|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
 |
|
Telephone:- |
Email:-zamshamalik@gmail.com |
|
تاریخ اشاعت:۔10-04-2011 |
|
اسامہ کی موت سے جڑے حیرت انگیز سوالات |
|
کالم۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذوالفقارعلی ملک |
اسامہ بن لادن کی موت کی خبر پوری دنیا میں
ایک بہت بڑی بریکنگ نیوز کے طور پر ابھری میں
اس صبح اس وقت گھر پر تھا جب مجھے موبائل پر
خبر موصول ہوئی نیوز واچ انٹرنیشنل نیوز نیٹ
ورک کا ایڈیٹر ہونے کے ناطے بریکنگ نیوز سے
میرا بڑا واسطہ رہتا ہے دن اور رات اسی بریکنگ
نیوز کے چکر میں ہی گزر جاتا ہے خبر ملتے ہی
میں نے ناشتے سمیت سارے کام چھوڑے اور خبر کا
پہلا سورس جو کہ امریکی میڈیا تھا کو چیک کرنا
شروع کردیا پتہ چلا کہ جلد ہی امریکن بادشاہ
جناب باراک اوبامہ صاحب ٹیلیویژن پر آکر اسامہ
بن لادن کی موت کو کنفرم کریں گے میں نے فوری
طور پر ایبٹ آباد میں موجود نمائندوں سے رابطہ
کرنا شروع کردیا باراک حسین اوبامہ کے کنفرم
کرنے کے بعد خبر دنیا بھر میں پھیلتی چلی گئی
تحقیقاتی جنرلزم سے وابسطہ ہونے کی وجہ سے میں
دو دن پورے اس پورے واقعے کی جزئیات اور
تفصیلات حاصل کرنے میں جٹا رہا وطن کی محبت ہم
سب پاکستانیوں کے خون میں شامل ہے چاہے برے
ترین حکمرانوں سے واسطہ ہو مہنگائی کے بوجھ
تلے ہم چیخیں مار رہے ہیں لیکن جہاں پر بات
وطن کی آئے ہم سب اپنے غم بھلا کر اس کے لئے
کھڑے ہوجاتے ہیں اور پاکستانی ہونے سے پہلے ہم
مسلمان ہیں غیرت اور حمیت ہمارا ورثہ ہے اس
واقعے نے بطور مسلمان اور پاکستانی مجھے
جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ جب ابتدائی معلومات میں
یہ معلوم ہوا کہ دو امریکی ہیلی کاپٹر
افغانستان سے اڑے اور تمام پاکستانی ریڈارسسٹم
کو جام کرتے ہوئے ایبٹ آباد علاقے میں اتر کر
ایک گھر میں آپریشن کیا جس کے نتیجے میں
القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی موت واقع
ہوگئی دوبدو فائرنگ میں جب امریکی فوجی اسامہ
بن لادن کے سامنے پہنچے تو گھر میں ایک خاتون
سامنے آکھڑی ہوئی جسے گولیوں کا نشانہ
بنادیاگیا ان کی بچی صفیہ بھاگ کر باپ سے لپٹی
تو اسے بندوقوں کے بٹ مارے گئے اور پھر اسامہ
بن لادن کو انتہائی قریب سے سر میں گولی مار
دی گئی یہ کل کہانی سنائی گئی جس میں مختلف
بتانے والوں نے مختلف ردوبدل کئے جس میں ایک
یہ بھی تھا کہ اسامہ کو گولی ان کے محافظ نے
سر اور سینے میں ماریں تاکہ گرفتار نہ ہوسکیں
کیونکہ ان کی وصیت تھی کہ وہ امریکی فوجیوں کے
ہاتھوں زندہ گرفتار نہیں ہوں گے یہاں ایک
دوسری کہانی بھی سامنے آئی افغانستان سے اڑنے
والے دونوں ہیلی کاپٹرز جب ایبٹ آباد میں
نشانہ بننے والے مکان کے اوپر پہنچے تو اندر
اسٹین بم مارے گئے جس سے مکین فوراً بے ہوش
ہوجاتے ہیں اس کے بعد امریکن کمانڈوز اندر
اترے اورموجود افراد کو گولیاں ماریں اسامہ
اور ان کا بیٹے سمیت ایک خاتون اور دوافراد
مارے گئے باقی زخمی تھے فوجیوں کا ایک ہیلی
کاپٹر لینڈنگ میں ناکارہ ہوگیا جسے انہوں نے
بم سے تباہ کیا اور مردہ اسامہ اور ان کے بیٹے
کو لے کر رفو چکر ہوگئے یہ تو تھیں وہ کہانیاں
جو کہ اس آپریشن کے بعد بیان کی گئیں ۔
قارئین اس سارے واقعے کو بہت بغورد یکھنا ہوگا
ہم بطور پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارادفاع
ناقابل شکست ہے پھر امریکی ہیلی کاپٹر راڈار
جام کرکے کیسے پہنچ گئے میں نے اس حوالے سے
دفاعی افراد سے بھی رابطے کئے اور دوسرے
متعلقہ افراد سے بھی اور ان کے سامنے یہ سوال
رکھا جو مجھے تسلی بخش جواب نہیں دے سکے میں
نے یہ بھی پوچھا کہ ایسی کونسی ٹیکنا لوجی ہے
امریکہ کے پاس جس کے ذریعے انہوں نے ہمارے
تمام راڈار جو یقیناً محتلف علاقوں میں لگے
ہوئے ہیں کو جام کردیا اور ان کے جام ہونے کی
ہمیں خبر بھی نہیں ہوئی کیونکہ اچانک راڈار
کام کرنا چھوڑ جاتے ہیں توہمارے دفاعی ٹیکنیکل
سٹاف کو اس کی خبر کیوں نہ ہو پائی اس سوال کا
جواب کسی کے پاس نہیں تھا ۔
لیکن اب جاکر فضائیہ کے چیف نے یہ بات بتائی
ہے کہ ہمارے راڈار سسٹم بھارتی سرحد کے ساتھ
تو دن رات چوکس رہتے ہیں لیکن افغان سرحد کے
ساتھ یہ راڈار ہر وقت کام نہیں کرتے جس کا
فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی ہیلی کاپٹر پاکستان
میں گھسے چیف آف ایئر اسٹاف نے بڑائی کا ثبوت
دیتے ہوئے اسے اپنی غلطی قراردیا ۔
میں نے دوسرا سوال یہ اٹھایا کہ کیا بلیک واٹر
، سی آئی اے یا کسی اور تنظیم کے افراد جو
پاکستان کی سرحدوں کے اندر کام کررہے ہیں
انھوں نے تو ان راڈار کو جام کرنے میں کوئی
کردار ادا نہیں کیا کیونکہ باہر سے راڈار جام
کرنا تکنیکی لحاظ سے بہت مشکل ہے یہ کام اگر
ہوا ہے تو اندر سے ہو سکتا ہے اور اس میں
پاکستان میں پھیلے امریکی ایجنٹ ہی سرانجام دے
سکتے ہیں اور اگر ایسے ایجنٹ موجود ہیں تو یہ
ہماری سلامتی کے لئے انتہائی خطرناک ترین ہے
ہماری دفاعی قیادت کو فوری اس آپشن کو مد نظر
رکھتے ہوئے ان ایجنٹس کو پتہ چلانا چاہیئے ۔
جو معلومات ہمیں حاصل ہوئیں ہیں ان کے لحاظ سے
79امریکی فوجیوں نے اس چالیس منٹ تک جاری رہنے
والے آپریشن میں حصہ لیا جو کہ دو ہیلی کاپٹرز
میں بیٹھ کر آئے تھے کیا اتنی تعداد میں فوجی
دو ہیلی کاپٹرز میں بیٹھ سکتے ہیں اگر دو ہیلی
کاپٹرز میں بیٹھ سکتے ہیں تو واپسی میں تو ان
کے پاس ایک ہیلی کاپٹر تباہ ہونے کے بعد ایک
ہیلی کاپٹر باقی رہ گیا تھا وہ سب 79فوجی ایک
ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر کیسے گئے ۔یہ ایسا
سوال تھا جس کا اب تک مجھے تسلی بخش جواب نہیں
مل سکا ہے ۔
تیسرا سوال جو میں نے کیا و ہ یہ تھا کہ بی بی
سی نے پہلے دن جو سٹوری چلائی وہ یہ تھی کہ
ایبٹ آباد کے اس علاقے میں رات گیارہ بجے فوجی
وردیوں میں ملبوس افراد نے لوگوں کے دروازے
کھٹکھٹائے اور انہیں گھروں سے نکلنے سے منع
کیا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر رات گیارہ
بجے لوگوں کو گھروں سے باہر آنے سے روکنے والے
وہ لوگ کون تھے اور اگر ایسا ہوا تو اس کا
مطلب کہ اس آپریشن سے قبل زمین پر مکمل تیاری
کرلی گئی تھی یہ سب کرنے والے کون تھے اس کا
جواب بھی ابھی تک تشنہ ہے ۔
چوتھا سوال چینوک ہیلی کاپٹر جن کے ذریعے یہ
آپریشن کیا گیا ان میں اتنا پٹرول نہیں ہوتا
کہ وہ افغانستان سے پاکستان آئیں اور مکمل
آپریشن کرکے واپس چلے جائیں تو یہ کیسے ممکن
ہوا کہ ہیلی کاپٹر اتنی طویل پرواز کے ذریعے
آئے اور بغیر پاکستانی سرزمین سے پٹرول حاصل
کئے واپس لوٹ گئے ۔
پانچواں سوال اسامہ بن لادن چھاپے کے بعد
امریکی کمانڈوز کی گرفت میں تھے اس بات کا کیا
ثبوت ہے کہ انہیں مارڈالا گیا کیونکہ ان کی
موت کی نہ تو تصاویر جاری ہوئیں نہ انھیں
سمندر برد کرنے کی اس بات کا قوی امکان موجود
ہے کہ اسامہ بن لادن کو زندہ ہی لے جایاگیا ہو
امریکہ میں بے شمار جدید لیبارٹریز ہیں جہاں
اسامہ کو رکھ کر ان کے دماغ سے القاعدہ کے
بارے میں ہر طرح کی معلومات حاصل کی جاسکتی
ہیں کیونکہ اگر امریکی اسامہ کی موت کی بجائے
اس کی گرفتاری کو ظاہر کرتے تو ان کا پورا
ٹرائل میڈیا کی نظروں کے سامنے ہوتا اور اس
میں نائن الیون کے حوالے سے بہت سارے انکشافات
کھل کر سامنے آجاتے جو یقیناً امریکہ کے لئے
اچھے نہ ہوتے اس بات کے بارے میں تو خود
امریکی محکمے یہ بات کہہ رہے ہیں کہ نائن
الیون کے حادثے میں القاعدہ کے ملوث ہونے کے
کوئی بھی ثبوت نہیں ہیں ۔ اسامہ کی گرفتاری کے
بعد خود اسامہ بھی یہ ثابت نہیں کرسکتے تھے کہ
نائن الیون کے واقعات میں وہ ملوث تھے ان کے
بیانات نے دنیا میں تہلکہ مچادینا تھا ۔یہ وہ
سوالات ہیں جن کے جوابات ہر پاکستانی جاننا
چاہتا ہے کیونکہ یہ کوئی
چھوٹا واقعہ نہیں ہے بہت بڑا واقعہ ہے کیونکہ
ہمارے ملک کی سرحدوں کی کوئی بھی خلاف ورزی
کرے گا اس کی خلا ف ورزی ہماری غیرت کو
للکارنے کے مترادف ہوگی |
| |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|