اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 

Email:-raufamir.kotaddu@gmail.com 

Telephone:-       

 

 

تاریخ اشاعت15-03-2009

 افغانستان پاکستان اور طالبان ہوش کریں

روف عامر پپا بریار

افغانستان کے صدر حامد کرزئی دوسری مرتبہ صدر بننے کے بعد حال ہی میں پاکستان یاترا پر تشریف لائے۔ حامد کرزئی ماضی میں پاکستان پر جنگجووں کی سرپرستی گھناوئنی افترپردازی کا شوق پورا کرتے رہے ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ کرزئی ناٹو کی کٹھ پتلی ہے جو وائٹ ہاوس کے اشاروں و کنایوں پر ناچتی ہے۔وہ صدر تو ہیں مگر انکی زبان صرف امریکی احکامات کی وردزبانی کرتی ہے۔یوں کرزئی کے ر ویوں پر اعتماد کرنا نادانی ہوگی مگر ہمیں بہتری کی امید کا دامن بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔کرزئی کے دورے کے متعلق اہم ترین سوال تو یہ ہے کہ کیا انکا دورہ پاک افغان تعلقات کی دوستانہ بحالی اور دونوں ملکوں کے درمیان باہمی انڈر سٹینڈنگ اور اعتماد کی فضا پیدا کرنے کا موقع فراہم کرسکتا ہے؟؟ اس نکتے پر تجزیہ نگار اپنی اپنی دانش و بنیش کی رو سے اظہار خیال کررہے ہیں مگر غالب کی رائے ہے کہ کرزئی کے لہجے میں خوشگوار تبدیلی رونما ہوچکی ہے۔ وہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا عشق کرنے کے خواہاں تو ہیں مگر وہ بھارتی دست شفقت سے بھی محروم ہونے کے موڈ میں نہیں۔ صدر وزیر اعظم ارمی چیف اور وابستگانٍ خارجہ امور سے اپنی ملاقاتوں میں جو گفت و شنید ہوئی وہ کرزئی کی سوچ میں تبدیلی کا پتہ دیتی ہیں مگر بعض معاملات پر کرزئی نے جو فلسفیانہ موشگافیاں چھوڑی ہیں وہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اپنی حکمت عملیوں پر کارامند ہیں۔ کرزئی نے ایک طرف پاکستان کو جڑواں بھائی کہا تو دوسری جانب بڑی معصومیت سے کہہ گئے کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف افغان زمین استعمال کرنے کی کوشش کی تو اسکے خلاف کاروائی ہوگی۔پاکستانی ایجنسیاں کئی سالوں سے ماتم کررہی ہیں کہ افغانستان میں قائم بھارتی کونصل خانے پاکستان میں ہونے والی تخریب کاری اور دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔کیا وہ لاعلم ہیں کہ پاکستانی سرحدوں کے قریب بھارتی کونصل خانے کیوں اور کس لئے قائم ہیں؟ انڈین کونصل خانے ایسے شہروں میں قائم ہیں جہاں کے شہری بھارت جانے کے لئے ویزوں کا استعمال نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کے بھارت میں نہ تو رشتے دار مقیم ہیں اور نہ ہی وہ انڈین تاجروں سے روابط رکھتے ہیں۔ کرزئی نے کراچی سے گرفتار کئے جانیوالے ملا برادرزا کو افغانستان کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا کہ وہ افغان شہری ہیں مگر جب انکے سامنے تیس لاکھ مہاجرین کی واپسی کا معاملہ اٹھایا گیا تو وہ خاموش ہوگئے۔ بگرام جیل میں درجنوں پاکستانی امریکی ظلمت کا شکار ہیں۔پاکستانی زعما نے بگرام کے پاکستانی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تو پشتون صدر نے ٹال مٹول سے کام چلایا۔کرزئی نے وزیراعظم پاکستان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں دوبارہ کہا کہ عسکریت پسند پاکستان میں روپوش ہیں مگر انہوں نے اس سوال کا جواب نہ دیا کہ گرفتاری سے پہلے ملا بردران کا کابل سے رابطہ تھا۔کرزئی نے یقین دہانی کروائی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہوگی تاہم انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اسلام اباد افغانستان کو ازاد و خود مختیار ریاست تسلیم کرے اور یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم اپنی مرضی سے کسی بھی ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں ازاد ہیں۔ افغانستان اور طالبان کے دوران مفاہمتی ڈائیلاگ کے قصے کئی دنوں سے میڈیا کی زینت بن رہے ہیں۔ کرزئی نے مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لئے پاکستانی کردار کا اعتراف کیا۔پاکستان کو خدشہ تھا کہ کرزئی مفاہمت کے لئے جو جرگہ منعقد کروانا چاہتے ہیں اس میں پاکستان کو شمولیت کی دعوت نہیں دی جائے گی۔ تاہم کرزئی کے دورے سے یہ خدشہ دور ہوگیا۔پاکستان افغانستان کو ترقی یافتہ اور پرامن ملک بنانے کا خواہشمند ہے۔اسی لئے جنرل کیانی نے کرزئی کو افغان فورسز کو عسکری تربیت دینے کی پیشکش کی تاکہ افغان ارمی اپنا وزن خود اٹھا سکے۔ پاکستان یہ بھی چاہتا ہے کہ افغانستان میں بھارت کا کم سے کم کردار ہو۔ اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کرزئی اس حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں اور دونوں ملکوں کے مابین بہتر تعلقات کی جس ضرورت پر روشنی ڈالی اسکی کامیابی کے لئے وہ کیا کردار ادا کرتے ہیں؟ صدر زرداری اور کرزئی کے مابین ہونے والی بات چیت کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وائٹ ہاوس اور کرزئی کے درمیان کدورتیں حائل ہیں۔کرزئی نے ایسی خبروں کا اعتراف بھی کیا۔کرزئی طالبان کے ساتھ مفاہمتی عمل اور ڈائیلاگ کی سعی کررہے ہیں مگر امریکہ مفاہمتی نقطہ نظر کا مخالف ہے۔افغان صدر نے امریکی میڈیا کی ان خبروں کی تردید کی کہ ملابرادرز کی گرفتاری کا مقصد کرزئی کی جانب سے طالبان کے ساتھ مفاہمتی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔کرزئی نے پاکستانی صحافیوں کو بتایا کہ وہ دوستی کا نیا باب کھولنے کے لئے پاکستان ائے۔انہوں نے میڈیا سے حمایت کی اپیل کی۔کرزئی پاکستان ائے تو پوری کابینہ نے دیدہ دل فرش واہ کردیا جس سے پاکستان کی نیک نیتی ظاہر ہوتی ہے کہ پاکستان بھی افغانستان کے ساتھ خوشگوار ریلیشن شپ کا خواہشمند ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ جب تک کرزئی سرکار کی طرف سے کوئی مثبت اقدامات نہیں اٹھائے جاتے تب تک خدشات اور شکوک شبہات میں کمی واقع نہیں ہوسکتی۔ حالیہ دورے میں افغان صدر کی سوچ میں تبدیلی صاف جھلک رہی تھی تاہم اس تبدیلی کو اس وقت تک قابل اعتبار نہیں مانا جاسکتا جب تک کرزئی اپنے وعدے پورے نہیں کرتے۔کرزئی کو جان لینا چاہیے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر کرزئی اور انکے سرپرست امریکہ کی افغان پالیسی کامیابی کا زائقہ نہیں چکھ سکتی مگر پاکستان اور کرزئی حکومت کو تاریخ کا یہ سچ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ طالبان سے ہاتھ ملائے بغیر ڈریونڈ لائن کے ار پار قیام امن کا سورج کبھی طلوع نہ ہوگا۔کرزئی پشتون ہیں جو غیرت و حمیت کے لئے سر کٹوا تو سکتے ہیں مگر جھکا نہیں سکتے۔کیا کرزئی کے لئے بہتر نہ ہوگا کہ وہ اپنی رگوں میں دوڑنے والے پشتون خون کی لاج رکھتے ہوئے امریکن تلوے چوسنے کی بجائے دھرتی افغان کو ناٹو کی وحشت و بربریت سے ازاد کروائیں؟ پاکستان افغانستان اور طالبان چاہے ملاعمر گروپ کے وفادار ہوں یہ پاکستان کے در و بام کو خود کش بمباری کے خون سے لال کرنے والے تحریک طالبان پاکستان کے قاتل ہوں ساروں کو چاہیے کہ وہ امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کی تازہ ترین رپورٹUS STRETEGY FOR MUSLIM WORLD کا ہوش و حواس سے جائزہ لیں کہ کس طرح یہود و ہنود نے ہمیں ایک دوسرے کا خون بہانے کا خونخوار منصوبہ بنا رکھا ہے۔ رپورٹ میں امریکی حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ امریکہ اور مغرب کی مستقل ضرورت ہے کہ امت مسلمہ کے تصور کو مسخ کیا جائے جس طرح جنگ عظیم اول کے بعد اسلامی سلطنت کے حصے بخرئیے کئے گئے۔اقتدار کے پجاری مسلم رہنماوں نے جغرافیائی بنیادوں پر جدید مغربی تصور کو قبول کرلیا تھا۔یہ پہلا مرحلہ تھا جس میں سازشیوں کو فتح ہوئی۔دوسرے مرحلے میں اب موجود اسلامی ریاستوں کو اندرونی تضادات میں الجھا کر انکی قوت بکھیری جارہی ہے۔
 

 

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team