اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 

Email:-zamshamalik@gmail.com

تاریخ اشاعت:۔23-05-2011

پولیس اہلکاروں کا ظلم
کالم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذوالفقارعلی ملک
آپ اندازہ لگاسکتے ہیں اگر آپ کی بہن ‘ بیوی یا بیٹی آپ کے ساتھ ہو اور وہ حاملہ ہو اس کی حالت اچانک بگڑ جائے اور آپ اسے لے کر ہسپتال کی طرف چل پڑیں آپ کے ساتھ آپ کا دوسرا بھائی بھی ہو اس کی بیوی اور ایک بیٹی بھی راستے میں پولیس چوکی پر آپ کو روک لیا جائے اور آپ سے آگے جانے کے لئے پیسوں کا مطالبہ کیا جائے آپ انھیں پیسے دے کر آگے بڑھیں اگلی چوکی پر پھر آپ کو روک لیا جائے اور پیسے طلب کئے جائیں آپ رہی سہی رقم اس کے حوالے کردیں وہاں سے آگے بڑھیں تو ہسپتال پہنچنے سے قبل ہیں ایک تیسری چوکی پر آپ کو روک لیا جائے اور ایک مرتبہ پھر پیسے مانگے جائیں آپ کے پاس دینے کو کچھ نہ ہو آپ پہلے انکار کریں ان کے دھمکانے اور آپ اور آپ کے گھر والوں کو گاڑی سے نکال کر رسیوں سے باندھ دیا جائے اور پھر پیسوں کا مطالبہ کیا جائے آپ ان کے منتیں ترلے کریں اور بتائیں کہ آپ کے ساتھ موجود آپ کی بیوی ‘ بیٹی یا بہن جو بھی ہے اس کی حالت خراب ہے وہ حاملہ ہے اور اس کی زچگی کے آخری دن چل رہے ہیں وہ آپ کو بہت دیر بٹھانے کے بعد آپ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہی جانے دیں آپ اس پر اللہ کا شکر اداکریں ہاتھ کھول کر آپ اپنے ساتھ عورتوں کو رکنے کا کہیں اور اللہ کے حضور شکر اداکرنے اور فرض کی ادائیگی کے لئے مسجد میں چلے جائیں نماز پڑھ کر واپس آئیں تو وہ پولیس اہلکار پھر آپ کے سر پر کھڑے ہوجائیں اور پیسوں کا مطالبہ شروع کردیں آپ ان کی منتیں کریں لیکن وہ بضد رہیں کہ پیسے دوگے تو جائوگے آپ سے اپنے ساتھ موجود بیٹی ‘ بیوی یا بہن کی حالت دیکھی نہ جائے اور آپ تنگ بھی آجائیں آپ کے دماغ میں خیال آئے کہ مدد کے لئے ایف سی کی چوکی کی طرف جایاجائے شاید وہ ان پولیس والوں سے پیچھا چھڑوادیں یہ سوچ کر آپ ایف سی کی چوکی کی طرف جانے کی کوشش کریں جس پر پولیس اہلکار آپ کو روکنے کی کوشش کریں لیکن آپ نہ رکیں اور ایف سی کی چوکی کے پاس پہنچ جائیں اور پھر وہ پولیس اہلکار یہ شور مچادیں کہ پکڑو پکڑو دہشت گرد ایف سی کی چوکی پر خودکش حملہ کرنے جارہے ہیں یہ سنتے ہی ایف سی کے اہلکار باہر آجائیں اور دونوں اطراف سے آپ پر فائرنگ کردی جائے سوچیں جب وہ گولیاں آپ کے جسم میں پیوست ہورہی ہوں گی آپ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی حاملہ بہن‘بیٹی یا بیوی کو گولیاں کھا کر گرتے دیکھیں گے جب آپ کا بھائی آپ کے سامنے خون میں لت پت تڑپ رہا ہوگا دوسری بہن کی چیخیں آپ کے کانوں میں گونج رہی ہوں گی اور آپ کے ساتھ آئی معصوم بچی تڑپ کر گری ہوگی تو آپ پر کیا گزری ہوگی اور جب آپ کے ساتھ موجود عورتیں گولیاں کھا کر تڑپ رہی ہوں وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر دہائی دے رہی ہوں اور رحم کی اپیل کررہی ہوں تو آپ پر کیا گزررہی ہوگی اور آپ مرتے ہوئے کیا اپنی زندگی سے مطمئن ہوں گے آپ کی سوچیں کیا ہوں گی ۔
یہ سب جو میں نے آپ سے بیان کیا یہ کوئی فرضی واقعہ یا کہانی نہیں نہ ہی میں آپ کے دماغوں میں کوئی سنسنی خیزی کے لئے سکرپٹ ڈال رہا ہوں یہ کوئٹہ میں پیش آنے والا ایک سچا واقعہ ہے جو وہاں موجود ایک چیچن خاندان کے ساتھ پیش آیا پولیس اور ایف سی والوں نے بتایا کہ ان افراد کے پاس خودکش جیکٹ اور دستی بم تھے جس سے انھوں نے حملہ کیا صحافیوں کے موقع پر پہنچنے اور سوالات کے جوابات نہ ایف سی والے دے سکے نہ پولیس والے وزیراعلی بلوچستان نے تحقیقات کا حکم دیا واقعہ کا اور اب اس پر ایک کمیٹی بھی بن چکی ہے لیکن ایسی کئیں کمیٹیاں بنیں آج تک میں نے نہیں دیکھا کہ کسی بھی کمیٹی کی رپورٹ پر کارروائی ہوئی ہو اور مجرموں کو سزا ملی ہو تو اب یہ کمیٹی بھی سہی ’’دل کے بہلانے کو غالب خیال اچھا ہے ‘‘ ۔
پاکستان میں جب تک انصاف کا بول بالا نہیں ہوگا ایسے سانحے رونما ہوتے رہیں گے اور یہ واقعات آج کل بلوچستان میں بہت ساری جگہوں پر ہورہے ہیں یہ تو ایک واقعہ تھا جو نظر میں آگیا بہت سارے ایسے ہیں جو سامنے نہیں آتے بلوچستان میں ایسی کئیں چوکیاں ہیں جن پر موجود اہلکار کئی کئی سالوں سے تعینات ہیں اور ان کی کمائی لاکھوں روپے ہے اور اکٹھے کئے گئے پیسے اوپر تک پولیس افسران کو جاتے ہیں ایسا صرف بلوچستان میں ہی نہیں ہورہا ہے ملک کے متعدد دوسرے علاقوں میں بھی جاری ہے دہشت گردی نے پہلے ہی پاکستان کے شہریوں کی کمر توڑ رکھی ہے بہت ساری عورتوں کے سہاگ اجڑگئے بچے یتیم ہوگئے بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو معذور پڑے ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیںہے اور آپ کو بتائوں ہر دھماکے کے بعد متعلقہ صوبے کا وزیراعلی ایک ایسا بیان دیتا ہے کہ جسے سن کر میری ہنسی چھوٹ جاتی ہے اگرچہ یہ کہنا مناسب نہیں کہ ایسے دلدوزواقعات کے بعد کسی کی ہنسی چھوٹ جائے لیکن ان کے اس بیان پر یا تو رونا آئے گا یا ہنسی کیونکہ یہ بیان ضرورداغا جاتا ہے اور صرف وزیراعلی ہی نہیں وزیراعظم اور صدر بھی یہی بیان دیتے ہیں وہ بیان ہے یہ ہے کہ ’’ہم ڈرنے والے نہیں دہشتگرد ہمارے ارادوں کو کمزور نہیں کرسکتی‘‘ اب آپ سوچیں مر بچار ے غریب گئے دھماکے کا سامنا عام شہریوں نے کیا وزراء ‘وزیراعظم وغیرہ تو انتہائی سکیورٹی میں آئے اگر ڈرنے والے نہیں آپ تو سکیورٹی میں کیوں آئے اور کون سے ارادے ہیں جن کو دہشتگرد کمزور نہیں کرسکتے ظالموں ان سے پوچھو جن کا کوئی مرگیا یا زندگی بھر کے لئے اپاہج ہوگیا کہ وہ کتنے کمزور ہوگئے ڈرتے اور کمزور وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی آواز الیکٹرانک اور پریس میڈیا تک نہیں پہنچ سکتی ان کے دکھو ں کامداوا نہیں کیاجاسکتا مائوں بہنوں اور بیٹیوں کی آہ وزاری سسکیوں اور آہوں کو اگر پارلیمنٹ تک کسی آلہ یا پیمانے کے ذریعے پہنچایاجاسکتا تو میرا ایمان ہے کہ 1999ء کے بعد جتنے بے گنا ہ معصوم لوگوں کو جان بوجھ کر قتل کیا گیا یا رشوت نہ دینے کی پاداش میں انہیں دہشت گرد اور انتہا پسند بنا کر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا تو پارلیمنٹ میں بیٹھے ہر شخص کا نہ صرف سینہ پھٹ جائے گا بلکہ اگر اس دکھ او ر کرب کو پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام میں تقسیم کربھی دیاجائے تو بھی ان دکھوں کا مداوا نہیں کیاجاسکتا کیونکہ جن گھروں کے چراغ گل ہوتے ہیں اور وہ ناکوں اور چوکیوں پر جس طرح پولیس اہلکاروں یا دیگر اداروں کے اہکاران کے ظلم وستم کا نشانہ بنتے ہیں اسے بیان نہیں کیاجاسکتاکیا اس ملک میں کبھی انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آئے گا اسلام تو یہ کہتا ہے کہ اگر کسی کو تھپڑ گھونسہ یا پھر قتل کردیاجاتا ہے تو شرعی لحاظ سے اس کا اسی طرح سے جواب دیا جائے گا کیا ان پولیس اہلکاروں یا ایف سی کے اہکاروں کا جنہوں نے سفاکانہ انداز میں فائرنگ کرکے ایک مسجد کے سامنے قائم چوکی پر ان معصوم لوگوں کا قتل عام کیا ان کا احتساب ہوسکے گا اور ان پر بھی اسلامی نقطہ نظر سے اسی طرح گولیاں برسائی جائیں گی ہم مسلمان ضرور ہیں مگر صرف نام کے ہم نماز پڑھتے ہیں مگر اللہ اور اس کے رسول کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کے دکھانے کے لئے ہماری نمازوں اور اذانوں میں وہ اثر کیوں نہیں رہا جو مومن کے دل پر اثر کرسکے اذانوں اور نمازوں نے دل پر اثر کی بجائے ہمیں ایک ایسی مجسمہ قوم بنادیا ہے جو صرف ٹی وی چینل آن کرتی ہے اور دہشتگردی اور انتہاپسندی کے حوالے سے کوئی خودکش بم دھماکہ ‘تخریب کاری مائوں بہنوں کی عصمت دری یا پھر یہآں پر پیش آنے والے واقعے پر ردعمل کرنے کی بجائے ہم صرف ایک خبر کے طور پر واقعے کو لیتے ہیں یہ قوم کب بیدار ہوگی کیا اس ملک میں انقلاب کی کوئی وجہ بنے گی یا پھر نسل درنسل حکمرانی کا طرز عمل جاری رہے گا میرے ذہن میں بہت سارے سوالات جنم لے رہے ہیں کیا پاکستان قوم 1947ء کی طرح بیدارہوسکتی ہے کیا ہم مہذب قوم نہیں بن سکتے شام مصر اور تیونس کی طرح اپنا حق لینے کے لئے انتہائی شائستہ انداز میں احتجاج بھی نہیں کرسکتا احتجاج جو زندہ قوموں کا حق ہوتا ہے وہ بھی پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کے مردہ ضمیروں کو بیدار نہیں کرسکتا ہم اتنے مردہ ضمیر ہوگئے ہیں کہ اگر ایک حاملہ عورت جو ماں بننے والی تھی
اس کے پیٹ کے اندر ایک نئی نسل جنم لے رہی تھی کو انتہائی سفاکانہ انداز میں قتل کردیاگیا ۔دیکھیں جواب کب آئے گا
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved