|
انسانی چہروں کے وسیع سمندر میں وہ درویش صفت،
پار سا اور صوفی منش باپ بے چہرہ رہتا اور اس
کا نام بھی کوئی نہ جانتا اگر اس کے آنسو بے
فیض رہتے اور اس کی دعا قبول نہ کی جاتی. اس
کے مشاغل
محدود اور آمدنی کے ذرائع قلیل تھے۔ وہ پشم
اور اون کا تتا اور فارغ اوقات میں علماءمشائخ
کی صحبت میں حاضر ہوتا اور کمائی میں سے جو
کچھ بچتا وہ بھی ان کے قدموں میں نچھاور کر کے
خوش ہوتا۔ وعظ و ارشاد کی محفلوں میں اس پر
رقت طاری ہو جاتی۔ مذہبی، علمی اور ادبی گفتگو
سنتا تو روتا اور اللہ سے دعا کرتا کہ مجھے
بھی بیٹا عطا کر جو ایسی ہی گفتگو کیا کرے....
درد مندی اور دلسوزی سے کی گئی یہ دعا قبول
ہوئی اور اس گمنام اور مجہول الحال خاندان میں
وہ بچہ پیدا ہوا جو آگے چل کر حجتہ الاسلام
امام غزالی کے نام سے شہرت کے آسمان پر چھا
گیا۔ 28 سال کی عمر ہی میں اس کے علم و فضل کی
شہرت دور دور تک پہنچ گئی اور ابھی وہ 33 سال
کا بھی نہیں ہوا تھا اس کو بغداد کے مدرسہ
نظامیہ کا صدر مدرس مقرر کر دیا گیا۔
اس کا اثر و رسوخ اتنا بڑھ گیا کہ اس کے جاہ
جلال کے سامنے امرا اور وزراءاور خود دربار
خلافت کی شان و شوکت ماند پڑ گئی۔ ابو حامد
محمد ابن محمد غزالی 1059ءمیں خراسان کی شہر
طوس میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں والد کا سایہ
شفقت سر سے اٹھ گیا۔ والد کی وصیت کے مطابق
ایک صوفی درویش نے ان کی کفالت اور سرپرستی کی۔
گویا اول روز ہی سے تصوف کا رنگ ان کی شخصیت
کا حصہ بن گیا۔ ابتدائی تعلیم طوس میں احمد بن
محمد راز کانی سے حاصل کی۔ ہوش سنبھالا تو
امام ابو نصر اسماعیل سے استفادہ تحصیل علم
کیلئے جرجان کا سفر کیا۔ کچھ عرصہ بعد واپس
طوس آگئے اصول ، منطق اور فقہ کی تعلیم کیلئے
مدرسہ نظامیہ نیشاپور کا رخ کیا۔ استاد کی
وفات کے بعد نیشاپور کے قریب نظام الملک طوسی
کی قیام گاہ ”عسکر“ چلے گئے۔ اس وقت ان کی عمر
صرف اٹھائیس برس تھی اور ان کی علمی شہرت اور
ان کے پہنچنے سے پہلے ہی نظام الملک طوس تک
پہنچ چکی تھی وہ نہایت عزت و تکریم سے پیش آیا
اور اپنی علمی صحبتوں میں خوش آمدید کہا۔ جلد
ہی وہ اپنی ذہانت 1091ءمیں انہیں مدرسہ نظامیہ
بغداد کی تدریس کی خدمت سپرد کر دی۔ یہ وہی
نظام الملک طوس ہے جسے سلجوقی ترک ملک شاہ نے
اپنا وزیر بنا کر سلطنت کا سارا انتظام سپرد
کر دیا تھا۔ یہ وزیر اپنی خوبیوں میں ہارون
الرشید عباسی کے وزیر جعفر برمکی پر بھی بازی
لے گیا۔ سلطان الپ ارسلان کے زمانہ میں بھی
وہی وزیر تھا۔ اس کی بزرگی کی وجہ سے ملک شاہ
اسے بابا کہا کرتا تھا۔ یہ وہی ملک شاہ ہے جس
کے گھوڑے کی لگام شہر اصفہان کے پل پر ایک
بڑھیانے پکڑ لی تھی۔ بڑھیانے کہا ”ملک شاہ! تم
میرا انصاف اس پل پر کرو گے یا پل صراط پر؟“
دراصل اس بیوہ بڑھیا کی گائے ملک شاہ کے
فوجیوں نے پکڑ کر ذبح کر لی تھی۔ ملک شاہ اس
اچانک اور غیر متوقع ” کارروائی“ پر چونکا،
ٹھٹھکا اور پھر کود کر گھوڑے کی پشت سے نیچے
اتر آیا۔ اس نے اپنے اسی پل پر فیصلہ کروں گا۔“
|