اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 

Email:-ssbox381@gmail.com
 

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

 

تاریخ اشاعت:۔12-05-2011

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھل

کالم ۔۔۔------------ سمیع اللہ خان

ا
افق گفتگو ۔سمیع اللہ خان۔sbox381@gmail.com
واصف علی واصف کہتے ہیں :’’زندگی وقت کھاتی ہے زمانے نگل جاتی ہے کبھی کبھی صدیاں ہڑپ کر جاتی ہے اور ٹس سے مس نہیں ہوتی اور کبھی کبھی ایک لمحے میں کئی انقلاب برپا کر دیتی ہی‘‘۔ازل سے تاریخ کے صفحات پر عروج و زوال کے قصے ثبت ہوتے آئے ہیں۔کائنات میں بسا اوقات تو بھڑکتے الائو بھی یک لخت سرد پڑ جاتے ہیں اور شاذونادر چنگاری سے جنم لینے والے بھانبڑ بھی آتش فشاں سے بڑھ کر لاوا اگلتے ہیں اور آن کی آن میں بھاری تجوریوں کے حامل پرشکوہ عمارات و محلات کو خس و خاشاک کی طرح جلا کر خاکستر کر دیتے ہیں ۔جواہل نظر کے لیئے عبرت بن جاتے ہیں لیکن لیکن شاید جابر حکمران کو ذوق دید ہی نہیں ملتا کہ سبق حاصل کر سکی۔عبرت جس کا مقدر ہو وہ صدائے حق کو کچلنے میں ہی عافیت سمجھتا ہی۔حق گوئی و بے باکی سے خوف کھاتاہیاور انہیں نیست ونابود کرتے کرتے بالاآخر خود تباہ برباد ہو جاتا ہی۔
چند روز قبل افریقی ملک تیونس میں ایسا ہی ہوا۔ 64 ہزار مربع میل پر محیط تیونس کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ہی۔ تیونس کی تاریخ پر سرسری نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان ؓکے دور خلافت میںمسلمان پہلی بار ابن ابی سارہ کی قیادت میںاس سرزمین تک پہنچی۔ان کا مقصد مقامی آبادی کو بازنطینوں کے مظالم سے نجات دلوانا تھا۔70ء عیسوی میں عقبہ بن نفع کی رہنمائی میں مجاہدین کا لشکر اسلام پھر اس سر زمین تک پہنچا۔اسکے بعد یہ سر زمین سامراج کی قیام گاہ بن گئی ۔951ء میں حبیب بورقیہ نے فرانس کے خلاف صدائے آذادی بلند کی ۔یہ صدا رفتہ رفتہ تیونس کے گوشے گوشے کا نصب العین بن گئی ۔954میں گوریلا جنگ شروع ہوئی جو بالاآخر تیونس کی آزادی و خودمختاری پر منتج ہوئی۔لیکن سامراج سے چھٹکارا حاصل کرنے کے باوجود تیونس کے عوام وہ آزادی نہ دیکھ پائے جس کے وہ منتظر تھے ۔تیونس کے بانی و جدوجہد آذادی کے قائد حبیب بورقیہ نے صدارت سنبھالی ۔959میں تیونس کا آئین بنا۔لیکن شہر آزادی ‘جمہوری نظام ‘آذادانہ اظہار رائے ‘شفاف الکیشن سے لیس آئین کے باوجود حبیب بورقیہ کے زیر تسلط رعایا کو جبری نظام کے آہنی شکنجے نے آدبوچا۔تیونس بھی مثل وطن صدا دیتا رہا۔بقول شاعر
راہزنون سے تو بھاگ نکلا تھا
مجھے رہبروںنے آگھیرا ہی
u1987میں حبیب بورقیہ کے وزیراعظم زین العابدین نے حبیب کی حکومت کا تختہ الٹ کر مسند اقتدا پر قبضہ کر لیا۔اپنے پیش رو کی پیروی کرتے ہوئے زین العابدین بن علی نے کرپشن کا بازار گرم کر دیا۔اگر تیونس کی حالیہ صورتحال کا مختصر جائزہ لیا جائے تو وہ تسلی بخش ہے مگر۔۔اعلی تعلیمی نظام میں تیونس کا 17نمبر ہی۔معاشی ترقی کی شرح نمو پانچ فیصد سے تجاوز کر گئی۔شرح خواندگی اسی فیصد ہی۔باقی ماندہ عرب ممالک کے برعکس تیونس کی پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد بیس فیصد سے زائد ہی۔اور بہت سے ایسے مثبت اعدادوشمار جو ہمارے ہاں دہائیوں سے ناپید ہیں۔تیونس مغربی دنیا کی آنکھ کا تارا تصور کیا جاتا رہا۔کنڈولیزارائس نے تیونس کو عالم اسلام کے لیئے روشن خیال مثال کہا۔لیکن پچھلے چند سالوں میں تیونس کی سرکار کی بے مہار روشن خیالی و اسلام بیزاری نے عوام کو حکومت سے دور کرنا شروع کر دیا۔زین العابدین نے اپنے پیشرو کی مانند کرپشن کا بازار گرم کر دیا۔پڑھے لکھے افراد ڈگریا ں ہاتھ میں تھامے مارے مارے پھرتے رہے لیکن کوئی پرسان حال نہ بنا ۔زین العابدین نے قومی اثاثہ جات کو لوٹ کر اربوں ڈالر غیر ملکی بینکوں میں جمع کروا دیئی۔ایک عرب تجزیہ کارمروان الاسمر کے مطابق زین العابدین کے غیرملکی اثاثہ جات کی مالیت پندرہ ارب ڈالر کے لگ بھگ ہی۔اس خون آشام کرپشن میں زین العابدین کی اہلیہ لیلی طرابلسی جو کہ ان سے بیس بر س چھوٹی ہیں ان کے شانہ بشانہ چلتی رہیں۔لیلی نے چند سالوں میں اپنے نیم خواندہ خاندان کو نہایت عیاری کے ساتھ صدر پر حاوی کر دیا۔اپنی بہن بالحسین اور بھائی عماد کو اہم سرکاری منصب عطاء کروائی۔انھوں نے صدر سے رشتہ داری کو خوب کیش کروایا اور تیونس کے نہتے عوام سے لوٹ کھسوٹ جاری رکھی۔لیلی مختلف حیلوں بہانوں سے پولیس کے ذریعے سرمایہ کاروں کو ہراساں کرتی اور ان سے رقم بٹورتی ۔سرکاری املاک کو کوڑیوں کے بھائو خرید کے بھاری داموں فروخت کر کے اربوں کی مالک بن گئی۔حکمرانوں کی اس بے رحمی پر بھی تیونس کے عوام صابر و شاکر رہی اور حرف شکوہ تک زبان پر نا لائی۔لیکن سترہ دسمبر کو پیش آنے والے سانحہ نے تیونس کے مفلوک الحال بھوک سے بلکتے عوام کے صبر کے پیمانے کو لبریز کر دیا۔یکایک عین اسوقت غلغلہ اٹھا جب سدی بویزیدقصبے کے ایک نوجوان محمد بوعزیز نے چوراہے پر خود سوزی کر لی۔دراصل محمد بو عزیز ایک گرایجویٹ بے روز گار جوان تھا۔اس نے اپنے عزیز و اقارب سے کچھ رقم مستعار لے کر سبزی کا ٹھیلہ لگالیا۔سرکار کے بندوں نے لایئنس فیس ادا نہ کرنے کے جرم میں اس کا واحد ذریعہ معاش ضبط کر لیا جس پر دلبرداشتہ ہو کر محمد بو عزیز نے خود کشی جیسے قبیح فعل کا ارتکاب کیا ۔کیونکہ اب اسکے پاس آتش شکم کو بجھانے کے لیئے کو ئی راہ نہ بچی تھی ۔ جنگل کی آگ کی طرح یہ شنید عام ہو گئی۔اس چنگاری نے تیونس کے عوام کے سر د جذبات کو حرارت دی۔آن کی آن میں اس چنگاری نے وہ بھانبھڑ بھڑکایا جس نے بھاری تجوریوں کو خاکستر کرنا شروع کر دیا۔صدر نے ہمیشہ کی طرح رعایا کی صداکو دبانے کے لیئے طاقت کا استعمال کرنا چاہا۔مگر چیف آف آرمی سٹاف رشید عمار نے عوام پر گولیاں برسانے سے انکار کر دیا۔اسے برطرف کر دیا گیا۔پھر گولیاں برسنا شروع ہوئیں اور برستی چلی گئیں۔ان گولیوں نے بپھرے ہوئے عوام کے زخموں پر نمک چھڑک دیا۔مشتعل عوام نے محل کی جانب پیش قدمی جاری رکھی۔زین العابدین کی لیلی مرکزی بینک سے ڈیڑھ ٹن سونا نکلو کر راہ فرار اختیار کی۔اسکے بعد صدر نے بھی چودہ جنوری کو سعودی عرب رخ کیا۔دنیا میں بنائے انقلاب دو ہی باتیں بنیں ایک دین اور دوسرا افلاس۔انیسویں صدی کی آخری دہائی میں فرانس میں غربت و بے روزگاری سے تنگ عوام کے دامن میں برداشت نامی عنصر ختم ہو گیا۔لیکن رعایا سے بے بہرہ حکمرانوں کو خبر تک نہ ہوئی ۔عوام کے احساسات سے عاری حکمران اپنی پر تعیش زندگی میں ہی مگن رہے ۔فرانس میں جب ایک بچے کو ریستوران میں بم پھینکنے کے جرم میں عدالت میں پیش کیا گیا تو جج کے استفسار پر وہ گویا ہوا’’وہاں لوگ اچھا کھانا کھاتے ہیں جب کے مجھے شکم کی آگ بجھانے کے لیئے میلو ں پیدل چل کر زمین پر پھینکے گئے ٹکڑوں سے استفادہ کرنا پڑتا ہی‘‘۔ جب فرانس کے عوام سڑکوں پر نکل آئے تو عوام جذبات و حالات سے آنکھیں موندیں ملکہ کے حیرت میں مبتلا الفاظ تاریخ کا حصہ بن گئی۔ششدہ ملکہ نے کہا’’اگر عوام کو روٹی نہیں ملتی تو کیک کیوں نہیں کھاتی‘‘۔کچھ اس سے ملتے جلئے الفاظ پاکستان کے عظیم رہنما بننے کے خوہش مند حاکم نے اس لمحے ادا کئے جب اس سے شکوہ کیا گیاکہ دالوں کی قیمتیں فلک کو چھو رہی ہیں تو رعایا کے حقوق سے نابلد اس بشر نے کہا ’’اگر دال نہیں ملتی تو مرغی کیوں نہیں کھاتے ‘‘۔حالات و واقعات اور غربت وافلاس کے آئینے میں ارض پاک کے حالات فرانس سے کافی حد تک مماثلت کرتے ہیں ۔اگر کڑوے کسیلے ماضی پر نظر دوڑائیے تو بے ذوق پالیسوں ‘فلک شگاف نعروں‘دگرگوں معیشت ‘اخلاقی حدوں سے ماورا سیاسی حکمت‘محظ کاغذ پر لکھے تابناک منشوروں‘غریب کش پلاننگ ‘ رجعت پسند بگولوں‘حد نگاہ تک پھیلے مظاہروںاور محکوم خارجہ پالیسی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔بلند و بانگ دعوے جو صحرا میں اٹھنے والے بگولوں کی مانند خود بخود معدوم ہوجاتے ہیں ۔ان بگولوں سے گلستان میں کوئی پھول نہیں کھلتا۔درخت بے ثمر ہی رہتے ہیں۔بقول شاعر
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
ہزار ستم کھا کر اب کچھ بلوغت آئی ہے ۔در حقیقت ہم تماش بیں و ہنگامہ پسند کلچر کے عادی ہو چکے ہیں۔مبادا اس ہی لیئے ہر لمحہ قلم کی جولانیاں و گفتار کے تلاطم سے جمہوریت پر زہر سے بجھے نیزے برسانا ہمارا شعار بن گیا۔اسوقت ارض وطن میں 4کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔کروڑ 90لاکھ فقط ایک کمرے کے گھر میں پناہ گزیں ہیں ۔1فیصد سکولوں میں بنیادی ضروریات کا فقدان ہی۔غربت کی شرح 37فیصد تک جا پہنچی ہی۔اس سب میں ہم برابر کے شریک ہیں ۔ہمہ وقت ووٹ کو کیش کرواتے رہی۔قومی مفاد کو اپنے چند مذموم مقاصد کی خاطر کوڑیوں کے عوض بیچتے رہی۔فقط ماضی کے حکمرانوں کو موردالزام ٹھرانا درست نہیں ۔مگر موجودہ صورتحال کسی بھونچال کی آمد آمد کی غمازی کرتی ہے ۔ہے کوئی دور بیں دیدہ ‘ہے کوئی وقت شناس ؟ہے کوئی معاملہ فہم ؟ہے کوئی درد مند ؟ہے کوئی اہل نظر جو عروج کی زوال کی جانب پیش قدمی کا ادراک کرے ؟اگر نہیں تو ہمارا حال بھی اٹھارویں و انیسویں صدی کے انقلابات کی جانب تیزی سے گامزن ہوجائے گا۔اگر اس ملک کے باسیوں کی صدا رد کردی گئی ‘جن کے نام پر دہائیوں سے ایوان اقتدار میں قبضہ جاری ہے تو اس ارض وطن کو خون آشام شاموں سے کوئی نہیں بچا سکتا۔
 
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved