اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 

Email:-nazim.rao@gmail.com
 

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

تاریخ اشاعت:۔26-05-2011

دہشت گردی کی جنگ پاکستان کی یا اسلام کی؟

کالم-----------  ایم ناظم راوﺅ

امریکی صدر باراک اوباما نے حالیہ بیان دیا ہے کہ پاکستان نے دنیا میں کسی بھی ملک سے زیادہ دہشت گردی کا سامنا کیا،پاکستان کے دشمن ہمارے دشمن ہیں،اتحادیوں کو منہ موڑنے کی بجائے پاکستان کے ساتھ زیادہ تعاون اور ملکر کام کر نا چاہےے انہوں نے مزید کہا کہ ہماری جنگ اسلام سے نہیں،دہشتگردی کے خلاف ہے القاعدہ نے مذہب کے نام پر مغرب سے جنگ شروع کی آخر میں انہوں نے کہا کہ ہمیں دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو ختم اور جوہری پھیلاﺅ کو روکنا ہے۔صدر اوباما نے آخر کار مان ہی لیا کہ پاکستان نے اس نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں کتنی قربانیاں دی ہیں امریکہ کی طرف سے پاکستان کی ان قربانیوں کے اعتراف کی کچھ وجوہات تو ضرور ہیں جن میں چین کی ہمسائیگی کا حق ادا کرتے ہوئے پاکستان کے حق میں بیان،پارلیمنٹ کی ان کیمرہ اجلاس اور امریکی کارروائی پر سخت نوٹسز شامل ہیں جب چین نے کہا کہ پاکستان کی جانب بڑھنے والی ہر جارحیت کا مقابلہ چین کرے گا تو امریکہ کو علم ہو گیا کہ پاکستان نے چین کارڈ کھیل لیا ہے اور عالمی سطح پر سارا مغرب خبردار ہو گیا مگر خبردار ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ اپنے مذموم عزائم سے باز رہے گا بلکہ کوئی حربے استعمال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
دوسری طرف انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی جنگ اسلام سے نہیں دہشت گردوں سے ہے۔امریکہ سیکولر ازم کا سب سے بڑا علمبردار ہے جبکہ امریکہ کی ہر کارروائی سے سیکولر ازم کی قلعی کھل گئی ہے کہ یمن،مصر،پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے قدامت پسند طبقوں سے امریکہ کیوں ڈرنا شروع ہو گیا ہے؟اور عرب میں موجودہ تحریکیں جو بائیں بازو کی ہیں ان کا ساتھ امریکہ کیوں اتنے زور و شور سے دے رہا ہے؟اگر امریکہ کی جنگ اسلام سے نہیں تو امریکہ نے عراقی صدر صدام حسین جیسے غیر مذہبی سربراہ مملکت کو کیوں ماراہے؟حالانکہ صدر صدام حسین اسلام پسندوں کے خلاف کارروائیاں کیا کرتا تھا؟مگر نام نہاد امریکہ نے کیوں صدر صدام حسین کے خلاف کاروائی کی؟یاد رہے کہ دہشت گردی کی جنگ کی حمایت میں پادریوں کی جانب سے شدت آئی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟امریکہ و عالمی میڈیا کی جانب سے اسلام کو دہشت گردی کیساتھ جوڑا جا رہا ہے؟حالانکہ القاعدہ سے زیادہ کاروائیاں کرنیوالی دہشت گرد تنظیمیں دنیا میں موجود ہیں سری لنکن ٹائیگرز ،افریقی دہشت پسند،اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں ہیں جو کہ مختلف قسم کی دہشت گرد کاروائیوں میں ملوث ہےں؟کیا امریکہ و مغرب کو اُن سے کوئی خطرہ نہیں ہے؟
صدر اوباما کے بیان کے آخری حصے کا تجزیہ کرتے ہیں آخری حصے میں انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم اور جوہری پھیلاﺅ کو روکنا ہے۔دنیا میں موجود ایٹمی پاورز میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے اور ایران عنقریب اس صف میں شامل ہونیوالا ہے اس لئے امریکہ اسی خطے میں موجود رہنا چاہتا ہے جس سے ایٹمی توانائی کو ختم کیا جا سکے اگر آج پاکستان و ایران ایٹمی توانائی سے جواب دے دیں تو لازمی بات ہو گی کہ دہشت گردی کی جنگ بھی ختم ہو جائے گی۔مغرب کو پاکستان کا ایٹمی پلانٹ کھٹکتا ہے اس لئے وہ پاکستان کی سیکیورٹی کو ناقص اور سیکیورٹی اداروں کو تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ہمیں قطعی طور پر عالمی میڈیا کا اثر قبول نہ کرنا چاہےے اور اپنی اداروں پر یقین کرنا چاہےے ۔ہماری فوج ہر طرح کے خطرات سے نمٹ سکتی ہے اس کا ہمیں یقین ہونا چاہےے کیا ہوا اگر ہمارا دفاعی بجٹ بھارت کو دیکھ رکھا جاتا ہے مگر ہم امریکہ سے بھی مقابلہ کر سکتے ہیں۔

 
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved