اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين
 

Email:-akramkhanfaridi@gmail.com 

Telephone:-92 302 4500098         

 

 

تاریخ اشاعت25-02-2010

تاءیوان امریکی ہتھیاروں کی فراہمی پر چین کا ردعمل

کالم:۔ محمد اکرم خان فریدی

امریکہ اور چین کے درمیان پہلے ہی حقوقِ انسانی کے تحفظ،تجارتی معاملات اور انٹرنےٹ کی سنسر شپ کے اےشوز پر کافی تناﺅ چل رہا تھا کہ اوبامہ انتظامیہ نے اعلان کر دیا کہ امریکہ تاءیوان کو 6.4بلین ڈالرز کے ہتھیار فروخت کرے گا۔ اکتوبر 2008ءمیں بھی امریکہ کے صدر بش کی حکومت کی جانب سے تاءیوان کو6.5بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کی ڈےل ہوئی تھی۔6.4بلین ڈالرز کی حالےہ ڈےل کے مطابق امریکہ کی جانب سے تاءیوان کو جوہتھیار فروخت کئے جاءیں گے اُنمیں 2.81بلین ڈالرز کے 114پےٹریاٹ میزائل،3.1بلین ڈالرز کے 60بلےک ہاک ہےلی کاپٹرز،340ملین ڈالرز کے مواصلاتی آلات(رےڈار ٹےکنالوجی،انفارمےشن ٹےکنالوجی،اندھیرےمیں دےکھنے والے آلات)،105ملین ڈالرز کے 2 اوسپرے مائن ہنٹنگ شپس اور37ملین ڈالرز کے 12 ہارپونمیزائل شاملہیں جبکہ اس معاہدےمیں F-16شامل نہےں ہوئے جن کی تاءیوان کی فوج کو بڑی دےر سے خواہش تھی۔ امریکہ کی جانب سے تاءیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی پر چینی حکام نے اوبامہ انتظامیہ کو ذبردست تنقےد کا نشانہ بنایا اور تاءیوان کے لئے ہتھیاروںکی فراہمی کے عمل کو چین کے اندرونی معاملاتمیں مداخلت قرار دیاہے ۔چائنہ کے نائب وزےر خارجہ ©” مسٹر ہی یافی (HI Yafi)“نے بےجنگمیں امرےکی سفےر ”جان ہےنٹسمےن “ کو تاءیوان کو اسلحے کی فراہمی بارے چینی حکومت کے غم و غصے سے آگاہ کیا ہے ۔ہتھیاروں کی فراہمی کے اعلان کے بعد چین نے پےنٹا گون کے ساتھ سکےورٹی کے تبادلہ کے فےصلہ کو بھی منسوخ کرنے کابھی عندےہ دیاہے۔جبکہ دوسری جانب واشنگٹن کا موقف ہے کہ چین کے پاس 1000کے قرےب اےسے بلاسٹکمیزائلہیںجو اُس نے تاءیوان کے قرےبی سرحدی علاقوںمیں تاءیوان کو ٹارگٹ بنا کر نصب کر رکھےہیں واشنگٹن کا ےہ بھی کہنا ہے کہ خطہمیں پائےدار امن اور توازن قائم کرنے کے لئے تاءیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی بہت ضروری ہے اور ہم ”تاءیوان رےلےشن اےکٹ Taiwan Relation Act 1979“کے تحت تاءیوان کو ہتھیار دےنے کے پابندہیں۔ امرےکی ادارے ”ڈےفنس سکےورٹی اےنڈ اےنڈ کوآپرےشن اےجنسی(DSCA )کا ہتھیاروں کی فروخت بارے کہنا ہے کہ
"The proposed sale will help improve the security of the recipient and assist in maintaining political stability, military balance and economic progress in the region,".

2
جبکہ دو سپر پاوروںمیں پھنسے ہوئے تاءیوان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ہتھیاروں کی فراہمی پر ہمارے حوصلے بلند ہونگے۔36189مربع کلومےٹر چینی خطہ جو اِن دنوں تاءیوان کے نام سے جانا جاتا ہے 1945ءسے قبل جاپان کے قبضےمیں تھا جسے بعدمیں جاپان کے قبضے سے واپس لے لیا گیا اور 1.3ملین چینی باشندوں ،سولجرز،بڑے زمےنداروں اور اُس وقت کے اشرافےہ نے مل کر اِسے الگ مملکت بنا لیا جسے چین نے آج تک الگ مملکت کے طور پر قبول نہےں کیا ۔چین آج بھی تاءیوان کو اپنا علاقہ قرار دےتا ہے اور اسے اپنے ملک کا حصہ قرار دےتا ہے۔ہانگ کانگمیں الگ حکومت کے باوجود چین نے اِس پر دوبارہ اپنا کنٹرول کر لیا ہے لےکن تاءیوان پر ابھی تک کنٹرول حاصل کرنےمیں ناکام ہے ۔واحد سپر پاور کے چینی خواب کو ملیا مےٹ کرنے اور خطےمیں اُسے بے سکون کرنے کی غرض سے 1979ءمیں امرےکی کانگرےس نے تاءیوان رےلےشن اےکٹ TRAپاس کیا جس کے تحت طے پایا کہ امریکہ تاءیوان کی مختلف شعبوںمیں مدد کرے گااور چین کی دھمکےوں کا جواب دےنے کے لئے اُسے جدےد ہتھیار فراہم کرے گا ۔آج جب2008ءکے بعد دوبارہ تاءیوان کو ہتھیار فراہم کئے جا رہےہیں تو پےپلز لبرےشن آرمی کے آفےسران مےجر جنرل ”لوےوآنLuo Yuan“مےجر جنرل ”ذوچِنگوZhu Chenghu“اور سےنئر کرنل” کی چن کائےو Ke chunqiao“نے کہا ہے کہ ہم تاءیوان کو اسلحہ فراہم کرنے پر امریکہ کواےسی سزا دےنگے جس سے امریکہ کی معےشت مزےد زوالمیں چلی جائے گی،امریکہ کا کروڑوں ڈالر کا چکن جوکہ چین کی مارکےٹمیں اےکسپورٹ کیا جاتا ہے ا ُس پر پابندی لگنے سے بھی امریکہ کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑ سکتا ہے ۔لےکن اِن تمام تر دھمکےوں اور ممکنہ پرےشانےوں کی پرواہ کئے بغےر واشنگٹن خطےمیں ہتھیار پھےلانے کی پالےسی پرعمل پےرا ہے ۔ دراصل تاءیوان رےلےشن اےکٹTRA 1979ءچین اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات کی بہتریمیں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔چین اور امریکہ مختلف اےشوز پر اےک دوسرے کی کھُل کر مخالفت کرنے لگےہیں ،اسکی سب سے بڑی مثال کوپن ہےگنمیں ماحولیاتی آلودگی کے بارےمیں ہونے والا اجلاس ہے جسمیں امریکہ اور چین اےک دوسرے کے ذبردست مخالف نظر آئے جبکہ حال ہیمیں اےران کے نےوکلےئر پروگرام کے خلاف چین نے امریکہ کی مخالفت کی ہے اور اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا سکتا ہے کہ شمالی کوریا کے اےٹمی پروگرام کے خلاف بھی چین امریکہ کی حمائےت نہےں کرے گا۔
امریکہ اور چین کا بڑھتا ہوا اختلاف اےشیائی ممالک کو خطرناک اشارے دے رہا ہے ۔چین ہی نہےں بلکہ پوری دُنیا جانتی ہے کہ امریکہ آنے والے 50سال کے بارےمیں بھی اپنی منصوبہ بندیاں شروع کر دےتا ہے ۔شائد 1979ءمیں جب امریکہ نے تاءیوان
رےلےشن اےکٹ پاس کیا تو پےنٹا گون نے چین اور اس سے ملحقہ ملکوں کو غےر مستحکم کرنے کے بارےمیں منصوبہ بندی شروع کر دی تھی ۔آج جب امریکہ تاءیوان کو ہتھیار فراہم کرکے چین کو پرےشان کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو اِس خدشے کو نظر انداز نہےں کیا جا سکتاکہ کل چین بھی امریکہ مخالف طاقتوں کو ہتھیار فراہم کر سکتا ہے جسکی وجہ سے امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ بے حد متاثر ہو سکتی ہے ۔آج جب تاءیوان کے صدر خوشی خوشی اِس بات کا اظہار کر رہےہیں کہ امریکہ کی جانب سے اسلحہ کی فراہمی سے تاءیوان کا حوصلہ بلند ہو ا ہے لےکن شائد

3
وہ ےہ نہےں جانتے کہ دنیا کی بعض طاقتےں چین کو غےر مستحکم کرنا چاہتیہیں اور اس مقصد کو پانے کے لئے وہ تاءیوان کو اےک خطرناک جنگمیں دھکےل سکتیہیں اسکے نتائج کتنے خطرناک ہونگے اسکا اندازہ وہ بخوبی لگا سکتےہیں ۔ےہ تو عام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ کسی کو ہتھیار لڑنے کے لئے دیا جاتا ہے نہ کہ صلح کروانے کے لئے ۔دوسری جانب چین کو آج سے تےس سال قبل جب امرےکی کانگرس نے تاءیوان رےلےشن اےکٹ کی منظوری دے دی تھی تب ہی آج کے حالات سے نمٹنے کے لئے منصوبہ بندی کر لےنی چاہئے تھی اور کوئی درمیانی راستہ نکال کر تاءیوان اور اسکی عوام کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کر لےنے چاہئے تھے لےکن آج تےس سال کا عرصہ گزرنے کے بعد وہ امریکہ کے خلاف احتجاج کر رہا ہے ۔اِن تےس سالوںمیں چین نے امریکہ کے ساتھ بڑے پےمانے پر تجارت کرنے کے علاوہ کئی دوسرے معاہدے بھی کئے، نتےجتاً اُسے ماےوسی کا سامنا کرنا پڑا۔اب جبکہ امریکہ کے پاس اےک انتہائی ٹھوس موقف ہے کہ وہ تاءیوان رےلےشن اےکٹTRAکی پاسداری کر رہا ہے تو چین کو امریکہ کی بجائے تاءیوان کے حکام پر زور دےنا چاہئے کہ وہ چین کے مطالبہ پر غور کرےں اور خطےمیں قیامِ امن کی خاطر چین کے اشتراک سے ہانگ کانگ کی طرز پر اےک نیا سےٹ اَپ قائم کرلےں تاکہ چین اورتاءیوان کا دےرےنہ اختلاف خاتمے کو پہنچے اور کسی تےسری طاقت کے پاس خطےمیں مداخلت کرنے کا کوئی جواز نہ ہو ۔تاءیوان کے صدر کو بھی ےہ بات نظر انداز نہےں کرنی چاہئے کہ چین دنیا کی واحد سپر پاور بننے کی دوڑمیں شامل ہے اور اگر وہ اِس دوڑمیں کامیاب ہوتا ہے تو اسکا سب سے زیادہ فائدہ اےشیائی ملکوں کو ہوگااِس لئے چین اور تاءیوان کے حکام کو چاہئے کہ وہ فی الفورمذاکراتی عمل شروع کرےں تاکہ خطہ ہر قسم کے ممکنہ خطرات سے پاک ہو سکے۔


محمد اکرم خان فرےدی(کالم نگار)
36۔ مجاہد نگر،شےخوپورہ سٹی،پاکستان
فون نمبر 0302 4500098
Email: akramkhanfaridi@gmail.com






















 

مینارہ نور مزاح آپ کے خطوط انٹرویو ساءنس  رپورٹس

تصاویر

اردو ادب

 
 
Email:-jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team