|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
Telephone:- 0345-5182176 |
Email:- |
|
تاریخ اشاعت:۔07-06-2011 |
|
فاتح عرب و عجم |
|
کالم۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد عرفان الحق |
فاتح عرب و عجم،
شمشیر اسلام، راز دار رسالت، کاتب وحی، خال
المؤمنین، خلیفۂ سادس
امیر المؤمنین سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی
اللہ عنہ
کا یوم وفات اور کونڈوں کی رسم بد
محمدعرفان الحق، اسلام آباد
فاتح عرب و عجم، شمشیر اسلام، رازدارد رسالت،
کاتب وحی، خال المؤمنین، خلیفۂ سادس امیر
المؤمنین سیدنا امیر معاویہؓ 22رجب المرجب 60
ہجری کو اس دنیا سے رخصت ہوئی۔ص۔2رجب یوم وفات
ہے نصف سے زائد دنیا پر خلافت اسلامی کا علم
لہرانے والے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
کا۔ امیرالمؤمنین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ
وہ عظیم شخصیت ہیں کہ جنہیں زبان رسالت سے
ہادی و مہدی، راز دار رسالت اور حلیم جیسے
القابات عطا کیے گئی۔ آپ وہ عظیم شخصیت ہیں
جنہیں اللہ کی مقدس کتاب قرآن پاک کی کتابت کا
شرف حاصل ہو ا۔ آج یہ عظیم شخصیت اتنی مظلوم
ہو چکی ہے کہ اس عبقری شخصیت کے یوم وفات پر
دشمنان اسلام خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ اور اس
دن ’’کونڈوں‘‘ کے نام سے شیرینی پکا کر تقسیم
کی جاتی ہی۔ غیروں کی دیکھا دیکھی کچھ اپنے لا
علم حضرات بھی اس مکروہ فعل کو رواج دینے کا
ذریعہ بنتے ہیں۔ اور وہ بھی سادہ لوحی میں اس
عظیم صحابئ ؓ رسول کی وفات پر خوشی کے اظہار
کے نامعقول کام میں غیروں کی مشابہت اختیار
کرتے ہیں۔
کونڈوں کا پس منظر
یہ خلاف شرع اور مکروہ بدعت دراصل مخالفین
اسلام اور معاندین صحابہ کرام کی ایجاد ہی۔ جو
شمالی ہند کے علاقہ اودھ سے شروع ہوئی۔ پھر
لکھنؤ اور رام پور کے نوابوں نے رفض کو پروانے
چڑھانے کیلئے اس قسم کی بدعات کو عام کرنے میں
حصہ لیا۔ یہ رسم 1906ء سے چلی اور لکھنؤ شہر
آج بھی اس رسم کی وجہ سے مشہور ہی۔
1906ء کے قبل کہیں بھی یہ رسم منعقد نہیں
ہوتی تھی۔ بلکہ لکھنؤ میں ابن سبا کی نسل سے
یہ سلسلہ شروع ہوا اور شروع شروع میں چوری
چھپے گھروں میں پوریاں بناتے اور لوگوں کو
بلوا کر وہیں کھلا دیتے اور ان کا منہ صاف کر
کے پھر باہر بھیج دیتے جب استفسار کیا گیا کہ
یہ کیا ہے تو انہوں نے یہ شوشہ چھوڑ ڈالا کہ
یہ حضرت جعفر صادقؒ کے کونڈے ہیں ۔
~ حالاں کہ یہ کونڈے حضرت جعفر صاد قؒکے ہوتے
تو کم از کم یہ دیکھ لیا جاتا کہ2رجب المرجب
حضرت جعفر صادقؒ کا یوم پیدائش ہی؟ یا 22 رجب
کو حضرت جعفر صادقؒ کی وفات ہوئی ہی؟ حقیقت یہ
ہے کہ یہ دونوں چیزیں نہیں ہیں۔ بلکہ حضرت
جعفر صادقؒ کی پیدائش ایک روایت کے مطابق ماہ
ربیع الاول میں ہوئی ۔ اور دوسری روایت کے
مطابق رمضان المبارک میں ہوئی تو رجب سے ان کی
پیدئش کا دور کا بھی واسطہ نہیں اور ان کی
وفات بغیر اختلاف کے ماہ شوال میں ہوئی۔ تو
حضرت جعفر صادقؒ کی طرف تین مہینے کسی نہ کسی
طرح تو منسوب ہو سکتے ہیں رمضان، ربیع الاول
اور شوال۔ مگر رجب کا مہینہ تو ان سے منسوب ہو
ہی نہیں سکتا۔
مناظر ااسلام امام اہل سنّت حضرت مولانا
عبدالشکورلکھنویؒ نے اپنے رسالہ ’’ النجم‘‘ کی
اشاعت جمادی الاول ۸۴۳۱ھ میں لکھا تھا کہ ایک
بدعت ابھی تھوڑے دنوں سے ہمارے اطراف میں شروع
ہوئی ہے اور تین چار سال سے اس کا رواج بڑھتا
جا رہا ہے یہ بدعت کونڈوں کے نام سے مشہور ہی۔
’’کونڈا‘‘ کی تحقیق
’’کونڈا‘‘ عربی زبان کا لفظ نہیں ہی۔ یہ ایک
طے شدہ حقیقت ہے کیونکہ عربی میں ’’ڈ‘‘کا
استعمال نہیں ہوتا۔ پس یہ ’’کونڈا‘‘ اردو یا
پنجابی زبان کا لفظ ہی۔ جیسا کہ معاشرے میں
عام طور پر مخالف کو کہا جاتا ہی’’تیرا کونڈا
ہو جائی‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تیرا
ستیاناس ہو جائی۔ یعنی یہ کوئی اچھا لفظ نہیں
ہی۔ اس لفظ کا استعمال دوستی کے معنی میں نہیں
بلکہ تعصب، دشمنی اور دشنام طرازی کے معنی میں
ہوتا ہی۔ اہل تشیع حضرت حضرت جعفر صادقؒ کی آڑ
لے کر در حقیقت سیدنا امیر معاویہ ؓ کے وفات
پر یہ رسم ادا کرتے ہیں ۔ اور اپنے حلقہ کے
اندر برملا اس بات کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔
لیکن دوسروں کے سامنے حضرت جعفر صادقؒ کانام
لیتے ہیں۔ پھر حقیقت سے ناواقفیت کی بنا ء پر
سادہ لوح مسلمان بھی اہل تشیع کی دیکھا دیکھی
اس رسم میں حصہ لیتے ہیں۔ سو چنا چاہیے کہ آخر
یہ رسم چوری چوری کیوں ہوتی ہی؟ اور رات کے
آخری حصے میں کیوں ہوتی ہی؟ ظاہر ہے کہ اگر یہ
کوئی اچھی چیز ہوتی تو سب کے سامنے بلا خوف و
خطر اس کا اظہار کیا جاتا۔
حضرت معاویہؓ نبیؐ کی مقدس جماعت ’صحابہ‘ کے
ایک انتہائی جلیل القدر صحابیؓ ہیں اور نبیؐ
سے حضرت امیر معاویہؓ کا تعلق یہ تقاضہ کرتا
ہے کہ اس طرح کی غیرشرعی اور خلاف اسلام
رسومات سے اعراض کرنا چاہیے اور جہاں تک ہو
سکے اس بدعت غلیظہ کی حقیقت کو عام مسلمانوں
پر واضح کرتے ہوئے اپنے سمیت سب بھائیوں کو اس
سے بچانے کی کوئی نہ کوئی تدبیر ضرور کرنی
چاہیی۔ اس سال امیر المؤمنین سیدنا معاویہؓ کا
یوم وفات2 رجب، 25جون کو ہی۔ اس دن کی آمد سے
پہلے ہی اپنے گرد و نواح کے مسلمانوں کو اس سے
باخبر و ہوشیار کریں تاکہ وہ اس مکروہ عمل میں
شامل ہو کر اللہ کی ناراضگی، قلب محمدؐ کی
تکلیف اور صحابۂ کرامؓ کی دشمنی کا ذریعہ مت
بنیں |
| |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|