اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 

Email:-nazim.rao@gmail.com
 

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

تاریخ اشاعت:۔18-05-2011

ہم امریکیوں سے بہتر ہیں

کالم----------ایم ناظم راوﺅ

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی کشیدگی کے بعد اسلام آباد میں باضابطہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس کو قدرے مثبت قرار دیا جا سکتا ہی۔پیر کو اعلامیہ کے بعد اگلے دن ہی ایف سی فورسز جاری کیا گیا جس کو قدرے مثبت قرار دیا جا سکتا ہی۔پیر کو اعلامیہ کے بعد ہی شمالی وزیرستان میں دتہ خیل کے علاقے میں ایف سی اہلکاروں کی چیک پوسٹنگ پر نیٹو کے ہیلی کاپٹروں نے فائرنگ کر دی ،ایبٹ آباد آپریشن کے بعد مایوسی کے اس دور میں پہلی بار پاکستانی فورسز کی جانب سے حوصلہ افزا کارروائی کی گئی ہے نیٹو ہیلی کاپٹروں کو بھگا دیا گیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی سیکورٹی فورسز نے نیٹو کے ہیلی کاپٹروں پر بھرپور جوابی کاروائی کی جس پر ہیلی کاپٹر واپس افغانستان کی طرف بھاگ گئے اور پاک فوج نے نیٹو ہیلی کاپٹرز کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر نیٹو افواج سے احتجاج بھی کیا ہے اور فلیگ میٹنگ بلانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے ساری کاروائی میں دو پاکستانی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان فورسز کی جانب سے یہ کاروائی انتہائی اہمیت کی حامل ہے دو چار ایسی ہی کاروائیاں نیٹو افواج کے حوصلے کو توڑنے کیلئے ان دنوں میں کافی ہوں گی۔پاکستان اس وقت ہر اُس عمل پر احتجاج کر رہا ہے جو اس کی خود مختاری کو پامال کرتا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ نیٹو افواج ہماری سرحدوں کو مسلسل پامال کر رہی ہے اس کا مطلب ہے کہ امریکہ باتوں کا بھوت نہ ہے بلکہ لاتوں کا بھوت ہے اور ایسوں کے ساتھ آسانی نہیں سختی برتنی چاہےی۔تاریخ شاہد ہے کہ ہے انگریز قوم کی عادت ہے کہ دکھاتے دائیں اور مارتے بائیں ہاتھ کی ہیں ۔برصغیر میں کاروبار کی غرض سے آنیوالے برطانوی بعد میں برصغیر کے حکمران بن بیٹھے تھی۔جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے سیاست میں پنجہ آمائی شروع کی تو پہلے مقامی حکمرانوں کو اچھا خاصا بدنام کیا اور رہی سہی کسر حالات نے نکال دی اور کمپنی نے حکمرانوں میں ریشہ دوانیوں اور کئی قسم کی سازشوں کے بعد برصغیر پر قبضہ کر لیا یعنی پہلے بنے پھر گھر کے مالک بیٹھی، آج امریکہ اور پاکستان کی دوستی کیا رنگ لائے گی یہ وقت بتائے گا۔پاکستان اور امریکہ کی دوستی کو عرصہ دراز ہوچکا ہے مگر دلوں میں دوریاں ابھی ویسی کی ویسی ہیں ۔دونوں ملکوں کی انٹیلی جنس تبادلات کو تقریباً 30سال کے عرصے سے ہو رہی ہے ۔افغانستان میں دنیا کی دوسری سپر پاور سوویت یونین کو شکست ہوئی اور اس میں سب سے اہم کردار آئی ایس آئی کا ہے بعد میں مشکلات کیلئے پاکستان کو اکیلا چھوڑ دیا گیا امریکہ نے اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھائیں اور وہ پاکستان اور افغانستان کو افراتفری اور انتشار میں چھوڑ کر چلا گیا پھر جب انہی کے بنائے صنم بولنے لگے تو انہیں یاد آیا کہ یہ جہادی تنظمیں تو دہشت گرد ہیں اور جہادی خطرہ منڈلانے لگا اور پھر سے افغانستان پر جنگ مسلط کر دی گئی اور اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا ہے مسلح افواج کے 5ہزار افسروں اور اہلکاروں اور 30 ہزار پاکستانی شہریوں نے اپنی جانیں قربان کیں ۔پاکستان کے مقدر میں اس جنگ میں سوائے نریزی،بدامنی،معاشی بدحالی،غربت اور بیروزگاری کے اور کچھ ہاتھ نہیں آیا آج اسامہ بن لادن کو پاکستان میں مار کر پھر سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نیا روپ دے کر پاکستان پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاری ہیں ۔ہمارے حکمران کو برا بھلا کہا جا رہا اور ایٹمی پروگرام کو غیر محفوظ کہا جاتا ہے ساری دنیا کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر ہم ایٹم بم بنا سکتے ہیں تو اس کو سنبھال بھی سکتے ہیں۔امریکہ نجانے کیوں خود ساختہ امن کا ٹھیکیدار بن رہا ہے اور ایٹم بم اور پاکستان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہے ۔ہماری نظر میں ہمارے حکمرانوں کوکسی غیر سے مدد مانگنے کی بجائے خود کو انتہائی حد تک طاقت ور بنانا چاہیے اور دنیا کو یہ جان لینا چاہیے کہ پاکستانی قوم اپنی جانوں کی بازی لگانا جانتی ہے ۔جرات مندانہ کاروائیاں ہمارے مورال کو بلند کر سکتی ہیں وگرنہ ہمارے ملک پر جیسے حالات طاری ہیں ہم یا تو خود بخود فنا ہوجائیں گے یا پھر امریکہ یا تمام عیسائی ممالک ہمارے اوپر چڑھ دوڑیں گی۔ہمیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم امریکیوں سے بہتر ہیں
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved