اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 

Email:-raufamir.kotaddu@gmail.com 

Telephone:-       

 

 

تاریخ اشاعت26-02-2009

ایشین ٹائیگر کو زہر پلانے کی سازش

جبران نے کہا تھا قومیں بنتی ہیں بکھرتی ہیں ٹوٹتی ہیں مگر یہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے اور بلندیوں کو چھونے کے لئے اوج ثریا کا ذادہ راہ بھی تلاش کرلیتی ہیں اگر لیڈر شپ دیانت و صداقت کی علمبردار ہو۔1957 میں ازاد ہونے والے ملائشیا کے مقدر کا سکندر جاگ اٹھا جب امہ کے دیدہ ور رہنما ڈاکٹر مہاتیر محمد سربرائے سلطنت ہوئے۔مہاتیر نے عزم پہیم اور جنون بادہ پیمائی سے ملائشیا کو ایشین ٹائیگر بنادیا ۔مہاتیر محمد نے ہمیشہ مسلم امہ کی یکجہتی کے لئے قابل داد فرض انجام دیا۔انہوں نے نائن الیون کے بعد کابل و بغداد میں اتحادیوں کی وحشت کے خلاف نہ صرف آواز حق بلند کیا بلکہ انہوں نے امریکہ سمیت طاغوتی قوتوں کو کسی مصلحت خوف و ڈر سے بالا تر ہوکر تنقید کا نشانہ بنایا۔ مہاتیر نے ملائشیا کے اسلامی تشخص کو پوری ان بان سے قائم رکھا۔مغرب کی طرح ملائشیا میں بھی دین اسلام کی روشنی غیر مسلموں کے تاریک سینوں میں نور بن کر مہک رہی ہے۔امریکہ اور حواریوں کو ملائشیا کی PRO ISLAMICپالیسیاں ناپسند ہیں اسی لئے مغربی ایجنسیاں ملائشیا میں فرقہ واریت اور نسلی گروہ بندیوں کی اگ بھڑکاتی رہتی ہیں تاکہ ا یشین ٹائیگر کو سیاسی و فروعی انتشار کا زہر پلایا جائے۔پچھلے دنوں ملائشیا میں مسلم عیسائی فسادات کا خونی راونڈ کھیلا گیا جسکے پس چلمن حلقوں میں صہیونی شرپسند لابیاں کار فرما ہیں۔ملائشیا کے مسلمانوں نے غیر مسلموں کے حق میں صاد کئے جانیوالے عدالتی فیصلے پر سخت گیر احتجاج کیا۔عدلیہ نے نان مسلم کو لفظ اللہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔یوں مسلمانوں کا احتجاج پرتشدد فسادات میں بدل گیا جس میں گرجا گھر اور پبلک املاک بھسم ہوگئیں۔ ملائشیا تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور سنگاپور کے درمیان واقع ہے جسکی ساٹھ فیصد ابادی دین محمدی کی پیروکار ہے اور یہ ازمنہ قدیم سے یہاں اباد ہیں۔1511 میں پرتگالی عیسائی بادشاہ abu qarq ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں بائبل اٹھائے یہاںوارد ہوا جسکا مطمع نظر مسلمانوں کو جبر کے زور پر عیسائیت اپنانے پر مجبور کرنا تھا۔ہزاروں بے کس و لاچار مسلمانوں نے خوف و ڈر کی وجہ سے عیسائیت قبول کرلی۔برطانیہ نے جونہی یہاں عیسائیت کی سرسبز ی اور شادابی کو دیکھا تو وہ دوڑا چلاایا۔1857 میں ملائشیا برطانیہ کی کالونی بن گیا۔برطانوی سامراجیت کا سورج غروب ہوا تو حریت پسند مسلمانوں نے تحریک ازادی کو خون جگر سے کاشت کیا اور پھر ملائشیا1959 میں ازاد ملک بن گیا۔ملائشیا جلد ہی دولت مشترکہ کا رکن بن گیا۔عیسائیوں نے مخاصمت میں ملائشیا کے اسلامی تشخص کے تاج محل کو کرچی کرچی کرنے کا کوئی موقع مس نہ کیا۔مہاتیر نے جدید دنیا کا حصہ بننے کے لئے جہاں روشن خیالی کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا تو وہاں انہوں نے اسلامی روایات کا علم مضبوطی تھامے رکھا۔مہاتیری دور میں اسلامک بنک اور اسلامک بنکاری کو فروغ ملا۔وہ او ائی سی کے ہر اجلاس میں بے ضمیر مسلم حکمرانوں میں سامراجیوں کے خلاف خود مختیاری غیرت و خوداری کا جوش و جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے مگر المیہ تو یہ ہے کہ oic انکی ارا کو زبانی کلامی اہمیت سے تو سرفراز کیا تاہم وہ مہاتیر کی فکر و سوچ کی پیروی سے محروم رہے۔مغرب اور ملائشین عیسائی یکسو ہوکر اسلامی روایات کی راہ میں مزاحم ہوتے ہیں جبکہ شرپسندوں کی ریشہ دوانیوں کے توڑ کے لئے مسلمان سر پر کفن اوڑھ لیتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دین اسلام ہر انسان کو مذہبی ازادی کی اجازت دیتا ہے مگر غیر مسلموں کی طرف سے دی جانیوالی ایذارسانی کے خلاف تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ مسلمانوں کو ائینی قانونی اور اسلامی نقطہ نظر سے اپنے نظریات کے تحفظ کی اجازت ہے کہ جب اسلامی اعتقادات مجروح ہونے لگیں تو انہیں روک تھام کے لئے میدان میں اترنے کی اجازت ہے۔ملائشیا میں لفظ اللہ کا استعمال صرف مسلمان کرسکتے ہیں غیر مسلم کیمیونٹی اللہ کا لفظ استعمال نہیں کرسکتی تھی۔اللہ مسلمانوں کی دینی اصطلاح اور انکے معبود کا نام ہے۔اسلامی فضلا کا کہنا ہے اگر عیسائی کیمیونٹی کو الللہ کے نام کی اجازت دی جائے تویہ عیسائی باطل اعتقادات کے فروغ پانے کا سبب بن سکتی ہے۔ملائشیا کے عیسائی کیتھولک ہرلڈ نام کا اخبار چھاپتے ہیں جو یسوح مسیح کے منشور و نظریات کی تبلیغ کرتا ہے۔ اخباری مالکان نے دوسری اقلیتوں کو ساتھ ملا کر مقدمہ دائر کیا کہ انہیں اللہ کا لفظ استعمال کرنے کی ازادی دیجائے۔عدلیہ نے حکومتی پابندی ختم کرکے اقلیتوں کے حق میں فیصلہ سنایا۔ عدلیہ کا فیصلہ ایک طرف عیسائیت کے فروغ کی راہ ہموار کر سکتا ہے تو دوسری طرف دنیا کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ اللہ کا لفظ صرف عیسائیوں کے لئے مختص ہے۔اگر ایسا ہی ہے تو پھر مسلمانوں اور عیسائیوں میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔مسلمانوں کے خلاف عالمگیر میڈیا وار جاری ہے تاکہ مسلمانوں کو دہشت و شدت پسند ثابت کیا جائے۔میڈیا کے زریعے مسلمانوں کو ظالم و جابر ثابت کرنی کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ یک طرفہ پراپگنڈہ ہے جو مسلمانوں کے خلاف ہے۔ میڈیا میںمسلمانوں کے موقف کو نہ تو سنا جارہا ہے اور نہ ہی حقائق کو اجاگر کیا جارہا ہے۔ ۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مغربی ایجنسیوں نے مسلمان انتہاپسندوں کی جیب بھر کر فسادات پر اکسایا ہو تاکہ کرسچنز کی معصومیت کا ڈرامہ باکس افس پر ہٹ ہوسکے۔مسلم امہ کے زرائع ابلاغ کا فرض ہے کہ وہ صہیونی میڈیا کی ہرژہ سرائیوں اور گوئبل ازم کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنا جاندار کردار انجام دے تاکہ اقوام عالم پرحقیقی صورتحال منکشف ہو۔ غیر مسلم لفظ اللہ استعمال کرنے کے مجاز ہیں یا نہیں؟ ملائشین مسلمانوں کا نقطہ نظر انتہاپسندی ہے یا برحق اسکی درست تشریح تو علمائے کرام کرسکتے ہیں تاہم جہاں تک رب العالمین کے نام کا واسطہ ہے تو سیدھی بات تو یہ ہے روئے ارض کی ساری مخلوق خدا کی پیدا کردہ ہے۔یوں مسلمانوں کو فکری برداشت و صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔اگر فرقہ واریت قتل و غارت اور جلاو گھیراو اللہ کے نام سے ختم ہوسکتے ہیں تو پھر مسلمانوں کو اعتراض سے باز رہنا ہوگا تاہم اگر ایسا کرنے سے اسلامی تشخص پر کوئی حرف اتا ہو تو پھر اقلیتوں پر پابندی برقرار رکھی جائے۔ بحرف آخر مسلم امہ کو مہاتیر محمد کی فراست و بصارت اور جبران کے قول کی روشنی میں اپنی گم شدہ عظمت رفتہ کی یاد تازہ کرنی ہوگی تاکہ فرقوں میں بکھری ہوئی امہ کو دوبارہ عروج کی طرف سفر کے اغاز کا موقع مل سکے۔
 

 

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team