|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
Telephone:- |
Email:-m.qammariqbal@yahoo.com |
|
کالم نگارمحمد قمراقبا ل کمال کے مرکزی صفحہ پر
جانے کے لیے کلک
کریں |
|
تاریخ اشاعت:۔2011-04-28 |
|
موجودہ حکمران اور جعلی پیر فقیر |
|
کالم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد قمراقبا ل کمال |
. زمانہ طالب علمی میں کمرہ جماعت میں طالب
علموں کے ساتھ موجود تھے کہ اچانک اردو پڑھانے
والے استاد صاحب آوارد ہو ئی۔استاد صاحب کمرہ
جما عت میں موجود کرسی پر براجمان ہو کر
فرمانے لگے کہ تم لو گوں کو پڑھنے کی کیا
ضرورت ہی؟کیا کرو گے پڑھ لکھ کر؟چھوڑو پڑھا ئی
کو۔۔۔پیر ،فقیر بن جا ئودنوں میں امیر بن جا
ئو گی۔ہم آنکھیں پھاڑے استاد صاحب کا چہرہ
مبارک دیکھ رہے تھے جو ہمیں دنوں میں امیر
بننے کے گر سکھا رہے تھی۔کچھ توقف کے بعد
استاد صاحب پھر گویا ہوئے آپ سبھی پیر بن جا
ئو بس ایک بورڈ بنا لو جس پر لکھا ہو کہ اولاد
سے محروم جوڑے رابطہ کریں۔
ایک منچلہ طالب علم گویا ہو کہ سر جی!
اگرہمارے پاس سے ہو کر جانے کے با وجود بھی
جوڑے کے گھراولاد نہ ہو ئی تو۔۔۔؟؟ استاد صاحب
نے فرمایا کہ تم نے کونسا ساری عمر یہیں بیٹھے
رہناہے ایک مہینہ یہاں گزارا اور دوسرا مہینہ
کسی دوسری جگہ،اور پھر دیکھنا کہ تم کیسے دنوں
میں امیر بن جا ئو گی۔استاد صاحب نے ہمیں اس
وقت جعلی پیروں فقیروں کے بارے میں بتایا تھا
جب ہم یہ بھی نہ جانتے تھے کہ پیر،فقیر کااصل
کام کیا ہو تا ہی۔
اب جب مو جودہ حکومت پر نظر ڈورائی جا ئے تو
استاد صاحب کے وہ سارے گر نظروں کے سامنے
ہچکولے کھانے لگتے ہیں ۔بس فرق صرف اتنا ہے کہ
یہاں سبھی پیر و فقیر ہیں مگر درجہ بدرجہ
مختلف عہدوں پر براجمان ہیں۔جن میں سے اکثر کا
ایک دن ایک شہر میں بسر ہوتا ہے تو دوسرا دن
دوسرے شہر میں،پہلے جن جن لوگوں سے عہد وپیماں
کیے دوبارا وہاں کا رخ نہ کیا۔جن جن کی دکھتی
رگ پر ہاتھ رکھا اور علاج معالجے کی یقین
دہانی کروائی وہ آج بھی اس مدد کے منتظر
ہیں۔موجو دہ حکومت میں شاید ہی کو ئی ایسا
وزیر و مشیر ہو جس کا مقصد عزت و دولت اکٹھی
کرنا نہ ہو۔عوامی خدمت کے دعوے تو کرتے ہو ں
مگر عملاً برائے نام کے وزیر ہوں۔غربت کے
خاتمے کا بات تو کرتے ہو ں مگر مہنگائی کے
طوفان میں تیزی لانے سے بھی نہ گھبراتے
ہوں۔قوم کی فلاح وبہبود کی بات تو کرت ہوں مگر
اپنی اور اپنے اہل و اعیال کی فلاح وبہبود کے
سوا کچھ نہ سو جھتا ہو ۔دورے کرنے کے شوقین
ہیں اور دل ربا تقریروں سے عوام کے دل جیت
لیتے ہیں مگرعوام کے گھروں کی چار دیواری میں
تنگدستی لانے میں بھی کمال کا ہنررکھتے ہیں ۔
یہی تو وہ سب جعلی پیر وفقیر ہیں جن کا تذکرہ
آج سے چند برس بیشتر ہمارے ایک استاد نے کیا
تھا جن کا ایک دن لاہور میں بسر ہو تا ہے تو
دوسرا دن دوسرا دن کراچی میں، یہا ں تک کہ
بیرون ملک میں بھی کئے کئے روزگزرا کر لیتے
ہیں اور دوسری طرف ہماری امیر زادی عوام ہے کہ
اتنا ٹھاٹھ بھاٹھ ہونے کے با وجود بھی اپنے
ایک چھوٹے سے گھر میں مہینہ بھر چین سے نہیں
گزار سکتی۔
اگر تو عزم نیک ہے اوراپنے بال بچوں کے ساتھ
اپنے گھر میں مہینہ بھر چین سے گزارنے کا
ارادہ مضبوط ہے تو آپ کو ان جعلی پیروں فقیروں
کی مرشدی سے باز رہنا ہو گا۔جس دن آپ نے ان
جعلی پیروں فقیروں کے چنگل سے چھٹکا را حاصل
کر لیا تو سمجھ لیں کہ اس دن سے آپ کا شمار
خوشحال قوموںکی فہرست میں ہونے لگے گا۔اور اگر
عمر بھر انہی جعلی پیروں فقیروں کے سائے تلے
پناہ تلاش کرتے رہے تو ساری عمر تلاش کرنے میں
بیت جا ئے گی اور خوشحالی پھر بھی ہاتھ نہ آئے
گی۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ کو کیا
کرنا ہی۔۔۔۔!
|
| |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|