|
امریکہ اور اسکا جوہری پارٹنراپنے اپکو خطے
اور دنیا میں انسانی حقوق کی ازادیوں کا مبلغ
تصور کرتے ہیں۔
دونوں کی باڈی لینگوئج سے ہر روز اس فلسفے کا
سوتا پھوٹتا ہے کہ وہ روئے ارض کی تہذیب یافتہ
اقوام کے سرخیل ہیں۔ایک اپنے اپکو اقوام عالم
کی بڑی جمہوریت سمجھتا ہے تو دوسرا قوت کے زور
پر سپرپاور یا عالمی قائد بنا ہوا ہے مگر
حقیقت کچھ اور ہے۔سچ کو جھوٹ کے پردوں میں
چھپانا مشکل ترین کام ہے۔کسی شاعر کا فقرہ ہے
ننگے بدن پر مخمل و ریشم کے پردے کیوں نہ ڈال
دئیے جائیں برہنگی پھر بھی نظر اتی ہے۔ویسے تو
کابل و بغداد میں نائن الیون کے بعد شروع کی
جانیوالی ظلمت اور کشمیر میں انڈین ارمی کی
جبریت سے ہی حقیقت منٹوں میں ہماری نظروں کے
سامنے رقص کرنے لگتی ہے تاہم حال ہی میں کوئی
اےسے واقعات منظر عام پر ابھرے ہیں جو دونوں
کے مہذب پن کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔کریبین خطے
سے تعلق رکھنے والے پسماندہ و گنجان ملک ہیٹی
میں12 جنوری کو خوفناک و ہیبت ناک زلزے نے2005
کے سونامی طوفان کے ریکارڈ توڑ ڈالے۔لاکھوں
انسان موت کی اغوش میں چلے گئے جبکہ درجنوں
شہر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔unoکے جنرل سیکریٹری
بانکی مون نے چند روز قبل کہا تھا کہ زلزلے سے
ملک کا انتظامی معاشی اور سرکاری ڈھانچہ مفلوج
ہوچکا ہے۔ہیٹی میں جہاں ایک طرف ہنستے بستے
اور کھلکھلاتے شہر پل بھر میں دولاکھ انسانوں
کو موت کی اغوش میں لیکر کھنڈرات کا روپ دھار
گئے تو وہاں بیوروکریسی ، سرکاری ملازمین اور
سیکیورٹی فورسز کے ہزاروں لوگ بھی موت کی سولی
پر لٹک گئے۔انتظامی انفراسٹرکچر کی مکمل تباہی
سے لٹیروں اور ڈکیٹوں کو کھلی چھوٹ مل گئی اور
انہوں نے لوٹ مار پرتشدد ہنگاموں اور طوائف
الملوکی کو انتہائی بلندیوں تک پہنچا
دیا۔امداد کی اڑ میں سمگلرز مافیاز اور گینگز
ہیٹی پہنچ گئے ۔ یہ ٹولہ دراصل غیر انسانی
جرائم کی غرض سے وہاں وارد ہوا۔جوں جوں وقت
گزرتا جارہا ہے ایسی المناک داستانیں بے نقاب
ہورہی ہیں جنہیں دیکھر ہر زی نفس اور انسانوں
کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔یہ سوال باضمیر
لوگوں کے دلوں پر دستک دیتا ہے کہ کیا کوئی
انسان اتنا جابر خود غرض زرپرست ہوسکتا
ہے۔ہیٹی میں انتظامی امور اور سیکیورٹی کے
معاملات سنبھالنے کی غرض سے سب سے پہلے امریکی
افواج پہنچ گئیں مگر ظلم تو یہ ہے کہ امریکی
افواج کی زیرنگرانی انسانی سمگلرز ایسے وقت
میں جب لاکھوں بے کس و لاچار زلزلہ زدگان اپنی
جانیں بچانے کے لئے موت سے جنگ کررہے ہیں اور
جب معصوم بچے ماں باپ کی لاشوں پر بیٹھے اہ و
فغاں میں مشغول تھے عین اسی وقت انسانی اعضاوں
کی سمگلنگ کا دھندہ شروع ہوگیا۔31 جنوری
کوپورٹ اور پرنس ایر پورٹ پر امریکی مشنری
گروپ پکڑا گیا جو انسانی اعضا کی چوری میں
ملوث تھے۔گرفتار گروپ نے انکشاف کیا کہ ہیٹی
انسانی اعضا کی سمگلنگ اور بچوں کی خرید فروخت
کا گڑھ بن چکا ہے۔امریکی ریاست اوڈائیو کے چرچ
سے تعلق رکھنے والے دس امریکی چوروں کا گروہ33
بچوں کے ہمراہ ملک سے فرار ہورہا تھا کہ بروقت
کاروائی پر پکڑا گیا۔امریکی فوج کی سرپرستی
میں لاکھوں ڈالرز کے انسانی اعضا ہیٹی سے دھڑا
دھڑ سمگل کئے جارہے ہیں اور اس انسانیت سوز
سمگلنگ میں ملوث مافیاز کی اکثریت امریکی
شہریت رکھتی ہے۔ امریکی صدر اوبامہ نے ایک طرف
عراق و کابل سے اتحادی افواج کی واپسی کے ٹائم
ٹیبل کا اعلان کررکھا ہے تو دوسری طرف نئے
جنگی محازوں کی سلیکشن کا کاروبار جاری
ہے۔امریکی پالیسی ساز دنیا کے کئی اورخطوں میں
جنگ کے شعلے بھڑکانا چاہتے ہیں۔ وائٹ ہاوس میں
محواستحراحت شعبہ انسداد دہشت گردی کے
کاریگرjhon benoon نے اوبامہ کو امریکی سنٹرل
کمانڈ کے جنرل پیٹریاس کی پلان کردہ وار
پلاننگ کی بریفنگ میں بتایا کہ وہ اس سال یمن
میں فوجی کاروائی کا فیصلہ کرچکے ہیں۔پچھلے
تین سالوں میں امریکہ یمنی حکومت کو70 ملین
ڈالر کی خیرات امداد کے نام پر دے چکا ہے۔
جنرل پیٹریاس نے cnn کو مطلع کیا کہ یہ رقم اس
سال دگنی ہوجائے گی۔امریکی جنگوں میں برطانیہ
حسب توفیق ساتھ ہوگا۔3 جنوری کو انگلش پرائم
منسٹر نے بی بی سی نیوز میں بتایا یمن صومالیہ
کی طرح خطے کا اہم ملک ہے اور وہ امریکہ کے
ساتھ ملکر اس پر نظر رکھیں گے۔امریکہ اور یمن
میں ریاست کے کسی حصے پر گولہ بارود برسانے کا
معاہدہ ہوچکا ہے۔امریکہ اوربرطانیہ ناٹو کی
مدد سے مشترکہ ایجنڈے کے تحت نئی جنگی حکمت
عملی طے کرچکا ہے۔یہ جنگ بحیرہ ارب سے لیکر
پاکستان تک پھیلائی جارہی ہے۔اس پلان میں
امریکہ کا افریقن فوجی ونگafricom سنٹرل کمان
اور ناٹو حصہ لیں گی۔گو کہ امریکہ و برطانیہ
میں بلیر و بش کی حکومتیں ازکار رفتہ ہوگئیں
مگر حالات و واقعات کی روشنی میں یہ ثابت
ہوچکا ہے کہ چہرے بدل گئے مگر اوبامہ اور
گورڈن براون سابق پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں
جنکا مقصد ایشیا افریقہ اور بحرہند تک دسترس
حاصل کرکے تیل کے زخائر کی لوٹ مار کے ایجنڈے
کی تکمیل ہے۔صومالیہ لبنان، پاکستان شام
فلسطین اور ایران پر الزام عائد کیا جارہا ہے
کہ ان ملکوں میں جہادی تنظیمیں کام کررہی ہیں
جو امریکہ کے لئے خطرات بن چکی ہیں۔یوں امریکہ
مستقبل قریب میں ان ملکوں میں شب خون مارنے کا
پلان مرتب کرچکا ہے۔صومالیہ کے راستے نیٹو
بحیرہ ارب اور خلیج فارس پر قابض ہونا چاہتی
ہے۔مغربی میڈیا کے مطابق سی ائی اے کیوبا
جیوتی ایتھوپیا اردن کینیا کرغستان سوڈان
تاجکستان میں علحیدگی پسند تحریکوں کو دھڑا
دھڑ اسلحہ و پیسہ مہیا کررہی ہے تاکہ کل کلاں
دہشت گردی کی طومار باندھ کر عسکری کاروائی کی
جائے۔ بھارت بھی اپنے جوہری پارٹنر امریکہ کی
طرح خطے کی بالا دست طاقت بننے کے چکر میں غرق
ہے۔بھارت ایک طرف پاکستان کو مذاکرات کی دعوت
دیتا ہے تو دوسری جانب مذاکرات کی ناکامی کا
پیشگی اعلان بھی کردیا جاتا ہے۔بھارت نے
پاکستان اور چین کو بیک وقت جنگ کی دھمکی دی
ہے۔پاکستان میں امریکی سفیر پیٹرسن نے بھارت
کی دھمکی کوsilly کہا ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا
کہ امریکہ بھارت کی سرزنش کرتا مگر امریکہ نے
دوغلے پن کا کردار انجام دیا کیونکہ دونوں
ایشیا میں مشترکہ مفادات کے حصول کے خواہش مند
ہیں۔ مذاکرات کے بھاشن دیکر اپنی جمہوریت
پروری کے بے سروپا طبلے بجانے والے بھارتی
وزیردفاع انتھونی نے کہا ہے کہ پاکستان میں
حکومتی سرپرستی میں دہشت گردوں کے کیمپ جاری
ہیں۔من موہن سنگھ نے تو پیشین گوئی کردی کہ
پاک بھارت مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کا امکان
نہیں۔بھارتی وزیرخارجہ ایس کرشنا کہتے ہیں کہ
مذاکرات کے بارے حتمی فیصلہ پوٹا بم دھماکوں
کی تفتیش کے بعد ہوگا یعنی مذاکرات ہوسکتے ہیں
مگر نتیجہ صفر ہوگا۔دنیا کی سپرپاور اور بڑی
جمہوریت بھارت کی کارگزاریوں اور جنگی جنون سے
دونوں کے اصلی چہرے بے نقاب ہوچکے ہیں۔اگر
امریکہ و بھارت اپنی عالمی قیادت اور بڑی
جمہوریت کا اعزاز برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو
دونوں کو اپنے سر پر طاری طاقتور قوم کے بھوت
کو جھٹکنا ہوگا ورنہ سب کچھ بیکار ہے۔امریکہ
کے عراق و کابل اور انڈیا کے کشمیر میں جاری
سفاک ترین مظالم اور سامراجیت پرستی کے حقائق
امریکہ و بھارت کو سپرپاور اور بڑی جمہوریت کے
القابات سے پکارنا جمہوریت و انسانیت کی توہین
ہے۔کیا یہ سچ نہیں کہ سامراجیت و استعماریت کا
جمہوریت و عالمی قیادت سے کوئی تعلق نہیں بنتا
|