|
امریکہ کو اگر
افغانستان کی اسلامی حکومت پسند نہیں تھی تو
یہ امریکہ اور افغانستان کا معاملہ تھا۔ ہوس
اقتدار میں ڈوبے مشرف کو کیا پڑی تھی کہ وہ
امریکہ کا ساتھ دینے کے لیے ملکی سلامتی کا
سودا کرتا اور پاکستان کا وجود داﺅ پر لگاتا؟
شرعی ضابطہ تو یہ تھا کہ پڑوسی اسلامی ملک پر
ِحملہ کرنے والی کفریہ طاقتوں کا مقابلہ کرنے
کے لیے اپنے پڑوسی ملک سے اتحاد و یگانگت کی
فضاءکو فروغ دیا جاتا مگر اگر اتنی جرا ¿ت،
غیرت اور اسلامی حمیت نہیں تھی تو امریکہ اور
دیگر کفریہ قوتوں کا ساتھ دینے کی کیا ضرورت
تھی؟ اس وقت کے ممتاز عالم دین مولانا محمد
اعظم طارق شہیدؒجو کہ جھنگ کے حلقہ
NA-89
سے قومی
اسمبلی کے
MNA
بھی تھے
اور پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی جماعت کے
مرکزی صدر بھی، نے خان پور کے ایک دینی مدرسہ
کے سالانہ پروگرام کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے
فرمایا تھا کہ اگر افغانستان کی اسلامی حکومت
کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیا گیا تو پاکستان
میں خانہ جنگی و دہشت گردی کو فروغ ملے گا،
یہاں بھائی بھائی کا گلا کاٹے گا۔ قلندر ہر چہ
گوید دیدہ گوید۔مگر ڈالروں کی ہوس اور اقتدار
کی لالچ نے مشرف جیسے بے ضمیر انسان کی آنکھوں
پر جبر و استبداد کی سیاہ پٹی باندھ دی، اس کی
عقل غائب ہوگئی اور دماغ ماﺅف ہوگیا۔ نتیجتاً
اس نے پاکستان کی سا لمیت کا سودا کر لیا۔ اور
پھر پاکستان سے ایندھن لے کر اڑنے والے امریکی
جہازوں نے امارت اسلامیہ افغانستان پر آگ و
بارود کی بارش کرنا شروع کر دی۔ اور آج وہ وقت
بھی آگیا کہ پاکستان سے ہی ایندھن لے کر اڑنے
والے جہاز اب پاکستان میں ہی جہاںامریکہ چاہے،
بمباری کرکے کئی بے گناہ مسلمانوں کو شہید کر
رہے ہیں۔
میں یہاں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا اپنے
موضوع پر آنے سے پہلے کچھ باتیں تمہیداً عرض
کرنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ شب پاکستان کے صوبائی
دارالحکومت کراچی میں واقع پاکستانی بحریہ کی
انتہائی اہم اور حساس عمارت میں جدید ترین
ہتھیاروں سے لیس کچھ دہشت گرد داخل ہوئے اور
کئی لوگوں کو موت کی نیند سلانے کے ساتھ ساتھ
پاکستانی بحریہ کی تحویل میں دیے گئے دو
انتہائی قیمتی طیاروں کو تباہ کر گئے۔ اس
واقعہ پر پوری قوم جہاں افسردہ ہے وہاں قوم
فوجی عمارتوں پر آئے روز ہونے والے حملوں پر
بھی حیرت زدہ ہے کہ اگر اتنی سیکورٹی کے
باوجود بھی ایک چھوٹی سی عمارت کی حفاظت مشکل
ہے تو پورے ملک کی حفاظت کیسے ممکن ہو سکے گی؟
آمدم بر سر مطلب اس افسوس ناک واقعہ پر آج
یعنی 23 مئی، 2011 کو دوپہر تقریباً اڑھائی
بجے کے قریب
Waqt News
Channel
پر سابق چیف آف
آرمی سٹاف مرزا اسلم بیگ سے فون کال پر تبصرہ
لیا جا رہا تھا۔ اس تبصرہ کے دوران مرزا اسلم
بیگ نے زہر افشانی کرتے ہوئے ایک دفعہ پھر
تحفظ ناموس صحابہ کے مقصد پر گامزن جماعت
”سپاہ صحابہ“ کو مشق ستم کا نشانہ بنایا اور
اس جماعت کو دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث
کہا۔
آگ اور خون کے امریکی تماشہ میں پاکستان کو کس
نے دھکیلا؟ افغانستان کے خلاف امریکہ سمیت
کفریہ اتحادی طاقتوں کا ساتھ دینے سے پہلے کیا
پاکستان کی سیکورٹی فورسز، فوجی و سرکاری
عمارات اور اہم سرکاری شخصیات کو نشانہ بنایا
جاتا تھا؟ کیا اس سے پہلے پاکستان میں کبھی
بھی کہیں بھی کوئی ایک بھی خود کش حملہ ہوا؟
مرزااسلم بیگ کو یہ بات ذہن نشین کر لینی
چاہیے کہ توتا رٹُّو بننے سے بہتر ہے کہ حالات
و واقعات کا بغور جائزہ لیں اور مشرف زدہ
پالیسیوں کے ثمرات کے طور پر پیدا ہونے والے
حالات کو سپاہ صحابہ پر مت چسپاں کریں۔ سپاہ
صحابہ کے قیام کے پس پردہ عوامل پر غور کریں
اور اس کے بعد اس سلسلہ میں کوئی گوہر افشانی
کریں۔ کیا مرزا اسلم بیگ کو پاکستان میں صحابہ
کرامؓ کی توہین کرنے والے شیعہ نظر نہیں آتے؟
کیا ایک سال قبل پنجاب اور سندھ کے 23 مقامات
پر جلیل القدر صحابہ کرامؓ کے پتلے سپاہ صحابہ
نے نذر آتش کیے؟ کیا سعودی سفارت کار کو سپاہ
صحابہ نے قتل کیا؟ کیا کراچی میں پاکستان کے
دیرینہ دوست ملک سعودی عرب کے خلاف وال چاکنگ
اور بینر سپاہ صحابہ نے لگائے؟ کیا 1985ءمیں
ایرانی سرحد سے سپاہ صحابہ والے بلوچستان آئے
تھے جنہوں نے پاکستانی سیکورٹی اداروں کے
افراد کو قتل کر کے ان کے سر کاٹ کر فٹ بال کی
طرح ان پر ٹھوکریں ماریں ؟ کیا یہ لوگ سپاہ
صحابہ سے متعلقہ تھے جنہوں نے اسی دوران ایک
گرلز ہوسٹل میں رہائش پذیر مسلمان طالبات کی
آبرو ریزی کی اور ان کے پستان تک کاٹ ڈالے؟
کتنے شرم کی بات ہے کہ مرزا اسلم بیگ ایک عرصہ
تک انتہائی اہم عہدہ پر فائز رہنے کے باوجود
بھی حقائق سے بے خبر و بے بہرہ ہیں۔
کیا مرزا اسلم بیگ اس وقت سوئے ہوئے تھے جب وہ
چیف آف آرمی سٹاف تھے؟ کیا اس وقت سپا ہ صحابہ
کا وجود نہیں تھا؟ مرزا اسلم بیگ نے اگر کوئی
تیر چلانا تھا تو اس وقت چلا لیتے اب کیوں
دریدہ دہنی کررہے ہیں؟ سپاہ صحابہ پر تبصرہ کر
لینا آسان ہے، فرقہ واریت کا طعنہ دینا مشکل
نہیں مگر مرزا اسلم بیگ اور ان جیسے پراگندہ
ذہن لوگوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ سپاہ
صحابہ ایک رد عمل کا نام ہے جو کہ پاکستان میں
ہونے والی توہین صحابہ کے نتیجہ میں قیام عمل
میں آئی۔ میں حیرت زدہ رہ جاتا ہوں کہ اتنے
بڑے بڑے عہدوں پر ایک عرصہ تک رہنے والے لوگ
ریٹائرمنٹ کے بعد عقل و خرد سے بھی کیوں
ریٹائر ہو جاتے ہیں؟ عالمی حالات پر نظر رکھنے
والوں کو پاکستان کے اندر محض امریکی اور
بھارتی مداخلت ہی کیوں نظر آتی ہے انہیں
پاکستان میں خصوصاً کراچی اور بلوچستان میں
ایرانی ایماءپر شیعہ کی شرارتیں کیوں نہیں نظر
آتیں؟ ان عقل کے کوروں کو اتنا بھی نہیں علم
کہ 28ستمبر، 1991 کو اس وقت کے وزیراعظم نواز
شریف نے گورنر ہاﺅس، لاہور میں ایک اجلاس
بلایا تھا جس میں تمام سنی جماعتوں کے علماءکے
علاوہ اہل تشیع کے راہ نما بھی موجود تھے۔ ان
400 کے قریب مسلمان علماءاور شیعہ راہ نماﺅں
کی موجودگی میں اس وقت سپاہ صحابہ کے سرپرست
اعلیٰ، علامہ ضیاءالرحمن فاروقی شہیدؒ نے
پاکستانی و ایرانی شیعہ زعماءکی تحریر کردہ
اور پاکستان و ایران میں شائع شدہ کفریہ
عبارات سے لبریز سینکڑوں کتابیں نواز شریف کو
پیش کی تھیں۔
لہٰذا گزارش یہ ہے کہ بہتر اور مناسب انداز یہ
ہے کہ کسی کے متعلق بھی کوئی بھی
Remark
دینے سے
پہلے اچھی طرح اپنی رائے کی تحقیق کرلی جائے۔
زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر کوئی تبصرہ کرنا
عقل و دانش کی علامت ہے۔ اگر پاکستان کی بڑی
بڑی سیاسی جماعتوں کے اراکین الیکشن میں تعاون
کے لیے سپاہ صحابہ کے راہ نماﺅں سے ملاقات کر
سکتے ہیں تو حقائق کی تلاش میں سپاہ صحابہ کی
قیادت سے آپ کی ملاقات سے کوئی آسمان نہیں
ٹوٹے گا۔
نوٹ: گاہے بگاہے پاکستان کے وزیر داخلہ رحمن
ملک بھی سپا ہ صحابہ کے خلاف زہر اگلتے رہتے
ہیں۔ مگر میں کسی ذہنی مریض کے رٹے رٹائے
بیانات کو اہمیت دے کر یا ان پر کوئی تبصرہ کر
کے اپنا اور معززقارئین کا قیمتی وقت نہیں
ضائع کرنا چاہتا۔ |