوَّابٌ ۔ "اور ہمارے بندے ایوب کا ذکر کیجئے ۔ جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا۔ شیطان نے مجھے تکلیف اور اذیت دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزید

حضرت ابراہیم و اسماعیل اور تعمیر کعبہ

ارشاد رب العزت ہے: وَإِذْ یَرْفَعُ إِبْرَاہِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَإِسْمَاعِیْلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّکَ وَأَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ "(وہ وقت بھی یاد کرو)جب ابراہیم اور اسماعیل اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے اور دعا کر رہے تھے۔ اے ہمارے رب ہم سے (یہ عمل) قبول فرما کیونکہ تو خوب سننے اور جاننے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزید

 عرب کی بد قسمتی کے اسباب

نعمان ابن منذر کے زمانے میں جنگ کے بعد عورتیں (لڑکیاں) قید ہوئی تھیں، مصالحت کے بعد ہر چیز کی واپسی شروع ہو ئی تو بعض لڑکیاں واپس نہ آئیں۔ انہوں نے قبیلے میں آنے سے انکار کر دیا اور اپنے شوہروں کے پاس رہنے کو ترجیح دی یعنی جن کے پاس رہ رہی تھیں وہیں رہنا پسند کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزید
 

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team