اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:-03222777698

Email:-azamazimazam@gmail.com

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

تاریخ اشاعت:۔2011-05-10

اُسامہ کی شہادت ایک المیہ!
کالم ۔۔۔۔۔۔۔ محمداعظم عظیم اعظم
اُسامہ کی شہادت ایک المیہ!امریکی مفکر نوم چومسکی اُسامہ کی شہادت پر ناخوش
آہ ....آہ !وزیراعظم کا پارلیمانی خطاب ! نہ عوام کو اعتماد میں لے سکے اور نہ امریکاکوسمجھاسکے
اُسامہ کی شہادت اورپاکستان کے دوست نمادشمن امریکاکی ہڈدھرمی
دومئی کو پاکستان میں رچائے جانے والے ایک امریکی ڈرامے میں اُسامہ بن لادن کی شہادت کے بعد تو یہ حقیقت عیاں ہوچکی ہے کہ امریکا کبھی بھی نہ تو پاکستان کے ساتھ مخلص رہاتھا اور نہ ہی اِس نے کبھی پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی نبھائی ہے یہ وہ پاکستان کا دوست نما ہڈدھرم دشمن ہے جس نے ہمیشہ پاکستان کو کسی نہ کسی بہانے نقصان پہچانے کا کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور اَب دومئی کو امریکی فورسز نے پاکستان کے ایک علاقے ایبٹ آباد میں ایک مختصر ترین آپریشن میں اپنے سب سے زیادہ مطلوب شخض اُسامہ بن لادن کی شہادت کا جس انداز سے ڈرامہ رچایا اور اِس کے بعد سے پاکستان پر امریکا کی جانب سے جس قسم کے الزامات لگائے جارہے ہیں اِن سے تو یہی اندازہ ہوتاہے کہ اَب امریکا عراق اور افغانستان کے بعد اپنا تیسراجنگی محاذپاکستان میں کھولنے کے لئے پَرتول رہاہے جبکہ اِس سے انکار نہیں کہ پاکستان میں دومئی کو ایک امریکی ڈرامے میں اُسامہ بن لادن کی شہادت پر امریکااور لندن سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے عوام میں ایک ایسی سوچ و فکر جنم لے چکی ہے جس سے یہ واضح ہوتاہے کہ امریکا اور لندن کے علاوہ دنیاکے دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے عوام اُسامہ کی اِس طرح کی شہادت پر دوحصوں میں بٹ چکے ہیں جن کی اپنی علیحدہ علیحدہ سوچیں ہیں اِس کا اندازہ دور جدیدکے ایک عظیم امریکی مفکر نوم چومسکی کی اِس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ اُنہوں نے اُسامہ کی شہادت پر اپنے شدید غم وغصے کا اظہار کچھ اِس طرح کیا ہے کہ” وہ اُسامہ کی اِس طرح ہونے والی شہادت پر ناخوش ہیں “ اور اِسی طرح” لندن میں اُسامہ کے حامیوں اور مخالفین میں ہونے والی وہ جھڑپ بھی ہے“ جس سے آج امریکی و لندن کی انتظامیہ اور امریکی ا ورلندن کے عوام بھی خود حیران اور پریشان ہوگئے ہیں۔
ایک امریکی ٹی وی کے مطابق نوم چومسکی نے کہاہے کہ یہ بات عیاں ہے کہ امریکی آپریشن سے اُسامہ کی شہادت ایک پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی گئی ہے جس میں امریکا نے اپنی کھلی ہڈدھرمی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اُصولوں کی دھجیاں بکھیر دی ہیںاورامریکی فورسز کی اِس مختصر کارروائی میں امریکیوں نے یہ کوشش ہی نہیں کی کہ ایک نہتے اُسامہ کو زندہ ہی پکڑ لیتے اور اِس سے نائن الیون میں ملوث ہونے کے ثبوت دریافت کرتے اور امریکا اپنے اُوپر لگنے والے اِس بہتان کو بھی دنیاکے سامنے واضح کرنے کی کوشش کرتاکہ امریکا کے پاس نائن الیون کے واقعہ میں اُسامہ کو ملوث کرنے کے ثبوت نہیں ہے مگر شائد طاقت کے گھمنڈ میں مبتلاامریکا کو یہ منظور نہ تھا اِسی لئے امریکی صدر بارک اُوباما نے اُسامہ کو ترنت مارنے کو ہی غنیمت جان کر ایک ایساغلط کام کروادیاہے کہ جس کے بعد نہ صرف امریکاکے لئے مزید مشکلات پیداہوجائیں گئیں بلکہ دنیا کو بھی ایک ایسی انتقامی جنگ کی آگ میں جھونک دیا گیاہے جس سے اَب نکلناکسی کے بھی بس میں نہیں ہوگااور اِس کے ساتھ ہی نوم چومسکی نے یہ بھی کہاہے کہ امریکیوں کو اُسامہ بن لادن کو شہیدکرنے سے پہلے اپنے گریبانوں میں ضرور جھانک لینا چاہئے تھا اور اپنے کلیجوں پر ہاتھ رکھ کر بڑے ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ یہ ضرور سوچ لیناچاہئے تھا کہ اگر عراقی کمانڈر جارج بش کو اِس کے کمپاو ¿نڈ میں گُھس کراِسے بھی اِسی طرح بیدری اور وحشیانہ پن سے قتل کریں اور جارج کی لاش کو اپنی طاقت اور قوت کے گھمنڈ سے سمندربردکردیں تو ذراسوچو امریکیوں کا کیاردِعمل ہوگاعظیم امریکی مفکرنوم چومسکی نے اپنا سینہ ٹھونک اور پورے وثو ق کے ساتھ یہ بھی کہا کہ دومئی کو بارک اوبامانے وائٹ ہاو ¿س کی بلڈنگ میں بیٹھ کر اپنے جاری بیان میں جس انداز سے یہ جھوٹ بولاہے کہ ”امریکاکو جلد پتہ چل گیاتھا کہ نائن الیون کے حملے االقاعدہ نے کئے ہیں“ حالانکہ کے امریکا کے دانشوروں اور دنیا کی پل پل بدلتی صُورت حال پر نظررکھنے والا ایک بڑاطبقہ یہ بات خُوب جانتاہے کہ ناین الیون میں القاعدہ کسی بھی طور پر ملوث نہیں ہے اِس واقع کے پیچھے اسرائیلی سازش کارفرماتھی اور بارک اوباماکہتے ہیں کہ سانحہ نائن الیون میں القاعدہ ملوث ہے “ نوم کا کہناہے کہ اُوباما کا یہ جھوٹ وائٹ ہاو ¿س کی شان کے خلاف ہی نہیں بلکہ اُن امریکی اُصولوں اور ضابطوں کے بھی برعکس ہے جن پر قائم رہ کر امریکی پُرکھوں نے برسوں سے امریکی شان و شوکت اورعظمت میں چار چاند لگائے ہیں بس دومئی کے سانحہ ایبٹ آباد کے حوالے سے بارک اوباماکے ایک بیان نے امریکیوں کی بنی بنائی عزت خا ک میں ملادی ہے۔
یہاں اِن تمام باتوں سے بھی زیادہ جو دنیااور امریکیوں کے لئے حیران اور پریشان کُن بات وہ یہ ہے کہ اِس دورِ جدید کے عظیم امریکی مفکرنوم چومسکی نے بڑے اعتماد اور اطمینان کے ساتھ یہ بھی کہاہے کہ امریکامیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا سب کچھ لُٹانے والے پاکستان کے کردار پرجس شدومد سے انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں وہ پاکستان کے وقار اور کردار کو دنیاکے سامنے مسخ کرکے پیش کرنے کے مترادف ہے جس سے امریکی عوام سے تعلق رکھنے والا دانشوروں کا ایک بڑاطبقہ سخت تشویش میں مبتلاہے کیونکہ پاکستا ن میں امریکا نے اپنی طاقت اور قوت کے گھمنڈ میں مبتلاہوکر جس انداز سے اُسامہ بن لادن کا ڈرامہ رچایا اُس سیاسی قتل کے لئے پاکستانی حدود میں امریکی ہڈ دھرمی کے خلاف کوئی بات نہیں کی جارہی ہے اور چونکہ یہ حقیقت ہے کہ دومئی کو امریکا نے دیدہ و دانستہ طور پر پاکستان میں جو غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکت کی ہے اِس پر پاکستانی رائے عامہ کی امریکا کے خلاف شدت میں اضافہ ہونا ایک لازمی امرہے جس پر امریکا کو ہرحال میں حکومتِ پاکستان، عوامِ پاکستان اور افواج پاکستان سے فوری طور پر معافی مانگنی چاہئے مگر اِس پر امریکاکی


ہڈدھرمی کا یہ عالم سمجھ سے بالاتر ہے کہ” امریکا القاعدہ کی اعلی قیادت کو نشانہ بنانے کے لئے دوبارہ ایساحملہ کرے گا “ امریکا کا یہ بیان پاکستان میں اپنے خلاف نفرت کی مزید آگ بھڑکانے کے مترادف ہے نوم چومسکی نے اپنے اِسی انٹرویومیں کہاکہ سابق امریکی صدر جارج بش کے جرائم کی فہرست تو اُسامہ بن لادن کے جرم سے کہیں زیادہ طویل ہے جس نے اُسامہ کو نشانہ بناکر مشرقِ وسطی کو جنگ وجدل میں دھکیل دیاہے بش کے اِس جنگی جرائم کی وجہ سے اَب تک لاکھوں انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں اور اِس کے باوجود بھی یہ ظالم اور انسانیت کے کھلے دشمن امریکی حکمران ہیں کہ اِنسانیت کا بیدریغ خون بہاکر بھی دنیابھر میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے علمبرادبنے پھررہے ہیں نوم چومسکی نے اِس موقع پر کیوباکا حوالہ دیتے ہوئے غم وغصے سے کہاکہ امریکا کیوباکے مطلوب اُس بڑے آدم خور دہشت گرد کو کیوں بھلارہاہے.....؟ جِسے امریکا نے اپنے
یہاں ایک بڑے عرصے تک پناہ دی اور کیوبا کو مطلوب یہی دہشت گرد کیلیفورنیا میں پُرسکون طبعی موت مرا امریکی مفکر نوم چومسکی نے ظالم و جابر اور فاسق سابق امریکی صدر بش کے اُس فلسفے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بش کی دہری ذات کا عکاس ہے جو ایک طرف تو دنیا میں امن وسکون کا پرچاکرتارہاتو دوسری طرف اِسی بش نے اسرائیلیوں کے ساتھ مل کر اُسامہ کے کاندھے پر بندوق رکھ کر دنیا کو امریکی جنگ سے آگ و خون سے بھردیا۔
نوم نے کہاکہ بش کایہ فلسفہ غلط ہے کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے والے معاشرے بھی برابر کے مجرم ہیںاور بش کا یہ فلسفہ اور آپریشن جنرونیمواِس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ جس ملک نے بھی امریکا پر چڑھائی کی اِسے معاشی ، اقتصادی ، سیاسی اور اخلاقی طور پر تباہ وبربادکردیاجائے اور اِس کے صدر کو قتل کردیاجائے۔
یہاں ہماراخیال یہ ہے کہ دورجدید کے اِس عظیم ا مریکی مفکر نوم چومسکی نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں بلادوٹوک جس انداز سے موجودہ اور سابق امریکی صدور کی جنونیت سے متعلق انکشافات کرتے ہوئے جو کچھ بھی کہاہے وہ یقینا امریکا سمیت ساری دنیا کے لئے حیرانگی کا باعث ہے کہ امریکی انتظامیہ اور ایک عام امریکی شہری سے ہٹ کر امریکا میں بسنے والا دانشوروں کا ایک سنجیدہ طبقہ پاکستانی حدود میں غیرقانونی طورپر داخل ہوکر اُسامہ کی شہادت کے رچائے جانے والے ڈرامے پر کس قسم کے خیالات رکھتاہے اور بارک اوباماکے اِس قول وفعل کو کس قدر حقارت سے دیکھتاہے یہ موجودہ امریکی انتظامیہ اور دنیابھر میں بسنے والے امریکیوں منہ پر ایک زور دار طمانچے سے کم نہیں ہے۔
اُدھر دومئی کے المناک سانحہ کے گزرنے کے دس روزبعد بھی حکومت پاکستان نہ تو اپنے ساڑھے سترہ کروڑ عوام اور اپوزیشن کو اعتماد میں لینے میںکامیاب ہو سکی ہے اور نہ ہی امریکا کو یہ سمجھاسکی ہے کہ اِس کے نائن الیون کے واقعہ میں ملوث اِسے سب سے زیادہ مطلوب شخض اُسامہ بن لادن کو پاکستانی قیادت اور خفیہ ایجنسیوں نے اپنی ناک کے نیچے نہیں چھپارکھاتھااور اِس کی یہاں موجودگی کی خبر اِسے نہیں تھی ۔
اِس حوالے سے گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ایبٹ آباد آپریشن پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی نے کہا کہ ایبٹ آبادآپریشن کی تحقیقات کا حکم دے دیاگیاہے ، حکومت کو فوج اور آئی ایس آئی کی کمانڈ پر مکمل اعتماد ہے ہم نے اُسامہ کو نہیں بلایا، دوسروں کی ناکامیوں کا ذمے دار ہمیں نہیں ٹھہرایاجاسکتا ،اسٹرٹیجک اثاثوں کے خلاف کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دیاجائے گا اور دہشت گردی کے خلاف تعاون شراکت داری کی بنیاد پر ہوناچائے۔اگر چہ قومی اسمبلی میں کئے گئے وزیراعظم کے اِس ہلکے پھلکے خطاب سے نہ تو قوم ہی مطمئن ہوپائی ہے اور نہ ہی اپوزیشن کو حکومت کے کسی ایسے اقدام پر بھروسہ اور اعتماد قائم ہوسکاہے جس کا تذکرہ وزیراعظم نے اسمبلی خطاب کے دوران کیاجبکہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جس امریکاکی پردہ داری میں وزیراعظم نے اپنایہ خطاب کیاہے اُسی امریکا نے تو دوٹوک الفاظ میں یہ کہہ دیاہے کہ قومی اسمبلی میں کیاگیا گیلانی کا خطاب ہمارے کسی کام کا نہیں کیوں کہ گیلانی کی لجھے دار اور طویل تقریر ہمارے اُن سوالات کا جواب نہیں جو ہم نے اُسامہ کی شہادت کے بعد پاکستان سے دریافت کئے ہیں ۔
اَب دیکھنایہ ہے کہ ہماری حکومت کب حزب اختلاف اور عوام کو مطمئن کرپاتی ہے یا امریکا کے پوچھے گئے اُن سوالات کے جوابات دے کر پھر سے امریکا کاخود پر اپنااعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یہ تو اِس کی صوابدید پر ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں اِس حوالے سے کیا کیاگُل کھلاتی ہے....؟
بہرحال! یہ بات تو اٹل ہے کہ حکومت جب تک حزب اختلاف اور عوام کے سامنے پوری طرح سچ بیان کرکے اِنہیں اپنے اعتماد میں نہیں لے لیتی امریکا حکومت کو ہر طرح سے پریشان کرتارہے گا کیوں کہ وہ یہ بات اچھی طرح سے جانتاہے کہ ایک طرف حکومت ہمارے دباو ¿ میں ہے تو دوسری طرف یہ عوام کو وہ حائق کبھی نہیں بتاسکتی جس کے بارے میں اِس نے ہم سے معاہدے کررکھے ہیں۔یہاں ہمارااپنی حکومت کو یہ مشورہ ہے کہ امریکا کے ہاتھوں بلیک میل ہونے سے تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہمارے صدر اور وزیراعظم اُن تمام حقائق کو کھلے دل سے منظر عام پر لاکر عوام اور حزب اختلاف پر اپنااعتماد بحال کردیں جس کی وجہ سے اِنہیں ہر بار امریکا سے بلیک میل ہونے کی وجہ سے جھوٹ پر جھوٹ بولناپڑرہاہے۔اور ایبٹ آباد کے آپریشن سے متعلق بغیر کسی امریکی دباو ¿ میں آئے حکومت کو عوام اور حزب اختلاف سے کچھ بھی پوشیدہ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اَب تو حکومت پر یہ بات لازم آجاتی ہے کہ یہ وہ تمام حقائق پوری طرح سے نہ صرف اپنے عوام اور حزب اختلاف کے سامنے بیان کرے بلکہ عالمی میڈیا پر بھی لے آئے کہ سانحہ ایبٹ آباد آپریشن میں امریکانے اِسے کس طرح بلیک میل کیااور اِس سے امریکا کے اپنے کیا مقاصد ہیں ۔
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved