اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 

Email:-zamshamalik@gmail.com

تاریخ اشاعت:۔13-04-2011

دل کی بیماری مسلمان کو پریشان نہیں کرسکتی
کالم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذوالفقارعلی ملک
دل کا دورہ عموماً انسان کے لئے موت کا ایک ایسا اچانک پیغام بن کر آتا ہے کہ اس کے سنبھلنے سے پہلے ہی فرشتہ اجل اپنا کام دکھا جاتا ہے نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالی سے اچانک موت سے پناہ مانگی ہے غالباً اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہوگی کہ انسان اپنے گناہوں کی بخشش بھی نہیں مانگ سکتا کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو دل کے دورے کو ہرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن اس کا خمیازہ انہیں دو یا تین دفعہ مزید دل کے دوروں کے حملے کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے اور یہ دل اسی وقت جان چھوڑتا ہے جب انسان کو شکست سے دوچار کردیتا ہے ایسا ہی ایک مسئلہ راولپنڈی کے علاقے چوہڑہڑپال کے رہنے والی معروف شخصیت کو پیش آیا جنرل ضیاءالحق کے خلاف کھڑا ہونے کی پاداش میں جب وہ جیل سے سزا کاٹ کر گھر پہنچے اور ورزش کرنے کی کوشش کی تو ہارٹ اٹیک کا شکار ہوگئے فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا جہاں پندرہ روز آئی سی یو وارڈ میں رہنے کے بعد وہ گھر لوٹے دل کے دورے کو وہ شکست دینے میں کامیاب ہوچکے تھے لیکن مزید چیک اپ پر برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز کے ایک پینل نے انہیں دل کا فوری بائی پاس کرانے کا کہا جس کو نہ ماننے کی صورت میں انہیں بتایا گیا کہ وہ کسی بھی وقت دوبارہ دل کے د ورے کا شکار ہوسکتے ہیں اور ہو سکتا ہے اس مرتبہ دل مہلت دینا پسند نہ کرے ڈاکٹرز کی بات سن کر وہ سوچ میں پڑ گئے اور گھر آکر سوچ بچار میں مصروف ہوگئے کہ کیا ہمارے دین میں ایسا کوئی طریقہ ہے جس کے ذریعے ہارٹ اٹیک سے بچا جاسکے دین سے انہیں رغبت تو تھی ہی اور پانچ وقت کے نمازی تھے دوسرے علماءکی صحبت میں بہت زیادہ بیٹھتے تھے جن میں مولانا فضل الرحمان کے والد مفتی محمود ‘مولانا شاہ احمد نورانی وغیرہ شامل تھے اور ان کے ساتھ وہ بیرون ملک دوروں پر بھی رہتے تھے دین اسلام سے اس رغبت کی وجہ سے وہ دل کے دورے کا مقابلہ کرنے کے لئے قرآن پاک کی طرف متوجہ ہوئے جہاں لکھی ایک آیت نے ان کے توجہ اپنی طرف مبذول کروالی آیت کا ترجمہ تھا ” اور دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے “ یہ آیت پڑھنے کے بعد جو پہلا خیال ان کے دماغ میں آیا وہ یہ تھا کہ بیمار دل مطمئن نہیں ہوسکتا جس کا مطلب یہ ہے کہ دل کا علاج ذکر سے کیا جاسکتا ہے جس سے دل مطمئن ہوجائے گا اور بیماری بھاگ جائے گی یہ سوچنے کے بعد انہوں نے مختلف اذکار کرنا شروع کردیئے لیکن نتیجہ ندارد کچھ عرصہ کرنے کے بعد بھی نتیجہ صفر ہی نکلا جس کے بعد ان کا ماتھا ٹھنکا اور انہوں نے اس پر مزید ریسرچ کرنے کا سوچا اور قرآن پاک کی تمام تفاسیر اور احادیث کی کتب منگوا کر ان کا مطالعہ شروع کیا ایک اور آیت جو کہ سورہ جمعہ کی ہے پر جب وہ پہنچے تو ان کے دماغ میں ایک نئی سوچ نے جنم لیا وہ آیت تھی ” اور جب تم اللہ کا ذکر سنو تو اس کی طر ف دوڑو “ یہ آیت جمعہ کی نماز کے وقت کے حوالے سے تھی جس میں نماز کی پکار سن کر تمام کام چھوڑ کر اس کی طرف جانے کی بات کی گئی تھی انھوں نے یہ سوچا کہ اس آیت کے مطابق تو اللہ کا اصل ذکر تو نماز ہے وہ نہیں جو میں تسبیح پر پڑھتا رہا اصل اور مسلمہ حقیقت نماز ہی ہے جس کے بغیر تمام وظائف و اذکار بیکار ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز کے ذکر کو کیا جائے لیکن یہاں ایک سوال اور ان کے دماغ میں پیدا ہوا جو یہ تھا کہ میں تو پانچ وقت کا شروع سے نمازی ہوں اگر اللہ کے ذکر (نماز) میں دلوں کا اطمینان ہے تو دل کی بیماری نماز پڑھنے والے کو نہیں ہونی چاہیئے تو مجھے ہارٹ اٹیک کیوں ہوگیا اس خیال نے ان کے دماغ میں اس ریسرچ کا رخ نماز کی طرف موڑنے کی طرف تحریک دلائی انہوں نے سوچا کہ ضرور ایسی کوئی چیز ہے جو ہم نماز میں چھوڑ جاتے ہیں یا نماز ٹھیک سے ادا نہیں کرتے جس کے باعث ہم ہارٹ اٹیک کا شکار ہوجاتے ہیں قرآن پاک کی تفاسیر اور احادیث کی تمام کتابیں تو ان کے پاس موجود تھیں ہی انہوں نے نماز کے اوپر ریسرچ کرنا شروع کردی جس کے بعد ایک حیرت انگیز انکشاف یہ ہوا کہ ہم آج کل کے زمانے میں جو نماز پڑھ رہے ہیں اس میں اور نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں رونما ہوتی چلی گئی ہیں نبی کریم ﷺ نے جو باتیں نماز میں لازمی جزو قرار دی تھیں ان کو لوگ چھوڑ چکے ہیں اس کے بعد انہوں نے علماءسے رجوع کیا اور اس بارے میں ان سے وضاحت مانگی طریقہ کار پر بات کے بعد علماءنے اس بھی طریقہ نماز کو ہی درست طریقہ قراردیا لیکن اس یہ بات نہیں بتاسکے کے وہ خود اور عام لوگ اس طریقہ نماز کو کیوں چھوڑ چکے ہیں تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ آج کل لوگ نماز کو بہت تیز پڑھتے ہیں اور بس اس خیال سے پڑھتے ہیں کہ یہ فرض ادا کرنا ہے جبکہ نماز کی دیگر چیزیں جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے بتایا ہے ان کے بارے میں توجہ ہی نہیں دی جاتی ہے اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ نماز میں نبی کریم ﷺ نے دو چیزوں کو لازمی جزو قراردیا ہے ایک صبر دوسرا مشقت جبکہ آجکل نماز میں یہ دونوں چیزیں نہیں ہیں صبر سے مراد یہ ہے کہ نماز ٹھہر ٹھہر کر پوری توجہ کے ساتھ پڑھی جائے جو کہ آجکل نہیں ہورہا ہے آپ چاہے کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتے ہوں اس بات کو آزما سکتے ہیں مسجد میں نماز پڑھنے کے دوران آپ نمازیوں کو دیکھیں تقریباً 99فیصد لوگ آپ کو انتہائی سرعت کے ساتھ نماز پڑھتے دکھائی دیں گے قیام ‘رکوع ‘سجدہ سب انتہائی سرعت سے کیا جائے گا جبکہ فائدہ لمبے قیام ‘رکوع اور سجدے میں اور یہ ضروری ہے کہ جب ہم رکوع کچھ لمبا کریں جب رکوع سے کھڑیں ہوں تو کچھ دیر ٹھریں پھر سجدے میں جائیں سجدہ لمبا کریں سجدوں کے درمیان اٹھیں تو کچھ دیر توقف کریں پھر دوسرے سجدے میں جائیں لیکن یہ سب نہیں ہورہا ہے تمام لوگ یہ سب کچھ انتہائی تیزی سے کرتے ہیں اس کی وجوہات کیا ہیں اس کے بارے میں سب سوچ سکتے ہیں اور لمبے قیام ‘رکوع اور سجدے میں ہیں مشقت بھی ہے جب آپ نماز سے صبر اور مشقت نکال دیں گے تو یوں سمجھیں کہ یہ ایسا ہی ہے جیسا آپ کوئی ایسا پھل کھارہے ہوں جس کا سارا رس نکال لیا گیا ہو لیکن یہ بات ہم سب چاہے کسی بھی مسلک سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں بھول چکے ہیں اس بات کو سمجھنے کے بعد انہوں نے نماز کو مشقت اور صبر کے ساتھ پڑھنا شروع کیا اور کچھ امور نماز میں ایسے بھی احادیث کی روشنی میں دریافت کئے جو کرنے سے تمام امراض سے نجات حاصل ہوجاتی ہے ان میں امراض میں دل کا کوئی بھی مسئلہ ‘ شوگر اور بہت ساری دوسری بیماریاں شامل ہیں حیرت انگیز طور پر جب نماز پورے طریقے سے اداکی گئی تو ان کچھ عرصہ بعد جب دل کا معائنہ کروایا گیا تو ڈاکٹروں نے ان کی پہلی رپورٹس دیکھ کر یقین ہی نہیں کیا کہ یہ ان کی رپورٹس تھیں اور ان کے دل کو انتہائی تندرست قراردیدیا اور کہا کہ بائی پاس کی کوئی ضرورت نہیں انھوں نے اس کامیابی کے بعد شوگر کے مریضوں کو اس نماز کی تلقین کرنا شروع کی جس کے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے میں بذات خود ان شوگر کے مریضوں سے ملا جو نماز پڑھنے سے مکمل صحت یا ب ہوئے ہیں جب کہ دیگر امراض کے مریض اس کے علاوہ ہیں شوگر کا یہاں میں نے خصوصی ذکر اس لئے بھی کیا کہ شوگر کو لائف پارٹنر سمجھا جاتا ہے اور یہ بیماری انسان کو قبر تک نہیں چھوڑتی ہے اس ساری تحقیق کو منظر عام پر لاکر لوگوں میں پھیلانے کا سہرا جس شخصیت کے سر پر بندھتا ہے ان کا نام تھا سردار آفتاب احمد جو راولپنڈی میں چوہڑ چوک کے رہائشی تھے گزشتہ ہفتے ان کا انتقال ہوگیا وہ کہتے تھے کہ نماز اس انداز سے ادا کرنے سے آپ کو کوئی بڑی بیماری چھو بھی نہیں سکتی 78سال کی عمر میں انہوں نے وفات پائی اور ان کی صحت اتنی اچھی تھی کہ رشک کیا جاسکتا ہے نماز کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لئے انہوں نے ایک ویب سائٹ بھی بنائی اور کتابچے چھپوا کر بھی لوگوں میں تقسیم کئے اور ان کے بتائے ہوئے طریقے سے کوئی بھی مسلک اختلاف نہیں کرسکتا ہے کیونکہ میں نے خود مختلف مسالک کے لوگوں سے اس پر بحث کی سب نے اسے صحیح قراردیا اور پھر میں نے خود لوگوں کو صحت یاب ہوتے دیکھا حدیث سچی ہے کہ ”نماز مومن کی معراج ہے “ اس موضوع پر بہت گفتگو باقی ہے جو انشاءاللہ اگلے کالم میں آپ کے ساتھ کروں گا ۔
 
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved