اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

 

Email:-ceditor@inbox.com

Telephone:- 1-514-250-3200        

تاریخ اشاعت02-01-2009

 پوست امریکہ کا بھائی ہیروئن بہن

روف عامر پپا بریار

ملا عمر کی زیرنگرانی ماضی کی طالبان حکومت پر امریکہ سمیت مغربی ممالک فرقہ واریت، دہشت گردی، اور دور جہالت کے فرسودہ قوانین و امریت کے غیر سروپا الزامات عائد کرتے رہے ہیں مگر کبھی مغرب نے طالبان دور کے تاریخ ساز کارناموں پر داد تحسین کے دوچار لفظ بھی نہیں بولے۔تاریخ دان جب بھی افغانستان کی تاریخ کے مختلف گوشوں کو صفحہ قرطاس پر اتارے گا تو وہ امن و امان اور پوست کی کاشت کے حوالے سے دور حاظر کے ان خطرناک شدت پسندوں کی عظمت کو سلام عقیدت پیش کرنے پر برضا و رغبت راضی ہوگا۔روے ارض پر استعمال کی جانیوالی نوے فیصد نارکوٹکس پوست کی فصل سے تیار کی جاتی ہے اور افغانستان پوست کاشت کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ملاعمر نے سربرائے سلطنت بننے کے فوری بعد پوست کی کاشت پر نہ صرف پابندی عائد کی تھی بلکہ طالبان انتظامیہ نے پوست کے کھیتوں کو اگ لگا دی تھی یوں افغانستان سے پوست کی کاشت معدوم ہوگئی۔نائن الیون کے بعد امریکہ نے کابل پر قبضہ کیا تو ازکاررفتہ بن جانے والی پوست ایک دفعہ پھر چہار سو کھیتوں کی ہریالی بن گئی غیر جانبدار تجزیہ نگا ر رائے دیتے ہیں کہ اتحادی فوجیں افغانستان میں پوست کے کھیتوں کی حفاظت کررہی ہیں۔سوویت یونین کی دیوہیکل سلطنت کو جغرافیائی اعتبار سے امریکہ پر سبقت حاصل تھی مگر وہ خطہ افغان میں معیشت کے نروس بریک ڈاون کے جھٹکوں سے ریزہ ریزہ ہوگیا۔کہاوت ہے کسی ملک کی معیشت تباہ کرنی ہو تو اسے میدان جنگ میں دھکیل دو۔امریکہ پچھلی چھ دہائیوں سے دنیا کے ہر کونے میں ہونیوالی جنگوں میں براہ راست دخیل ہوتاہے ۔بے پناہ مالی معاشی تنزلی کے باوجود امریکہ جوں کا توں قائم ہے۔یہ کیسے ممکن ہے؟ سی ائی اے واشنگٹن کے جنگی اخراجات ڈرگز سمگلنگ سے پورا کرتی ہے۔مغرب کو سمگل کی جانیوالی90 فیصد منشیات افغانستان سے سی ائی اے کی نگرانی میں روانہ کی جاتی ہے۔ افغانستان ڈرگ سمگلنگ کی بین الاقوامی منڈی ہے۔ہیروئن کوکین چرس و افیون وغیرہ پوست کی فصل سے کشید کی جاتی ہیں۔ انکل سام کے سایہ عاطفیت میں پاک افغان قبائلی علاقوں میں منشیات تیار کرنے والی لیبارٹریاں دن رات کام کرکے انسانیت کو سسکا سسکا کر مارنے کا دھندہ زور شور سے کررہی ہیں۔یوں جب تک امریکہ یہاں موجود رہے گا دنیا ڈرگز کے شکنجے سے ازاد نہیں ہوسکتی۔افغانستان میں امریکہ ایک فوجی پر ایک ملین ڈالر سالانہ کے حساب سے خرچ کرتا ہے۔امریکی دولت کے انبار خطیر فوجی اخراجات برداشت کرنے کے متحمل نہیں یوںامریکی تھنک ٹینکس نے فوجی اخراجات کے حصول کا نیا طریقہ ایجاد کرلیا ہے اور وہ ہے ڈرگ اسمگلنگ ۔طالبان دور میں ڈرگ اسمگلرز کابل سے راہ فرار اختیار کرچکے تھے مگر اب سارے نہ صرف دوبارہ واپس اچکے بلکہ اسمگلرز کی غالب اکثریت کرزئی گورنمنٹ میں پارلیمنٹ و وزارتوں کے جلیل القدر عہدوں پر شعلہ افروز ہے۔حامد کرزئی کا بھائی ولی کرزئی ایک طرف سی ائی اے اور ایم ائی سکس نامی ایجنسیوں کا ایجنٹ ہے تو دوسری طرف وہ مغرب میں سب سے بڑا ڈرگ اسمگلر ہے۔سوویت یونین کے خلاف سئی ائی اے کی افغان وار طالبان کے خلاف حالیہ کشت وقتال سمیت ویت نام جنگ کے تمام اخراجات پوست کے رس بھرے خوشبودار غنچوں سے نچوڑے گئے۔مغرب کے مقبول ترین ریسرچ سکالر GARRAY WEEB نے1990 میں( سین جوس مرکری) اخبار میںDARK ALLIANCE کے عنوان سے کالم تحریر کیا تھا کہ دنیا میں منشیات پھیلانے والے مافیاز کے پیچھے سی ائی اے ملوث ہے۔گرے ویب پر سی ائی اے نے ٹارچرکیاکہ اس نے خود کشی کرلی تھی۔danlind roof نامی یورپی صحافی کی تحقیقاتی رپورٹ بتاتی ہے کہ ویت نام کے جنگی اخراجات ایشیا کے جنوب مشرقی علاقوں سے منگوائی جانے والے ہیروئن نے پورے کئے اور اس ہیر پھیر میں امریکن فضائیہ اور کئی جرنیل ملوث تھے۔کابل میں سی ائی اے کے علاوہ بلیک واٹر ایجنسی منشیات کے بڑے سمگلرز کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے ہوئے ہے کیونکہ ڈرگز کے بیوپاریوں کو طالبان سے خطرہ ہے۔2001 میں دنیا میں استعمال ہونے والی80 فیصد پوست افغانستان میں پیدا ہوئی جبکہ2009 میں یہ مقدار90 فیصد کا ہندسہ کراس کرچکی ہے۔ گوری و قابض فوجیںخطہ افغان میں پوست کی کاشت کے لئے سونا سمجھی جانے والی زمین سے ملحقہ شہروں میں پوسٹ ہے تاکہ وہاں پوست کے باغوں کے چمن کی رکھوالی کی جائے۔گوروں اور جہادیوں کے درمیان جن علاقوں میں بارودی جھڑپیں ہوتی ہیں وہاں کا سب سے اہم و گنجلک مسئلہ پوست ہے۔بش رجیم میں افغان وار کی نوک پلک سنوارنے کی منصوبہ بندی کے دوران ڈک چینی نے بش کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وار کے تمام اخراجات پوست سے پورے کئے جائیں گے۔بش کی کرسی پر اب اوبامہ براجمان ہیں مگر جو وعدہ ڈک چینی نے بش سے کیا تھا وہ اوبامہ دور میں پوری دیانتداری سے نبھایا جارہا ہے۔روس کے ریٹائر جرنیل نے نیویارک ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے پیشین گوئی کی کہ اتحادی جنگ جیتنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے مگر امریکہ وہاں پس پردہ کھیل کھیل رہا ہے ۔ سرگرم ہے۔رشین جرنیل کا اشارہ منشیات سمگلنگ کی طرف تھا۔ٹائمز نے اسی سال رپورٹ شائع کی کہ پوست سے ہیروئن بنتی ہے۔یورپ میں سمگل کی جانیوالی ساری ہیروئن و ڈرگز سی ائی اے کا کارنامہ ہے جس سے ہمارا معاشرہ تنزلی کی گھاٹیوں و بربادی کی کھائیوں میں ڈوب رہا ہے۔مکافات عمل کا عدل ملاحظہ ہو ٹونی بلیر نے کابل کا دورہ کیا تو پتہ چلاکہ برٹش ارمی کے850 فوجی ہیروئن استعمال کرتے ہوئے عدم راہی ہوئے.بی بی سی نے14دسمبر2007 میں تصدیق کی کہ برٹش افواج کے پورے دستے کو پوست کے خونخوار جبڑوں نے چباڈالا۔سی ائی اے منشیات کے دھندے میں سالانہ300 بلین ڈالر حاصل کررہی ہے۔برٹش سفارت کار کیرج مرے نے2007 میں نے اخبارات کو بتایا کہ ہم نے پہلے کبھی پوست کی کاشت کا اتنا رقبہ نہیں دیکھا جو کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ہماری معیشت پوست کی کاشت سے مستحکم ہے۔امریکی جرنیل مائیک مولن نے تسلیم کیا کہ پوست کی سمگلنگ میں امریکی ایجنسیاں شامل ہیں۔ سی ائی اے پوست کی کاشت اور ہیروئن و نشہ اور ادویات کی سمگلنگ سے ہر سال کھربوں ڈالر کمارہی ہے جو امریکہ سے باہر دنیا میں تعینات افواج کے اخراجات پورے کرتی ہے۔یوں ایسی جنت کو کون چھوڑ سکتا ہے؟اوبامہ نے 2011میں فوجی انخلا کا جو دیدہ زیب اعلان کیا ہے انتہائی لغو و بے بنیاد ہے۔امریکی فوج اور پوست کا اپس میں نکاح ہوچکا ہے اور یہ بندھن عشق کی ڈوری سے منسلک ہے۔یاد رہے جہاں طرفین میں پیار و محبت کے ایسے ناطے قائم ہوں تو وہاں یہ ڈوریاں نہ تو کاٹی جاسکتی ہیں اور نہ ہی ایسے رسیلے رشتے کبھی ختم ہوسکتے ہیں۔امریکہ انسانیت کی ایسی خدمت کررہا ہے جو تاابد یاد رکھی جائے گی۔امریکی ایک طرف جنگوں میں کروڑوں معصوم انسانوں کو بارود کی راکھ میں دفن کر دیتے ہیں تو دوسری جانب امریکی کافرمائیوں سے دنیا کے پچاس کروڑ لوگ ڈرگز کے ہولناک کرب کے عفریت میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ کروڑوں لوگ ڈرگز کی موت کے قبرستان میں زندہ درگور ہوچکے۔انسانیت کی ایسی ابلیسی خدمت پر وائٹ ہاوس و پینٹاگون کو سلام کیا جانا ضروری ہے

 
 
Email:-jawwab@gmail.com
Advertise Guest book Privacy Policy Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team