اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 

Email:-

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

تاریخ اشاعت:۔16-05-2011

بوٹی مافیاکا نقب
کالم    ۔۔۔۔۔۔۔  انورگرے وال
امتحانات میں کی جانے والی محنت تین طرح کی ہوتی ہے ، اول؛ پیپروں سے پہلے کی جانے والی محنت، دوم؛ پیپروں کے درمیان اور سوم؛ وہ محنت جو پیپروں کے بعد کی جائے۔ہمارے معاشرے میں تینوں محنتیں پورے جوش و جذبے کے ساتھ کی جاتی ہیں۔ پنجاب میں میاں شہباز شریف نے اپنے پہلے دور حکومت میں بورڈ ز کے امتحانات میں بوٹی مافیا کا خاتمہ کرکے کافی نام کمایا تھا، اب اپنے موجودہ دور میں انہوں نے امتحانی نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرکے اس میں ہونے والی بد عنوانیوں کا مزید خاتمہ کرنے کی کوشش کی ، یہ الگ بات ہے کہ کمپیوٹرسسٹم کا پہلا سال ہونے کی وجہ سے بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، آہستہ آہستہ ہونے والے کام کو یک دم کرنے سے اس میں یقینا پریشانیاں تو ہوتی ہیں۔ خیال کیا جاتا تھا کہ اس سسٹم کے بعد کسی کی مجال نہیں کہ جعل سازی کاارتکاب کرسکے۔لیکن بد قسمتی سے مافیا کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ وہ کمپیوٹر میں سے بھی راستہ نکال لیتا ہے۔
بہاول پور بورڈ کے قائم کردہ ایک سینٹر میں میٹرک کے پرچہ جات چیک کئے جارہے تھے ،معلوم ہواکہ متعلقہ بورڈ کا ایک اہلکار رفیق قریشی بھی یہ خدمت سرانجام دے رہا ہے، اس کا تعلق دراصل بورڈ کی کنڈکٹ برانچ سے ہے ، نگرانی اور چیکنگ کی ڈیوٹیا ں بھی یہی لوگ لگاتے ہیں، ’حسن ِ اتفاق‘ سے موصوف کی زوجہ بھی اسی خدمت پر مامور تھیں۔ ڈیوٹیاں لگانا اور ان کے ذریعے سے مطلوب افراد کی مدد کرنا اور ان سب کچھ کے نتیجے میں آمدنی میں اضافہ فطری بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بورڈ کے اس قسم کے ملازمین کی مالی حالت غم دوراں کی پریشانیوںسے آزاد ہوتی ہے، ایک ایک کلرک کئی کئی گھروں کامالک ہوجاتاہے، بڑی گاڑیاں رکھنے کی پوزیشن میں بھی آجاتا ہے۔
اگرچہ پنجاب حکومت نے سسٹم کو کمپیوٹرائزڈ کرکے پرچہ جات کی شناخت ناممکن بنانے کا دعویٰ کیا ہے ، مگر ان کا یہ دعویٰ پاکستانی قوم کی صلاحیتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجاتا ہے جب ہمارے ذہین اہلکار ایسے سسٹم میں بھی نقب لگانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ یہ کام کسی فرد واحد کا نہیں ہوتا ، اس میںاوپر سے نیچے تک پوراگروپ کام کرتا ہے ، اس ڈوری کا سرا کسی بااختیار فرد کے دست ہنرمند نے ہی تھام رکھا ہوتا ہے۔چیئرمین بورڈ نے کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی اہلکار مطلوبہ کوڈ کھولنے میں کامیاب ہوسکے ۔ کیونکہ بار کوڈنگ کا یہ سلسلہ لاہورمیں ہے ۔ لیکن سب کو جاننے کا حق ہے کہ بورڈ کا وہ اہلکار کس اختیار کے تحت پیپر مارک کررہا تھا؟ کیا وہ اپنی خاتون خانہ کا ہاتھ بٹا رہا تھا ؟ کیا بورڈ نے اسے یہ مینڈیٹ دے رکھا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جاکر پیپر دیکھاکرے، اور ان پر نمبر لگایا کرے؟
بورڈ کا یہ مافیا اپنی پوری گینگ کے ساتھ متحرک ہوتا ہے ، جعلسازی کے خواہش مند ایسے لوگوں سے رابطے میں ہوتے ہیں، وہ بڑی بڑی رقوم کی ادائیگی کرکے نمبر لگوانے کا دھندہ کرتے ہیں، کام کو یقینی اور تسلی بخش بنانے کے لئے مافیا کے لوگ خود جاکر مارکنگ کا فریضہ نبھاتے ہیں ، تاکہ کسی شک کی گنجائش نہ رہے، اور معاوضہ جائز قرار پائے ۔بورڈ کے ارباب ِ اختیار کو ا س نقب زنی کی خبر ہوئی تو انہوں نے اس جرم کا ارتکاب کرنے والے چار افراد کو معطل کردیا ، اب انکوائری ہوگی، ہوسکتا ہے اسے کچھ روز معطلی کی سزا مل جائے اور بعد ازاں روایتی بحالی کی خوشخبری۔
قابل غور امر یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی بوٹی مافیا کے خاتمے کے لئے کی جانے والی تمام سرگرمیوں کو ناکام بنانے والے یہ عناصر کون ہیں؟ ان کے سرے کس کس مضبوط ہاتھوںمیں ہیں؟ اگر یہ پیپر ڈی کوڈ ہوہی نہیں سکتے تو یہ انہونی کیسے ہورہی ہے ؟ کیا اس کرپشن اور بدعنوانی کامرکز لاہور میں ہی تو نہیں ؟ کہ جہاں سے کوڈ دستیاب ہوں ، وہاں سے ہی ڈی کوڈنگ کا سلسلہ جاری ہو ، اور فی کوڈ حصہ وصول کیا جاتا ہو؟ کیا وزیر اعلیٰ دوسروں کا حق مارنے والے اس مافیا کے خلاف کوئی سخت ایکشن لیں گے؟
 
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved