|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
Telephone:- |
Email:- |
|
کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر
جانے کے لیے کلک
کریں |
|
تاریخ اشاعت:۔21-04-2011 |
|
سٹریٹ کرائم |
|
کالم ۔۔۔۔۔۔۔
انورگرے وال |
صوبہ پنجاب میں
سٹریٹ کرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے،
اس کا ثبوت آئی جی پنجاب کا وہ سخت نوٹس ہے ،
جو انہوں نے لیا ہے اور صوبہ بھر کے آر پی اوز
، سی پی اوز اور ڈی پی اوزکوایک مراسلہ ارسال
کردیا ہے جس میں گزشتہ برس ہونے والے سٹریٹ
کرائمز کی تفصیل بیان کی گئی ہے،بتایا گیا ہے
کہ کل 2277سٹریٹ کرائم رپورٹ ہوئے، جن میں
موبائل چھیننے ، پرس اور کیش چھیننے اور دیگر
اشیاءچھیننے کی وارداتیں شامل ہیں، اضلاع میں
فیصل آباد سرِ فہرست ہے ، جہاں ایسے مقدمات کی
تعداد ایک ہزار سے زائد ہے۔
اول تو ان مقدمات کی تعداد حیرت انگیز حد تک
کم ہے ، بہت سے اضلاع ایسے ہیں جن میں یہ
تعداد سال بھر میں ایک سو تک بھی نہیں پہنچ
سکی ، یہ الگ بات ہے کہ رپورٹ نہ ہونے والی
چھوٹی وارداتوں کی تعداد اس تعداد سے کئی گنا
زیادہ ہوتی ہے ۔ وطن عزیز میں ان لوگوں کی
اکثریت ہے جو چھوٹے موٹے نقصان تو برداشت
کرلیتے ہیں ، مگر تھانے جاکر پولیس کے ہاتھوں
ہونے والی بے عزتی ، تضحیک اور مذاق برداشت
نہیں کرتے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ
پولیس کبھی ایسی رپورٹ کو سنجیدگی سے نہیں
لیتی ۔ عوام کا اس قدر کم رپورٹس درج کروانا
تھانوں پر عدم اعتماد ہے، اس لئے اس تعداد کو
کسی بھی لحاظ سے حقیقی قرار نہیں دیا جا
سکتا۔سٹریٹ کرائم ہو یا کوئی اور جرم اس میں
کوئی ایک ادارہ کبھی ذمہ دارنہیں ہوسکتا،
پورامعاشرہ ماحول بناتا ہے تب جا کر جرم ہوتا
ہے، معاشرے کی اصلاح میں ہر طبقہ فکرکو اپنا
کردار ادا کرنا چاہیئے۔ اساتذہ اور علماءاس
ضمن میں بہترین معاون ثابت ہوسکتے ہیں، والدین
کو بھی اپنی اولاد پر نظر رکھنے کی سخت ضرورت
ہے۔ ان سب کے باوجود آخر کار امن و امان کی
ذمہ داری تو پولیس پر ہی عائد ہوتی ہے ۔پوچھا
تو اسی سے جائے گا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ پولیس کی تنخواہوں
اوردیگر سہولیات میں اضافے کے باوجود آخر اس
کی کارکردگی مایوس کن اور قابل مذمت کیوں رہتی
ہے ، اس کی بھی کئی وجوہات ہوسکتی ہےں، یہ بھی
کہ بگڑی ہوئی عادات سر کے ساتھ ہی جاتی ہیں،
اورجب حرام منہ کو لگ جائے تو اس کا چھڑوانا
کارِ آساں نہیں ہوتا ، کون کافر ہے جو مفت کے
مال کو انکار کرکے کفرانِ نعمت کا ارتکاب کرے۔
مال کے علاوہ ہڈ حرامی بھی ان کے مزاج کا
مستقل حصہ بن چکی ہے، عوام کو ذلیل و خوار
کرنا ، انہیں بے عزت کرنا اور تھانوں کے اندر
اور باہر انہیں پریشان رکھنا بھی پولیس کے”
فرائض“ میں شامل ہے،وہ سائل کو اس قدر مایوس
کردیتے ہیں کہ رشوت یا سفارش کے بغیر کوئی کام
ہونے کو نہیں آتا، سائل کو مجبوراً ایسی
برائیوں کا سہارالینا پڑتا ہے۔
ہماری پولیس اتنی مصروف ہوتی ہے کہ اسے سٹریٹ
کرائم روکنے یا بدامنی کے خاتمے کے لئے وقت ہی
نہیں ملتا، اس نے حکمرانوں، وزیروں مشیروں ،
ٹاسک فورسوں کے چیئرمینوں، بیورکریسی اور اپنے
اعلیٰ افسران کی حفاظت بھی کرنی ہوتی ہے، ان
کے ذمے ان لوگوں کی حفاظت ہوتی ہے جو زمین پر
بذات خود ایک بوجھ ہوتے ہیں۔ دوسری طرف یہ
”سخت نوٹس “ بھی ایک کربنا ک لطیفہ ہی ہے کہ
ہماری حکومتیں اور ہماری بیوروکریسی آئے رو
زسخت نوٹس لیتے رہتے ہیں، اورنہ جانے کس طاق ِ
نسیاں پر رکھ کر بھول جاتے ہیں، اکثر چھوٹی
بڑی وارداتوں پر ہر صاحب اختیار سخت نوٹس لینے
میں تو کبھی دیر نہیں کرتا، بلکہ اس کا سب سے
پہلا ردِ عمل یہی ہوتا ہے ، اوراس کی طرف سے
جاری ہونے والی خبر کچھ یوں ہوتی ہے ”فلاں نے
واقعے کا سخت نوٹس لے لیا، فلاں کے خلاف
کاروائی کا حکم“ ، مگر یہ نوٹس اور یہ حکم
ہمیشہ حرف ِ غلط ثابت ہوتے ہیں، ان پر عمل کی
نوبت کبھی نہیں آتی۔
|
| |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|