اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 

Email:-

Telephone:-       

 

 

 

تاریخ اشاعت08-03-2010

جمہوریت کو پنپنے میں وقت لگتاہے

کالم۔۔۔ ارشاد محمود




پاکستان میںموجودہ حکومت کے مستقبل کے حوالے سے رائے عامہ عمومی طور پر تقسیم ہے ،کچھ مبصرین کو موجودہ حکومت اور اس کی قیادت ایک آنکھ نہیں بہاتی ہے وہ کسی ایسے نجات دے ہندے کے منتظر ہیں جس کے ہاتھوں میں آلہ دین کا چراغ ہواور وہ راتوں رات تمام قومی امراض اور مصائب کا تریاق پیش کردے۔سوال یہ ہے کہ کیا صدر زرداری کی رخصتی کے نتیجے میں ملک میں دودھ وشہد کی نہریں رواں ہوجائیںگی؟کیا میاں نواز شریف کی زنبیل میں میں کوئی ایسا نسخہ کیمیا موجود ہے جو ٹرپتی سسکتی جنتا کومطمئن کرسکے گا؟فوجی راج کو باربار آزما یا جاچکاہے ۔وہ مسائل کا حل کم اور انہیں مزید پیچیدہ کرتا گیا حتیٰ کہ ملک ہی دولخت ہوگیا۔اخبارات میں تجزئیے پڑھ کر اور ٹیلی وژن چینلز پر ہونے والی بحث سن سن کر کچھ سوجھائی نہیں دیتاہے کہ اس ملک کے لیے جمہوریت بہتر ہے یا آمریت۔
جب پرویزمشرف صاحب اقتدار تھے وہ عوامی غیض وغضب کا شکارہوئے۔اب یہی حال صدر زرداری کا کیا جارہاہے۔کبھی کبھی سوچتاہوں کہ جو حشر پرویزمشرف کا ہو اور جو سلوک صدر زرداری کے ساتھ روارکھاجارہا ہے۔اگر کل میاں نوازشریف برسراقتدار آتے ہیںتو ان کے ساتھ بھی یہی رویہ رکھا گیا تو کیا منظر نامہ ابھرے گا؟ ان کی طبع نازک کہاں یہ طوفان برداشت کرپائے گی؟قیاس آرائی کرنا قبل ازوقت ہوگا مگرشاید نواز شریف اس قدر تبرہ بازی کی اجازت نہ دیں سکیںجس کے ہم عادی ہوچکے ہیں۔پھر یہی چینلز اور تجزیہ کار ہوں گے جو راولپنڈی کی جانب فریاد کناں ہوںگے کہ جب مر جائیں گے تو انصاف کروگے۔
نہ جانے یہ تماشا کب انجام پذیرہوگا اور ہمارے سیاستدان کب بالغوغت فکر پائیںگے۔لیکن رفتہ رفتہ رائے عامہ کے ایک غالب حصہ کو یہ احساس ہورہا ہے کہ ہمیں صبر و تحمل کے ساتھ جمہوری حکومتوں کو موقع دینا ہوگا تاکہ وہ نہ صرف اپنی مدت اقتدار پوری کریں بلکہ اپنے اہداف کے حصول کے لیے بھی پیش رفت کرسکیں۔بحرانوں میں الجھی ہوئی حکومت کو اپنی بقا کی جنگ لڑنے سے ہی فرصت نہیںملتی کہ وہ سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے جدوجہد کرے۔میشاق جمہوریت کے بعد یہ توقع ہوچلی تھی کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ مل جل کر پاکستان کا سیاسی کلچر تبدیل کردیں گی ۔جمہوری تجربہ پرسکوں طریقے سے چلے گا لیکن محض ایک ڈیڑھ برس میں ہی یہ خواب بھی چکناچورہوگیا ۔وہی مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں جنہوں نے۰۹ ءکی دہائی میں ملک وقوم کی رگ وریشے میں نفرت کا زہر گھولا تھا۔
راولپنڈی کے ضمنی انتخاب کو ایک قومی ایشو بنادیا گیا حالانکہ یہ محض ایک حلقے کا انتخاب تھا۔یہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے مابین کسی بڑی امکانی جنگ کا پیش خیمہ نہ تھا بلکہ فرینڈلی فائر تھا لیکن جس طرح سے اس انتخاب کو ایک فیصلہ کن معرکے میں بدلا گیا وہ طریقہ واردات اس امر کی چغلی کھاتاہے کہ ملک میں موجود کچھ قوتیں جمہوری جماعتوں کو دوستانہ ماحول میں سیاست نہیں کر نے دیتی ہیں بلکہ انہیں رفتہ رفتہ ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کیا جارہاہے تاکہ وہ ایک دوسرے کے گریبان چاک کریںاورسیاسی طور پر غیر موثرہوکر اپنی موت آپ مرجائیں۔
یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ پاکستان کی منہ زور اسٹبلشمنٹ یہ گڑی گولی نگلنے کی روادار نہیں ہے کہ اس ملک کی تقدیر سیاست دانوں کے سپرد کی جائے۔وہ انہیں اقتدار کے کھیل میں ہلکان کرکے ایک دوسرے کے ہاتھوں مرواناچاہتی ہے تاکہ اسے پارلی منٹ کی بالادستی قبول نہ کرنا پڑے۔یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے جو سمجھ سے بالاتر ہو۔اس نازک اور باریک نکتہ کوسیاسی شطرنج کا ہر کھیلاڑی بخوبی سمجھتاہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ مسلم لیگ کے کچھ عقاب صف رہنما اسٹبلشمنٹ کے سہارے موجودہ نظام کو اکھاڑ نا چاہتے ہیں تاکہ انہیں لیلاءاقتدار سے ہمکنار ہوسکیں۔استدلال یہ ہے کہ کون مزید تین برس تک صبر کرے؟لہٰذا جب بھی اور جس بھی قیمت پر موقع ملے حریفوں کو چت کرو اور شامل اقتدار ہوجاﺅ۔یہ وہ سوچ ہے جو ہماری سیاسی قیادت کے مزاج کا جزولاینفک بن چکی ہے۔جس کے باعث لوگ سیاست اور سیاستدانوں سے بیزار ہیںاورامیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ اگر موجودہ سیاسی قیادت نے حالات کی سنگینی کا ادراک نہ کیا توکسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں بچے گااور سب کچھ بکھر جائے گا۔
اس مایوس کن منظر نامے میں بھی ایک اچھی روایت ابھری ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اپنی ذاتی انا اور مرتبے کی پروا کیے بنا ہر مرحلے پر میاں نواز شریف کو اعتما د میں لیتے ہیں۔انہیں ملنے رائے ونڈ جاتے ہیں او رمیاں نوازشریف بھی وزیراعظم ہاﺅس تشریف لاتے رہے ہیں۔یو ں تلخیاں کسی حد تک کم ہوتی رہتی ہیں لیکن اس سارے عمل کو زیادہ پیشہ وارانہ انداز اور پائیدار بنیادوں پر کرنے کی ضرورت ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں بیک چینل متعارف کرائیں۔جو بھی اہم قومی نوعیت کا معاملہ ہو اس پر دونوں جماعتیں باہم مشاورت کریں اور ایک دوسرے کی مدد رکریں۔اس ضمن میں بیک چینل بڑا بنیادی کردار اداکرسکتاہے وہ سیاسی درجہ حرارت کو بھی کنٹرول کرسکتاہے تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچاجاسکے۔
دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ اجتماعی فیصلے ہی تھے جن کے باعث بدترین دہشت گردی کی لہر پر قابو پایا گیاحتیٰ کہ اب تمام بڑے شہر محفوظ ہیں اور اکادکا حادثات کے سوا امن وامان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔لیکن اس کامیابی کو دیرپا اور مستقل بنانے کے لیے حکومت اور سول سوسائٹی کی سطح پر جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔حکومت میں کئی افراد کا خیال ہے کہ ان علاقوں میں سڑکوں اور سکولوں کا جال بچھانے سے تما م مسائل ہوجائیں گے جو کہ ادھوری حکمت عملی ہے۔ان علاقوں میں ایسے متبادل سیاسی،سماجی اور مذہبی ادارے بنانے کی ضرورت ہے، جو تنازعات کا حل مذاکرات اور پرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے تلاش کرنے کے اصول پر یقین رکھتے ہوں اور اسی نقطہ نظر کی ترویج بھی کرتے ہوں۔اس سلسلہ میں بھی مسلم لیگ اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
قومی سلامتی کے علاوہ دیگر کئی ایک ایسے امور ہیں جن پر دونوں جماعتوں کے مابین ہم آہنگی ناگزیر ہے۔افواج پاکستان کی موجودہ قیادت بالخصوص جائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل طارق مجید اکتوبر جبکہ جنرل اشفاق پرویزکیانی نومبر میں اپنے عہدوں سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ماضی میں ان عہدوں پر ہر حکمران نے اپنی مرضٰ کے جنرل لانے کی کوشش کی جو انہی کے لیے مشکلات کا سبب بنی۔وقت آگیاہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کوئی ایسا فارمولہ وضع کریں جس کے مطابق ان عہدوں پر تعیناتی نہ صرف میرٹ پر ہو بلکہ حکومت قائد حزب اختلاف کی مشاورت کرنے کی پابند ہو۔اس ضمن میں بھی بیک چینلز اپنا کردار ادا کرسکتاہے۔ایسے درجنوں امور ہیں جن پر جماعتی مفادات کو قربان کیے بنا بھی دونوں جماعتیں ایسے اقدامات اٹھاسکتی ہیں جو ملک میں جمہوریت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
rawalakotjk@gmail.com
 

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team