اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 

Email:-maiqbaldelhi@gmail.com

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

تاریخ اشاعت:۔26-04-2011

وقت بدلتا ہے تو الفاظ بدل جاتے ہیں
کالم    ۔۔۔۔۔۔۔  محمد آصف اقبال نئی دہلی
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ اس بات سے حیران اور پریشان ہیں کہجو شخص ہر ملاقات میں ریاست کے حالات معلوم کرتا تھا، ریاست میں زمین کی تقسیم ، نئی صنعتوں کے قیام، جاپان کی جانب سے مجوزہ سرمایہ کاری کی پیش رفت اوراسی طرح کی دیگر باتیں ۔وہ آج جب میدان سیاست میں اسمبلی انتخابات کے موقع پر انتخابی مہم چلانے آیا تو اپنی ساری توجہ پارٹی کے خطوط پر مرکوز نہ کرتے ہوئے اُن باتوں کا بھی تذکرہ کر دیتا ہے جو یا تو حقیقت پر مبنی ہیں یا وہ سیاسی اتھل پتھل کے لیے ضروری۔بات کیا تھی جس کی وجہ سے وزیر اعلیٰ اس قدر بے قرار ہو گئی؟ بس اتنی سی کہ وزیر اعظم نے وہ کہہ دیا جو سچائی ہی، آپ کہیں گے کہ سچائی کیا ہی؟ تو سچائی یہ ہے کہ واقعی اور حقیقی طور پر مغربی بنگال کے مسلمان دیگر ریاستوں سے حد درجہ پچھڑے ہوئے ہیں۔نہ صرف مسلمان بلکہ عوام۔اور بس یہی بات وزیر اعظم کی زبان سے نکل گئی۔ بات نکل نہیں گئی بلکہ سوچ سمجھ کر ، غور و فکر کرنے کے بعد،اور آئندہ آنے والے انتخابی نتائج کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہی گئی۔ کیونکہ وقت بدل رہا ہے اور حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔وجہ یہ کے عوام میں بیدار پیدا ہو رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جس طرح ڈکٹروں کے تخت و تاج الٹے نظر آ رہے ہیں ٹھیک اسی طرح مغربی بنگال میںبھی اُس سیاسی پارٹی کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے جو قانونی طور پر تو انتخابات میں حصہ لیتی رہی اور عوام کے ذریعہ ہی منتخب ہوا کرتی تھی۔ لیکن یہ تلخ حقیقت ہے کہ تقریباً چونتیس(4) سال کے طویل عرصہ اقتدارکے با وجود،عوامی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے کاموں کو فروغ دینے میں ناکام ہی رہی۔
بات اتنی سی ہی:
4 بات صرف اتنی سی تھی کہ وزیر اعظم نے کہا کہ: "بنگال سرکار کام نہیں کر رہی ہی، اور ریاست مغربی بنگال کے مسلمانوں کی حالت گجرات سے بد تر ہی۔آپ کہتے ہیں کہ مجھے مسٹر سنگھ سے ایسی امید نہیں تھی۔ہم پوچھتے ہیں کہ آخر کیوں؟ کیا آپ اس سیاست کا حصہ نہیں جو وقت اور حالات کے تحت رنگ بدلتی ہی؟کیا آپ اس سیاست کا حصہ نہیںجو آج تک صرف اپنے مفاد کے لیے دوسروں کے دکھ درد کو ووٹ بنک سمجھتی آئی ہی؟کیا آپ اس سیاست کا حصہ نہیں جو ٹاٹا اور نینو کو اس صرف اس لیے بگھا دیتی ہے کہ اس سے آپ کے مفادات پر آنچ آتی ہے یا دوسرے لفظو ں میں آپ ان سے اچھی ڈیلنگ نہیںکر پاتے ؟کیا آپ سیاست کا حصہ نہیں جو سنگور، نندی گرام،نتیائی گرام،سائی باڑی اور تاپسی ملک، رضوان الرحمان کے مسلۂ اور اسی طرح کے دیگر مسائل کو بہ خوبی حل نہ کر سکی؟ کیا آپ اس سیاست کا حصہ نہیں جس میں لطیفے اور چٹکلے سنائے جاتے ہیں اور عوام کو بے وقوف سمجھ کر رام کیا جات ہی؟کیا آپ اس سیاست کا حصہ نہیں جو حکومت تو کرتی ہے مزدروں کے لیی، دبے کچلے طبقے کے لیے لیکن 34کا عرصہ گذرنے کے باوجود اپنے قول و عمل میں ناکام و نامراد ہو جاتی ہی؟ کیا آپ اس سیاست کا حصہ نہیں جو صرف لوگوں کو اپنے مفاد سامنے رکھتے ہوئے مدد و تعاون کرتی ہی، اگر اپنا مفاد نہیں تو مدد کیونکر کی جائے اور اگر اپنا مفاد ہے تو نظریں بدلنے میں وقت کیوں لگے ۔پھر کیوں آپ ششدر اور حیران ہوجاتے ہیں جبکہ کہ آپ سے طاقت و قوت چھنتی نظر آ رہی ہو اور لوگ اُس کو سلام کریں جس کے پاس یہ منتقل ہوتی محسوس ہو؟جو آپ کرتے آئے ہیں وہی تو وہ بھی کر رہے ہیں؟کیا فرق ہے آپ میں ان میں؟بات تو صرف اتنی سی ہی۔۔۔۔۔۔۔اور کچھ بھی نہیں!!
قصہ یہ ہے کہ:
قصہ یہ ہے کہ لگاتار 34سالہ دور حکومت ہونے کے باوجود ریاست معاشی، تعلیمی،صحت و تندرستی اور صفائی ستھرائی جیسے معاملات میں کوئی اپنا مقام نہ بنا سکی۔ ایک ایسی حکومت جو ہندوستان کے لیے نظیر رکھتی ہے اور اس جیسا دور ِ اقتدار کسی اور پارٹی اور نظریہ کے حامل لوگوں کے پاس نہیں رہا، اس کے باوجود وہ ناکام ہوجاتی ہے ۔سینٹرل اسٹیٹکل آرگنائیزیشن کے ڈاکومینٹیشن یہ ثابت کرتے ہیں کہ مغربی بنگال حکومت کا ملکی آمدنی میں حصہ جو 7.8%، 1880-81میں تھا وہ آج گھٹ کر 6.55%، 2009-10میں ہوگیا۔معلوم ہوا کہ مزدوروں کی فلاح میں کام کرنے والی حکومت مزدوروں کا بھلا نہ کر سکی ۔ نہ صرف مزدوروں کا بلکہ ملک کے لیے بھی فائدہ مند ثابت نہ ہوئی۔اسی طرح دیگر ریاستوں کے بالمقابل جن کا موازنہ average growth rate of statesکی شکل میں کیا گیا ہی۔وہاں مغربی بنگال کی صورتحال یہ ہے کہ حقیقی GDPدورانِ مدت 1994-95سے 2008-09میںملکی اوسط 6.94%ہوئی جبکہ ریاست مغربی بنگال کی اوسط.7%تک ہی پہنچ سکی۔ حالت یہ ہے کہ ریاست میں کوئی مسلمانوں کی تعداد 25%فیصد تو کوئی0اور اس سے بھی آگے بڑھ کر 36%فیصد تک بتاتا ہی، لیکن ایک چوتھائی تعداد کی صورتحال سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق یہ ہے کہ ان کی حالت دلت اور پچھڑے طبقہ سے بھی گئی گزری ہی۔اور جب اس حقیقت کا پردہ فاش ہوا تو یہی بدھا دیب بٹھا چاریہ جی کہتے ہیں کہ یہ رپورٹ غلط ہی،ایسا کچھ بھی نہیں ہی،ہم نے مسلمانوں کے لیے بہت کچھ کیا ہی۔ یہ باتیں سچر کمیٹی کے تعلق سے تھیں اور آج آپ ہی کہتے ہیں کہ مغربی بنگال کے مسلمان بہت سکون کی زندگی گزار رہے ہیں، ہم نے ان کی جان و مال کی حفاظت کی ہی،اور اگر مقابلہ کرنا چاہیں تو گجرات سے کریں جہاں مسلمان بے یقینی اور خوف کے ماحول میں جیتے ہیں۔محترم وزیر اعلیٰ جی کیا "ہندوستانی ہٹلر "سے خودکا موازنہکرناچاہتے ہیں؟اگر ایسا ہے تو پھر صحیح ہی۔ کیونکہ جب برے سے برا انسان بھی اپنا مقابلہ شیطان سے کرے گا تو کچھ تو بہتر ہی اپنے آپ کو محسوس کرے گا۔ اگر یہی تقابل اور موازنہ کا پیمانہ ٹھہرا تو پھر آپ نے اور آپ کی حکومت نے جو کچھ کیا بہت اچھاکیا۔
مسلمان بحیثیت ووٹ بنک:
نہ صرف مغربی بنگال بلکہ آسام میں بھی مسلمانوں کی حالت زار سے زیادہ تر لوگ واقف ہیں۔یہ ملک سی، ریاست سی، اور مسلمانوں سے ہمدردر رکھنے والی، اپنے ظاہر اور باطن میں ہمیشہ دہرا معیار قائم کرتے آئے ہیں۔ناموں کی تبدیلی، پارٹیوں کی تبدیلی، اور نعروں یا جھندوں کے بے محابہ شور شرابے میں مسلمانوں کو اس حقیقت سے کبھی بھی اور کسی بھی لمحہ اپنی آنکھیں نہیں بند کرنا چاہیے اور جان لینا چاہیے کہ جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ ایک اسٹیج ڈرامے سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔کیونکہ اگر آپ کو کوئی خوشحالی فراہم کر سکتا ہے تو وہ کوئی اور نہیںبلکہ آپ خودہی ہوں گی۔چاہے یہ تبدیلی آج آئے یا کل لیکن اگر آپ ایسے ہی غفلت کی نیند سوتے رہے اور دوسروں کے پیچھے کھڑے ہو کرنعرے تکبیر بلند کرتے رہے تو نہ آپ میں اور نہ ہی آپ کے حالات میں کوئی تبدیلی آنے والی ہی۔ اس لیے براہ کرم خواب غفلت سے بیدار ہو جائیی۔ ان خوبصورت لفظوں اور ان خوشنما نعروں سے آپ کو اپنے دامن کو داغ دار ہونے سے بچالیجیی۔آج آپ کے لیی، آپ کی فلاح و بہود کے لیی، آپ کے مسائل کو حل کرنے کے لیی، آپ کی تعلیمی ، معاشی اور معاشرتی ترقی کے لیے بہت سے لوگ اٹھیں گے اور اٹھ رہے ہیں۔ لیکن کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟خوش فہمی میں مبتلا رہنے والے بھولے بھالے مسلمان ضرور یہی کہیں گے کہ وہ ہمارے تعلق سے ہمدردی کاجذبہ اپنے سینہ میں رکھتے ہیں۔ ان کی روح مسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر ٹرپ اٹھتی ہے اور کیونکہ وہ ہر شخص کی بھلائی کے پیش نظر نیز قوم و ملک کی فلاح و بہود کے لیے قدم بڑھانے کا تہیہکر چکے ہیں۔ بسیہی وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی فلاح بھی بحیثیت انسان چاہتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ آپ کی بات حق بجانب لیکن وہ پھر کیوں اپنے رنگوں کو اس تیزی کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں کہ جتنی تیزی کے ساتھ گرگٹ بھی نہیں بدلتا۔اور وہ کیوں کچھ نہیں کرتے سوائے باتیں اور وعدے کرنے کی؟
ہم سمجھتے ہیں کہ آج مسلمانوں کے پاس جو مسائل ہیں اور جن کو حل کرنے کے لیے ہر سیاسی پارٹی کے کارندے بے چین نظر آتے ہیں اس کی وجہ ایک ہے ۔اور وہ یہ کہ کم از کم ہندوستان میں مسلمانوں کی کوئی ایسی سیاسی جماعت اب تک موجود نہیں جس کی قیادت تعلیم یافتہ، باکردار،اخلاق مند، مسلمانوں کے ہاتھ میں ہواور جو اپنا کوئی نظریاتی مقام بھی رکھتی ہو۔آج ہندوستان میں کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں جو مسلمانوں کے مسائل کو ان کی مذہبی آزادی کے پس منظر میں دیکھتی ہو،بات کی جاتی ہے مسلم پرنسل لاء کی تو بات کو تبدیل کر دیا جاتا ہے کومن سول کوڈ سی۔یہی وجہ ہے کہ ملک میں کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں جو ملک کی دیگر پارٹیوں کے مقابلہ کے لیے متبادل کے طور پر پیش کی جا سکی،کامن ایجنڈا،کامن مقاصد، حکومت کرو اور بے وقوف بنائو۔ بس یہی وجہ ہے کہ نہ مسلمانوں کا اپنا کوئی سیاسی وقار ہے اور نہ ہی ان کے مسائل کی کوئی حیثیت۔ ہر پارٹی انتخابات کے وقت بڑے بڑے وعدے کرتی نظر آتی ہے لیکن جب ان وعدوں کو پورا کرنے کا وقت آتا ہے تو پھروہ بھول جاتے ہیں ۔وجہ صرف اتنی کہ انتخابی نتائج آچکے ہوتے ہیں اور کامیابی و ناکامی کا فیصلہہو چکا ہوتا ہی۔لہذا آج جس تیزی کے ساتھ لوگ بدل رہے ہیں، ان کے خیالات بدل رہے ہیں، آپ بھی بدلنے کا فیصلہ کیجیی، ان حدود میں رہتے ہوئے جن میں رہ کر آپ بدلنے کی سعی و جہد کر سکتے ہیںلیکن اگر آپ نہیں بدلے تو یہ فیصلہ آپ کے لیے نقصان کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
 
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved