|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
 |
|
Telephone:- 03225644950 |
Email:-Dr.foziakhan@yahoo.com |
|
تاریخ اشاعت:۔25-05-2011 |
|
یہ سب
کیا ہے ؟ |
|
کالم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر فوزیہ خاں |
آپریشن ابیٹ
آباد اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سے
پاک فوج کے مراکز مسلسل دہشت گردی کا شکار اور
دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں ۔ وہ چاہے آرمڈ
فورسز کے تعلیمی ادارے ہوں یا تربیتی مراکز یا
پھرنیوی ہر صورت میں نشانہ پاک فوج ہی بن رہی
ہے اور خاص طور پر یہ پاک بحریہ ایک ماہ کے
دوران چوتھا حملہ لمحہ فکریہ ہے ۔ پاک بحریہ
کے اہلکاروں اور مراکز پر ابھی پچھلے دنوں تین
حملوں کی تحقیقات مکمل بھی نہ ہو پائی تھی کہ
22مئی کی رات کو دہشتگردوں نے مہران بیس پر
حملہ کر دیا اور اس حملے کا افسوس ناک پہلویہ
ہے کہ اس میں دس افراد کے علاوہ 2اورین طیارے
بھی تباہ کر دیئے گئے یعنی لگ بھگ 10ارب کے
قریب نقصان ۔ اس سے قبل 26اپریل کو نیوی کی
دبسوںپر حملہ کیا گیا ہے جس میں ایک لیڈی
ڈاکٹر شازیہ نعیم ایک لیفٹیننٹ جاں بحق اور
37افراز زخمی ہوئے ۔ اس واقعے کے ٹھیک پانچ
منٹ بعد بحریہ کی دوسری بس کو نشانہ بنایا گیا
جس میں دو افراد جاں بحق اور 19زخمی ہوگئے ۔
28اپریل کو پی ا ے ایف میوزیم کے قریب پاک
بحریہ ہی کی بس کو ریموٹ کنٹرول بم سے اڑا دیا
گیا ۔ اس میں بھی پاک بحریہ کے پانچ افراد جاں
بحق ہوئے ۔ پھر چار سدہ کے علاقے شب قدر میں
واقع ایف سی کے تربیتی مرکز پر حملے کے نتیجے
میں 83کیڈٹ جاں بحق ہوئے ۔ اور اب دہشگردی کے
تازہ ترین واقع میں 22مئی کی شب رات ساڑھے دس
بجے کے قریب کراچی میں واقع بحریہ کے ائیر
سٹیشن پی این ایس مہران پر دہشت گردوں کے حملہ
میں 10افراد جاں بحق اور دو امریکی ساختہ اور
پن طیاورں کو تباہ کر دیا گیا ۔ نقصان کی حتمی
تفصیل تو سامنے نہیں آئی لیکن اندازہ ہے کہ
نقصان اندازوں کے کئی گناہ زیادہ ہے ۔ اور اس
سے بھی بڑھ کر یہ کہ عام افراد میں خوف وہراس
کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ یکے بعد دیگرے ہونے والے
9دھماکوں نے عوام کو دہشت زدہ کر دیا اور تما
م قوم کے ذہنوں میں ان گنت اندیشے چھوڑ دیئے ۔
دہشت گردوں نے چھ راکٹفائر کیے اور مختلف
تنصیبات تباہ کرنے کے بعد بیس میں واقع ایک
عمارت میں پناہ لی جسے کمانڈوز نے اپنے گھیرے
میں لے لیا اور کمانڈوز اور دہشگردوںکے درمیان
15گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی اس لڑائی میں
نیوی کے 8رینجر کے 2اہلکار اور 15زخمی ہوگئے
اور حملہ کرنے والے چاروں دہشت گر د مارے گئے
۔ حملے کے وقت 17غیر ملکی بھی موجود تھے جو سب
کے سب محفوظ رہے ۔ اس تمام کاروائی کے نتیجے
میں سیکیورٹی اہلکاروں نے پورے علاقے کو گھیرے
میں لے لیا ۔ غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بند
کر دیا گیا ۔ اور سیکیورٹی کے فول پروف
انتظامات کے بارے میں بیان بازی کا سلسلہ شروع
ہوگیا جو کہ حسب سابق اور حسب روایت ہے ۔ سوال
یہ پیدا ہوتا ہے کہ حملہ چاہے حکومتی اداروں
پر ہو یا عسکری اداروں پر ہمارے سیکیورٹی کے
انتظامات آخر اس قدر ناقص کیوں ہوتے ہیں کہ
2یا 4دہشت گرد آئیں اور کئی افراد کو مارکے
لاکھوں کے نقصانات کرکے چلے جائیں یا پھر خود
بھی مر کے اپنا سراغ ختم کر جائیں اور ہمارے
حکومتی اداروں کو بیان بازی کا نیا سلسلہ
فراہم کر جائیں ۔ آخر ہم لوگ کب تک غفلت اور
لا پرواہی کا مظاہر ہ کرتے رہینگے ۔عسکری
اداروں اور تربیت گاہوں کے حفاظتی انتظامات اس
قدر سخت ہوتے ہیں کہ عام آدمی کو وہاں تک
رسائی نہیں ہے۔ اب کنونمنٹ کے علاقے میں
باآسانی داخل ہونے کا تصور نہیں کر سکتے ۔کئی
چیک پوسٹیں کئی طرح کے سیکیورٹی انتظامات اور
خاص طور پر مہران بیس کے حفاظتی انتظامات کہ
بلند وبالا حفاظتی دیواروں پر خار دار تاریں ،تھوڑے
تھوڑے فاصلوں پر سرچ لائٹیں ۔ سی سی ٹی کیمرے
، ان تمام تر انتظامات کے باوجود چار دہشگر
بھاری بھر کم تباہ کن ہتھیاروں سے لیس بیس کے
اندر داخل ہوئے ہیں کہ دس افراد کے ساتھ ساتھ
کروڑوں کی مالیت کے 2اورین طیارے تباہ کر دئیے
ہیں اور کامیاب آپریشن کے بعد اپنی جاں سے
ہاتھ دھوتے ہیں ۔ہمارے حکمران اور ہماری حفاظت
پر مامور ادارے ان دہشت گردوں کے سامنے بے بس
نظر آتے ہیں آخر کب تک ، ؟ہماری فوج اور ہماری
سیکیورٹی ایجنسیاں جن پر بے تحاشہ اخراجات
ہوتے ہیں آخر کیا کر رہی ہیں ؟کچھ امریکی
طیارے ہمارے ملک میں داخل ہوتے ہیں اور ایک
کامیاب آپریشن کے بعد اسامہ بن لادن کو مارنے
کے بعدچلے جاتے ہیں اور ہمارے ریڈارز پر ان کی
آمد کا نشان تک نہیں ملتا یا پھر چار دہشت گرد
اتنی سیکیورٹی کو ناکام بناکے دنیا کی بہترین
فوج کو ناکامی سے دوچار کر دیتے ہیں تو یہ سب
کیا ہے ؟جب ہمار ی افواج ہی دہشت گردوں یا
امریکیوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں تو عام شہری
اور عام لوگ کس کھاتے میں ہیں ۔ ؟کیا ہماری
انٹیلی جنس ناکام ہے ؟کیا ہماری افواج کمزور
ہے؟کیا ہماری حکومتی حکمت عملیاں شفافیت سے
عاری ہیں ؟آخر یہ سب کیا ہے ؟ ان سب باتوں کا
کیا مطلب ہے ؟ یہ سب کیا ہے ؟
|
| |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|